ملکی معیشت میں بہتری کب آئے گی، سرمایہ کاری میں تیزی، مقامی اور بین الاقوامی صنعتکاروں کے ذریعے معیشت کوبہتر کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھانے ضروری ہیں یہ تمام تر ذمہ داری حکومت کی ہے کیونکہ ملکی بھاگ ڈور اس وقت پی ڈی ایم کی ہاتھوں میں ہے۔ جب معاشی حالات انتہائی خراب تھے،آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات خراب ہوچکے تھے ۔
بلوچستان حکومت اور وفاق کے درمیان پھر ٹکراؤ پیدا ہوا ہے، اس بار حکومتی سطح پر وفاقی حکومتی رویہ کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مالی مسائل، منصوبوں پر صوبے کے جائز حقوق سمیت این ایف سی ایوارڈ بھی شامل ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کیلئے بہترین اقدامات کرتے ہوئے اپنے ممالک کو اس خطرناک صورتحال سے نکالا ہے مگر چند ممالک آج بھی ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہیں جن میں پاکستان خاص کر شامل ہے یہاںبہت سارے مسائل اور چیلنجز اس وجہ سے پیدا ہورہے ہیں۔آلودگی سے مراد قدرتی ماحول میں ایسے اجزاء کا شامل ہونا ہے جس کی وجہ سے ماحول میں منفی اور ناخوشگوار تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
2014ء سے شروع ہونے والی تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کی غبارے سے ہوااب مکمل نکل چکی ہے اس میں اب کوئی شک نہیں جو شخص تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کا وعدہ عوام سے کرتے ہوئے پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کو چور، ڈاکو اور قابض جیسے القابات سے نوازتا رہتا تھا وہ سب ذاتی مفاد ،انا اور اقتدار تک محض رسائی کیلئے تھا۔
مہنگائی میں مسلسل اضا فے کا رجحان مئی میں بھی برقرار رہا،گزشتہ ماہ ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد رہی۔اپریل کے مقابلے میں مئی میں مہنگائی میں 1.58 فیصد اضافہ ہوا۔مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح 37.97 فیصد رہی۔ ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں شہروں میں مہنگائی 1.50 اور دیہاتوں میں 1.69 فیصد بڑھی۔
موجودہ حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج مالی مسائل، مہنگائی، بیروزگاری، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی لانے سمیت معیشت سے جڑی وہ تمام چیزیں ہیں جو ملک کو معاشی لحاظ سے مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور اس کے لیے حکومت اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے خاص کر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اس حوالے سے زیادہ متحرک ہوگئے ہیں کہ جلد آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بہتر ہوجائیں اور مالیاتی فنڈز مل سکیں۔
آئی ایم ایف قسط کب جاری ہوگا اور اس وقت آئی ایم ایف کیاسوچ رہی ہے؟ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کی جانب سے بتایاگیا کہ پاکستان کی سیاست پر ہماری نظریں ہیں مگر اس پر ہم تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومت بلوچستان کی جانب سے ارسال کی جانے والی ایک سمری پر گوادر کو سپیشل اکنامک ڈسٹرکٹ کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ واضح رہے کہ گوادر شہر کی ترقی، بندرگاہ سے متعلق سرگرمیوں بشمول سیاحت اور دیگر خدمات کے شعبوں کے لیے ضروری ہے کہ تجارت، سیاحت اور دیگر متعلقہ کاروبار جیسے کہ رئیل اسٹیٹ اور ہوٹلنگ کے شعبوں کو گوادرکو خصوصی اقتصادی ضلع (SED) قرار دینے کے بعد مختلف شعبوں میں مسابقت کی بہترین سطح تک فروغ دیا جائے
پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین لیڈران پارٹی سے مستعفی ہورہے ہیں،ان میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جو پی ٹی آئی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، ان کی پارٹی سے علیحدگی اور دیگر قومی و صوبائی اسمبلی ارکان کے الگ ہونے کے بعد جنہوں نے حال ہی میں پنجاب انتخابات کیلئے پارٹی سے ٹکٹ لئے تھے انہوں نے بھی راستے جدا کرلیے۔ اتنی بڑی تعداد میں پی ٹی آئی ارکان کی علیحدگی کے بعد پنجاب میں جہانگیر ترین اور ق لیگ متحرک ہوگئی ہے اور اب جہانگیر ترین گروپ اور ق لیگ سے پی ٹی آئی سے راستہ جدا کرنے والوں کے رابطے تیز ہوگئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق جلد ہی یہ رہنماء جہانگیر ترین اور ق لیگ میں شمولیت اختیار کرینگے پہلے گمان یہ کیا جارہا تھا کہ ان میں سے بیشتر رہنماء ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں جاسکتے ہیں مگر جو اطلاعات آرہی ہیں ان میں جہانگیر ترین اور ق لیگ سرفہرست ہیں۔
گوادر بندرگاہ کی فعالیتاور چین کی بڑھتی دلچسپی سے بہت جلد خوشحال بلوچستان کاخواب پوراہوگا ماضی میں سی پیک منصوبوں میں سست روی کے باعث مایوسی پیداہوگئی تھی جبکہ چین کی جانب سے بھی ناراضی دیکھنے میںآیا تھا مگر خطے میں جس طرح سے معاشی ، سفارتی، دفاعی تعلقات میں تبدیلی آرہی ہے اس سے یقینا ہر ملک اپنے مفادات کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے دوست ممالک سے روابط کو مزید گہرے تعلقات میں تبدیل کرنا چاہے گا ۔ پاک چین تعلقات میں مضبوطی ماضی میں بھی بہت شاندار رہی ہے مگر حالیہ مثال جو چین نے ایک دوست ملک کے طور پر قائم کیا اس کی نظیر نہیں ملتی جب آئی ایم ایف کے شرائط سامنے آئے جس پر چین نے سب سے پہلے پاکستان کی مالی مدد کی۔ بہرحال اب گوادر بندرگاہ سے براہ راست برآمد ات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اس سے گوادر بندرگاہ میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ جائیں گی اور سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا اس کا فائدہ پاکستان کی معیشت کو ہوگا۔ گوادر معاشی ترقی کا گیٹ وے ہے جس سے مختلف ممالک کے ساتھ تجارت کو وسعت دی جاسکتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اپنی کم مدت کے دوران جتنی بھی بہترین پالیسیاں بناسکتی ہے اس پر ہنگامی بنیادوں پرکام کرنا شروع کردے تاکہ آئندہ آنے والے سالوں کے دوران ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔