بلوچستان کے مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ و مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر و چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ زبردستی اقتدار سے چمٹے رہنامیرا شیوہ نہیں، مجھے طاقت اور اقتدار اسمبلی نے دی ہے، مجھے محسوس ہورہاہے کہ کافی تعداد میں اسمبلی کے اراکین میری قیادت سے مطمئن نہیں ہیں اس لئے میں ان پر زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتا ،اقتدار آنی جانی چیز ہے ۔
وزیر اعظم شاہد خان عباسی نے امریکہ کی جانب سے سکیورٹی تعاون کی مد میں پاکستان کی دو ارب ڈالر تک امداد روکنے کی رپورٹس پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ نے سول اور ملٹری امداد کے نام پر اب تک جو رقم دی وہ نہ ہونے کے برابر تھی ٗامریکی صدر کے الزامات گمراہ کن ہیں ٗ دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ اپنے وسائل سے لڑ رہے ہیں ٗ اس پر عالمی برادری کو ہمیں سراہنا چاہیے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی امداد کی معطلی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی، پاکستان کبھی بھی پیسے کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے لڑا ہے، سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے رہیں گے۔
امریکہ کی پاکستان مخالف ہرزہ سرائی کے بعد پاکستان کا پہلا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔وفاقی حکومت کا پاکستان میں قانونی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کوواپسی کیلئے ایک ماہ کا الٹی میٹم دیدیاگیا۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومت نے افغان مہاجرین کی انخلاء کیلئے کمر کس لی ۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پرقومی سلامتی کمیٹی کے مؤقف کی متفقہ طور پر تائیدکی گئی اور کہا گیا کہ امریکی بیانات سے دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ تعلقات متاثر ہوئے ٗ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانی و مالی قربانیاں دی ہیں ۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر ٗ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ٗ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان اور پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی سمیت مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری شریک ہوئے ۔
پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس کے شرکاء نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کوسانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کے لیے سات جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سعودی عرب روانگی کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ غیروں کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے پاکستان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے اپنے پریس کانفرنسز میں کہا کہ ایک اور این آر او لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔