5جولائی 2021میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گوادرکا ایک روزہ دورہ کیا۔میڈیا اور سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان گوادر میں بے شمار ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ کر گئے ہیں جن سے مستقبل قریب میں تبدیلی آنے کے ساتھ یہاں کے ماہی گیروں کی معاشی زندگی پر مثبت اثرات پڑیں گے۔لیکن گوادر میں بسنے والے مقامی ماہی گیروں کا وزیراعظم کے چلے جانے کے بعد نہ قسمت بدلی اور نہ ہی شہدکی نہریں بہنے لگیں۔ بادشاہ سلامت نے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر تسبیح پڑھتے ہوئے دو تین منٹ میں گوادر کا “آسمان” سے جائزہ لیا۔ سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین عاصم سلیم باجوہ ان کو چلتے چلتے یوں ہی گوادر میں ہونے والی ترقی پر “تفصیلی بریفنگ” دیتے رہے۔
چانان ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن CDAکی جانب سے منعقدہ دو روزہ نوجوان امن میلہ Youth Peace Festivalکیلئے لاہور جانا ہوا۔ اس فیسٹیول میں ملک بھر سے تقریباً ڈھائی سو کے قریب نوجوانوں کی شرکت تھی جس میں ہم بلوچستان والوں کی تعداد 10کے قریب تھی جن میں کچھ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جبکہ کچھ نوجوان بلوچستان کے مکران ڈویژن سے تھے۔ اس دوروزہ نیشنل پیس فیسٹیول میں انسانی حقوق، جمہوریت کی بالادستی، اظہار رائے کی آزادی، نواجوانوں میں ہم آہنگی کی فروغ سمیت بین المذاہب ہم آہنگی کی موضوعات پر سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات نے لب کشائی کی ۔
دنیا کی تاریخ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی انقلاب کی کامیابی طلباء یونینز کی جدوجہد اور قربانیوں کا مظہر ہے۔ طلباء معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنکی قلم بندوق سے زیادہ طاقت ور اور خوفناک ہے، طلباء تنظیموں پر نہ صرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا بلکہ پورے معاشرے کے لوگوں کی نظریں جمی ہوئی ہوتی ہیں کیونکہ یہ طلباء کی وہ گروپ ہے جو سوچنے اور بولنے کے فن سے آشنا ہے۔
اس وقت ملکی ’غیرجانب دار‘ میڈیا کو دیکھو تو برطانوی جوڑے کے دورہ پاکستان کا چرچا ہے، کچھ اس طرح کی خبریں چل رہی ہیں، ”برطانوی شاہی جوڑے نے فیصل مسجد میں خاموشی سے قران کی تلاوت سنی۔۔۔۔ شاہی جوڑا ائیرپورٹ پہنچ گیا۔۔۔ شہزادی نے لال رنگ کے کپڑے پہنے ہیں۔۔۔۔شہزادہ ولیم نے ایک بچے کے سرپر ہاتھ رکھی“۔ لیکن کوئی گلہ نہیں،کوئی شکوہ نہیں کرو کیونکہ غلام سوچتے ہیں تو اپنی ”غلامانہ“ ذہنی مقدار میں، ملکی میڈیا سمیت مملکت خداداد میں بسنے والوں کو یہ خبر تو معلوم ہونی چاہیے کہ علامہ محمداقبال نے خواب کیوں دیکھا تھا۔۔۔! پھر اسی خواب کو لیکر اُن کے چاہنے والوں نے برصغیر میں ایک الگ ملک کا مطالبہ کس سے کیا؟ اور آج انہی کے آنے پر یہ بے وقوف قوم اتنا خوش کیوں ہے؟ خدا کرے برطانوی شاہی جوڑا جاتے وقت حکومت پاکستان کے لنگر خانے میں کچھ ڈال کر چلا جائے(آمین)۔
بلوچ ءِ چاگرد چہ اے وڑیں جوانیں چیزاں سرریچ اِنت کہ آ یک نیمگے اے راجءِ ربیدگءِ زندگیں بہراَنت ءُُ دومی نیمگا بلوچ ءِ ساچستی کدءُُ کئیلاں پدرکن اَنت کہ چریشاں اندازگ جنگ بیت کہ اے راجءِ تہءَ ساچست کاریءِ چنچو توان است۔ اے گپ وَ راستے کہ Necessary is the mother of inventionبزاں کہ زلورت انسانءَ را ھروڑیں چیزءِ ساچگ پرمائیت۔