پاکستان میں جب بھی کوئی آفت نازل ہوتی ہے، غیر منتخب حکومت ہوتی ہے، یا شاید غیر منتخب حکومت ہوتی ہے، تب، آفت نازل ہوتی ہے۔ پینسٹھ کی جنگ، اکہتر کی جنگ، سیاچین کا قبضہ، دہشت گردی کی جنگ یا آج کل کی افراتفری، جس کی وجہ سے پاکستان احتجاجستان بنا ہوا ہے۔ کشمیر سے شروع ہو کر، گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا، پختونخوا سے گزر کر احتجاج کی
بلوچ سماج میں خواتین کی سیاسی اور مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ روز بروز بلوچ خواتین اور طالبات کی نمائندگی بڑھ رہی ہے۔ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے بلوچ تحریک میں ایک طاقتور قوت ابھر کر سامنے آگئی ہیں۔ بلوچ خواتین بھوک ہڑتال، احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ میں ہراول دستہ کا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ موجودہ جاری بلوچ تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ تحریک میں ایک نیا باب کا آغاز ہوگیا۔ اب دنیا کی کوئی بھی طاقت بلوچ تحریک کو سبوتاژ نہیں کرسکتی ہے۔
بلوچستان وسائل کے ساتھ ساتھ مسائل کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔یہ بات پاکستان کے ہر فرد کو معلوم ہے کہ سر زمین بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے بھی پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے
جب سے نواز شریف اور نواز لیگ ”ووٹ کو عزت دو” کے نعرے سے دستبردار ہوئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کو اپنی سیاست کا محور بنارکھا ہے۔
آٹھ فروری کے الیکشن کاطبل بجتے ہی ملک بھرمیں الیکشن کی گہماگہمی کاآغازہوگیاہے،اس سلسلے میں آصف علی زرداری اور نوازشریف خصوصی طورپربلوچستان کوفوکس کررہے ہیں ،
بلوچ تاریخ میں ہماری غیرت مند بلوچ مردوں کے ساتھ ساتھ ہماری بلوچ قوم کے عورتوں کی دلیری اور بہادری کی بے شمار داستانیں ہیں ۔آج اگر ماہ رنگ کے سنگ اس مزاحمت کے رنگ میں مرد و عورت پیر و ورنا ہر ایک رنگا گیا ہے
عورت کی طاقت ایک حقیقت ہے جس قوم نے اس طاقت کو تسلیم کیا وہ آج دنیا کی عظیم قوم بن کر ابھری ہے۔ ان کی ریاستیں بھی دنیا کی طاقتور ترین ریاستوں میں شمار ہوتی ہیں۔ جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک شامل ہیں۔