بلوچستان میں 2017ء میں تین سو سے زائد دہشتگرد حملوں میں مجموعی طور پر 264افراد جاں بحق اور 573 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 110 اہلکار بھی شامل ہیں جن پر مجموعی طور پر 95 حملے کئے گئے۔
بلوچستان میں 2017ء میں تین سو سے زائد دہشتگرد حملوں میں مجموعی طور پر 264افراد جاں بحق اور 573 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 110 اہلکار بھی شامل ہیں جن پر مجموعی طور پر 95 حملے کئے گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ان دنوں بلوچستان کے تین روزہ دورہ پر آئے ہوئے ہیں،انہوں نے مختلف وفود اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان مغر بی سرحدوں سے ملک میں در اندازی کر رہا ہے،امر یکہ کی موجودگی میں داعش کا افغانستان میں مضبوط ہونا سوالیہ نشان ہے ۔
پاکستان کی سیاست میں اتارچڑھاؤ ہمیشہ آتے رہے. چاہے وہ 70ء کی دہائی ہو،یا پھر 1999ء سے لیکر 2008 ء تک کا دورانیہ جب پاکستان میں سیاسی حالات انتہائی مخدوش تھے کیونکہ اس وقت میاں محمدنواز شریف کی حکومت کو 1999 ء میں ختم کردیا گیا۔پھر پرویز مشرف حکومت پربراجمان ہوئے۔
حکومت نے کئی ایک شعبوں کی بہتری میں نہ صرف دلچسپی کا اظہار کیا ہے بلکہ بعض شعبوں میں قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے مگر ماہی گیری کا شعبہ جو ملک کے لیے 6ارب ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کو گزشتہ 70سالوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔
نوجوان بگٹی انجینئرز نے گزشتہ روز اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں یہ شکایت کی کہ او جی ڈی سی ایل انتظامیہ نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ان بگٹی انجینئرز نے کہا کہ بعض امیدواروں نے ٹیسٹ اور انٹرویو میں حصہ بھی لیا مگر کسی کو بھی پیٹرولیم انجینئر کی ملازمت نہیں دی گئی۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران پے درپے دہشت گردی کے کئی ایک واقعات پیش آئے جن میں پاکستان کے سیکورٹی افواج کے جوان شہید ہوئے۔ ایک روز قبل پاکستانی فوج کے تین جوان اس وقت شہید ہوئے جب افغانستان کی جانب سے ان کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ مہمند ایجنسی میں پیش آیا۔
سیاست میں بعض نووارد افراد پاکستان کی تاریخ اور اس کے عوام کی جمہوریت کے جدوجہد سے آگاہ نہیں ہیں اس لئے وہ ملک میں صدارتی نظام حکومت چاہتے ہیں بلکہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ موجودہ وفاقی اور پارلیمانی طرز حکومت کو ختم کیا جائے۔
آئے دن کوئٹہ کی معروف شاہراہوں اور خصوصی طور پر سول سیکریٹریٹ کے گرد و نواح میں گٹر ابلتے رہتے ہیں۔ میونسپل انتظامیہ ان مسائل کے بجائے اپنے تجارتی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتی نظر آتی ہے۔
مختلف پارٹیوں کے درمیان معاہدے کے بعد سینٹ نے حلقہ بندیوں کا بل منظور کیا۔ مسلم لی ق کے کامل علی آغا نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
آئے دن ایران کی سیکورٹی افواج سو کے لگ بھگ پاکستانیوں کو تفتان سرحدی چوکی پر پاکستانی حکام کے حوالے کرتے ہیں۔ ان میں سے 99فیصد لوگوں کا تعلق وسطی پنجاب سے ہوتا ہے۔ یہ وہ ناکام تارکین وطن ہیں جو وزارت داخلہ کے حکام کو لاکھوں روپے رشوت دے کر ایجنٹوں کے ذریعے پنجاب سے ایرانی بلوچستان کا رخ کرتے ہیں۔