امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں امن کے لئے دنیا بھر کے ممالک سے امداد طلب کر لی اور ساتھ ہی یہ واضح اعلان کیا کہ طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ افغانستان میں دہشت گردی کے خوفناک واقعات حالیہ دنوں میں ہوئے ہیں ۔ ایمبولینس بم حملہ میں سو سے زائد افراد ہلاک اور 235 زخمی ہوئے ۔ یہ اس ٹرک بم دھماکے کے بعد بہت بڑا واقعہ ہے جس میں 150سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
کئی دہائیوں سے ہم ان کالموں کے ذریعے حکومت کی توجہ عوامی مسائل کی طرف دلاتے آرہے ہیں اور آئند ہ بھی یہ قومی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے۔ انہی کالموں میں آئے دن جعلی اور ملاوٹ شدہ خوردنی اشیاء کی نشاندہی بھی کرتے آرہے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات میں یہ تمام باتیں شامل نہیں، اس کو شاید تاریخ کے کسی بھی دورمیں اچھی حکمرانی سے کوئی دلچسپی نہیں رہی بلکہ مافیا ان سے فیصلے کراتی ہے ۔
روز اول سے بلوچ قیادت نے افغان مفتوحہ علاقوں کو بلوچستان میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انگریز سامراج نے افغانستان کے گرد ایک حصار تعمیر کرنے کے لئے قلات سے الگ ایک انتظامی یونٹ قائم کیا ۔
پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ اور پشتون طلباء پر حملے کے بعد انہی میں سے 180طلباء کو گرفتار کیا گیا۔ انتہائی بے شرمی کے ساتھ نہتے طلباء پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے اور ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ۔
صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے باضابطہ یہ اعلان کردیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس اور لیویز سے کسٹم ایکٹ کے تحت تمام اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں اور ایف سی متعلق اختیارات کی واپسی کے لئے وفاقی حکومت سے رجوع کیا گیا ہے کہ ایف سی جو ایک وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے ، اس سے بھی کسٹم ایکٹ کے تحت تمام اختیارات واپس لیے جائیں ۔
لاہور اسلام آباد میں اکثر و بیشتر بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے ‘ ان کو مارنے اور پیٹنے کی خبریں اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں۔ یہی صورت حال پشتون طلباء کا انہی دونوں شہروں میں ہے۔
1970ء کی دہائی میں ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد بلوچستان کو صوبائی حیثیت ملا۔ صوبائی درجہ ملے تقریباً پچاس سال ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک صوبے میں معاشی منصوبہ بندی کا کوئی واضح اور صاف تصور ابھر کر سامنے نہیں آیا کیونکہ کام چلاؤ کے تحت حکومتیں قائم ہوتی ہیں اورسالانہ پچاس ارب سے زائد گٹر اسکیموں یا ذاتی مفاد کی اسکیموں پر ضائع کئے جاتے ہیں۔