گزشتہ روز نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹ اور کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ہمیں تمام شہداء کو ایک آنکھ سے دیکھنا چاہئے ، بلوچستان کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے یہاں کے صحافیوں نے جان کی پرواہ کئے بغیر جام شہادت نوش کی جنہیں کبھی نہیں بھلایاجاسکتا۔
ملک میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں پیر کو قومی اسمبلی کے علاوہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نومنتخب ارکان پارلیمان نے حلف اٹھایا ۔
2000ء کے دوران بلوچستان کے حالات کروٹ بدل رہے تھے ۔ 2002ء میں جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے انتخابات کرائے ،ق لیگ کی حکومت بنی ، بلوچستان میں سیاسی صف بندی کا آغاز ہوا، پرویزمشرف نے حسب روایت بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر معافی مانگی اور بلوچستان کی ترقی کے سنہرے خواب یہاں کے عوام کو دکھائے مگر بلوچستان کی بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے ساحل وسائل پر حق حاکمیت کا مطالبہ کیا۔
ملک میں دھاندلی کے خلاف سب سے زیادہ احتجاج 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج کے خلاف پی ٹی آئی نے کیا، پی ٹی آئی نے ریکارڈ دھرنے دیئے ، اسلام آباد کو مکمل بند کردیا گیا ۔
میر غوث بزنجو کو وفات پائے تقریباً 21 سال ہونے کو ہیں مگر ان کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں سیاست پر ان کی چھاپ آج بھی واضح ہے۔ ریاست قلات کی سیاست کے بعد وہ بلوچستان میں جدید سیاست کے بانی ہیں۔
نڈر،بیباک ،دوٹوک مؤقف رکھنے والے، کسی بھی مصلحت پسندی سے بالاترشخصیت لالہ صدیق بلوچ سے کون واقف نہیں۔ان کی ذات گرامی، ہر دلعزیز شخصیت اور اپنے کام سے لگن کی بنیاد پر ان کے نام سے ملک کے سیاسی،صحافتی اور دیگرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بخوبی آگاہ ہیں۔
پاکستان میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا اورپارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ۔
8 اگست 2016ء کو بلوچستان بار کونسل کے صدر ایڈووکیٹ بلال کانسی جب گھر سے نکلے تو منو جان روڈ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے انہیں شہید کردیا جسے فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ لایاگیا ۔
بلوچستان کی سیاست میں شخصیات کی اہمیت اور اثر ہمیشہ رہا ہے جس کی ایک وجہ قبائلی معاشرہ ہے مگر اسی کو بنیاد بناکر نہیں کہاجاسکتا کہ قبائلی معاشرے کی وجہ سے یہاں پارلیمان مضبوط نہیں رہا جس کی ایک جھلک ہمیں 72ء کی دہائی اور اس سے قبل انگریزوں کے خلاف ایک طویل جدوجہد کے طور پر ملتی ہے کہ یہاں کے قبائلی وسیاسی شخصیات نے سرزمین کی بقاء سلامتی اور عوام کیلئے قربانیاں دیں اور ایک پختہ نظریہ کے ساتھ اپنی سیاست کو جاری رکھا۔