گزشتہ 6 ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور غزہ جنگ بندی کے حوالے سے جلد معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ 6 ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور غزہ جنگ بندی کے حوالے سے جلد معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے نیا قرضہ دینے کے لیے پاکستان کو نئی تجاویز پیش کردیں۔آئی ایم ایف کا 15 مئی کو آنے والا وفد پاکستان کے لیے 6 سے 8 ارب ڈالر کے نئے بیل آئوٹ پیکج کے اہم نکات طے کرے گا تاہم اس سے قبل آئی ایم ایف نے پاکستان کو نئی تجاویز پیش کردی ہیں۔آئی ایم ایف نے مزید ٹیکس لگانے، بجلی، گیس مزید مہنگی کرنے، پنشنرز پر ٹیکس لگانے اور خسارے کے شکار سرکاری اداروں کو فروخت کرنے کی تجویز دی ہے۔
جغرافیائی اور اسٹرٹیجک حوالے سے بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ 70 سال سے زائد عرصہ بیت گیا مگر بلوچستان مسئلے کا سیاسی حل نکالنے میں کوئی بھی حکومت کامیاب نہیں ہوسکی جس کی ایک بڑی وجہ واضح روڈ میپ اور میکنزم کا نہ ہونا ہے ۔
گوادر کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے پاک چائنا فرینڈشپ جی ڈی ہسپتال نے انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت فوری طور پر خدمات کا آغاز کردیا ہے۔ گوادر میں تعمیر شدہ سو بیڈ پر مشتمل ہسپتال، پاک چائنہ فرینڈشپ جی ڈی اے ہسپتال عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے
ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مستقبل کی بہتری کیلئے سیاسی ڈائیلاگ پر زور دے رہی ہیں چونکہ سیاسی استحکام سے ہی ملک میں گورننس بہتر ہوسکتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں جبکہ پی ٹی آئی قیادت کی سیاسی ڈائیلاگ پر رائے منقسم ہے ۔
2022 کے دوران بلوچستان اور سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچاہی جس سے بہت بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔
پاک ایران تجارت سے پاکستان کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ سرحد پر قانونی تجارت، تیل، بجلی کی خریداری سمیت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور چاہ بہار ،گوادر جڑواںپورٹ بنانے سے ملکی معیشت کی اٹھان تیز ہوگی۔
بلوچستان میں جاری شورش کے تاریخی پس منظر سے رہنمائی حاصل کئے بغیر نہ ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ بلوچستان میں دو قسم کی جنگیں اس وقت چل رہی ہیں۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا تین روزہ دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔پاک ایران تجارتی حجم 10 ارب تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاک ایران تعلقات دہائیوں سے انتہائی دوستانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بہترین سفارتی، تجارتی، دفاعی، ثقافتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط رہے ہیں۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر پوری دنیا کو تشویش ہے کہ یہ بڑی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے جو خطے سمیت پوری دنیا کی تباہی کا سبب بنے گا۔ گزشتہ دنوں ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون حملے کئے گئے جو یکم اپریل کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیل کے فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا،