بلوچستان میں عام انتخابات 2018ء میں بلوچستان عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ15 نشستیں حاصل کرکے اول نمبر پر رہی۔ متحدہ مجلس عمل8کے ساتھ دوسری جبکہ بی این پی مینگل 7نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہی۔
بلوچستان میں عام انتخابات 2018ء میں بلوچستان عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ15 نشستیں حاصل کرکے اول نمبر پر رہی۔ متحدہ مجلس عمل8کے ساتھ دوسری جبکہ بی این پی مینگل 7نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہی۔
عام انتخابات کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی ایک مضبوط پوزیشن میں آگئی ہے جو مرکز میں مخلوط حکومت بناسکتی ہے۔ متوقع وزیراعظم اورپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا حالیہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر کہنا تھا کہ جن جن حلقوں کے بارے میں الزامات لگائے جائیں گے ہم تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔
عام انتخابات کے روز کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس تعمیر نوکمپلیکس کے قریب پولنگ اسٹیشن پر اس وقت دہشت گرد نے خود کش حملہ کیا جب لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کررہے تھے، دھماکے کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 70 زخمی ہوئے، جاں بحق افراد میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں 4400 پولنگ اسٹیشن میں سے 3500 پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے ، حساس پولنگ اسٹیشنوں پر 1700 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ صوبہ بھر میں 60 ہزار سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشن پر اپنے فرائض سرانجام دینگے۔
عام انتخابات کی تیاریاں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں زورو شور سے جاری رہیں، تینوں صوبوں میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن ، متحدہ مجلس عمل جو مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے کی جانب سے بڑے بڑے جلسے جلوس ، ریلیاں، کارنرمیٹنگز کا انعقاد کیا گیا اور عوام کی بڑی تعدادبھی اس میں شریک رہی مگر بلوچستان میں انتخابی مہم انتہائی سرد مہری کا شکار رہی۔
کوئٹہ کا حلقہ این اے 265شہر کے وسطی علاقوں پر مشتمل ہے، یہ حلقہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پی بی 27،پی بی 28، پی بی 29 جبکہ این اے 265 میں مری آباد،علمدار روڈ،پشتون آباد، کینٹ، جان محمد روڈ، سیٹلائیٹ ٹاؤن، شہباز ٹاؤن، وحدت کالونی بروری روڈ، ڈبل روڈ، ریلوے کالونی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
تربت سمیت مکران بھرمیں بجلی کے تعطل کو تین ہفتے گزر گئے، ڈپٹی کمشنر کیچ کی جانب سے ممکنہ درستگی کی تاریخ بھی گز رگئی مگر ایران سے بجلی کی بحالی ممکن نہ ہوسکی۔ جیکی گور گریڈ اسٹیشن سے مکران کو سپلائی کی جانے والی بجلی گزشتہ تین ہفتوں سے ایران نے بند کردیا ہے۔
سانحہ مستونگ کے بعد اگرچہ انتخابات میں عوامی سطح پر وہ گہما گہمی نظر نہیں آرہی لیکن سیاسی جماعتیں اس جمود کو توڑنے میں لگی ہوئی ہیں ۔انتخابی ماحول کچھ یوں بن رہا ہے کہ ایک جانب سیاسی جماعتوں کے حق میں آزاد امیدوار دستبردار ہورہے ہیں تو دوسری جانب سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
میڈ یا کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ حاصل ہے جو اس وجہ سے ہے کہ یہ عوام کے مسائل کو حقائق کے ساتھ ،تحقیق کے بعد مکمل طور پر غیر جانبدارہوکراجاگر کرتا ہے اور ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتا ہے مگربدقسمتی سے گزشتہ کئی عرصوں سے روایتی میڈیا نے جس طرح کارویہ اپنایا ہے اس پرسے جہاں عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے وہیں حقیقی سیاستدان بھی میڈیا کی جانبداری سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔
ملک بھر میں عام انتخابات کی تمام تر تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی تمام تر انتظامات کرلئے گئے ہیں مگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس طرح کی گہما گہمی دکھائی نہیں دے رہی ، خاص کر بلوچستان میں سانحہ مستونگ کے بعد سیاسی جماعتوں نے ا پنا اپناانتخابی مہم محدود کر دیا ہے۔