عالمی امن کو لاحق خطرات

| وقتِ اشاعت :  


دنیا کا سب سے حسین خواب “امن” ہے۔ مگر افسوس، یہ خواب ہمیشہ ٹوٹنے کے قریب رہا۔ انسان نے آسمانوں کو فتح کر لیا، سمندروں کی گہرائی ناپ لی، مگر اپنے ہی دل کے زخم نہیں بھر سکا۔ آج بھی زمین کے کسی نہ کسی کونے میں دھواں اٹھ رہا ہے، بچے روتے ہیں، مائیں بین کرتی ہیں، اور قومیں ایک دوسرے پر نعرے لگا کر اپنی شکست چھپاتی ہیں۔



بلوچستان کی شاہرائیں یا موت کی خونی راہیں؟

| وقتِ اشاعت :  


پچھلے مہینے میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر(مرک) کی جانب سے جاری کردہ پانچ سالہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سڑکوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 22اکتوبر 2019… Read more »



بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان پچھلے 30 برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار صوبہ رہا ہے ،،کبھی خشک سالی تو کبھی غیر معمولی بارشوں سے تباہی، مگر اس مسلے کا حل کبھی بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ، 90 کی دہائی میں بلوچستان کے مختلف علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں رہے،



پیاسا گوادر

| وقتِ اشاعت :  


گوادر(ضلع) بلوچستان کے خوش قسمت ترین ضلعوں میں شمار ہوتاہے جسکی شْہرت و چرچا نہ صرف مملکتِ خدائے داد میں زبانِ زدعام ہے، بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی میں بھی بلوچستان کے تمام اضلاع سے دو ہاتھ آگے ہے، کہ آج 21 ویں صدی میں بھی گوادر کے شہری باقی سہولتوں کوتو چھوڑدیں پانی جیسی زندگی کی بنْیادی ضرورت سے محروم ہیں ، اور آئے روزہائے پانی ہائے پانی پْکارتے ہوئے مرد وخواتین سراپااحتجاج ہیں۔ قدرتی طور پر ضلع گوادر میں دو مقامات(سب تحصیل سْنٹسرکے بَل و سماتی اور تحصیل اورماڑہ کے بسول کؤر) کے علاوہ کہیں پر بھی زیرِ زمین میٹھے پانی کا ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ اور اگر کہیں زیرِ زمین پانی ہے ، تو وہ پانی انتہائی نمکین اور کھارہ ہے جوکہ پینے کا قابل نہیں ہے۔ البتہ تحصیل اورماڑہ میں “بسول کؤر” اور سب تحصیل سْنٹسر کے چند ایک مقام میں زیرِ زمین بورنگ یا کنواں کا پانی پینے کے قابل ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ گوادر شہر یا ضلع گوادر میں پانی کا مسئلہ بہْت دیرینہ اور بڑا اہم مسئلہ ہے۔ تحصیل اورماڑہ کے شہری (تحصیل ہیڈکواٹر اور دیگر چند قریبی آبادی) بسول کؤر کی بورنگ سسٹْم سے محکمہ آب رسانی کے ذریعے نسبتاً آسودہ حال ہیں۔ جبکہ 1970 کی دہائی میں (اْسوقت کے حکومت’’نیپ‘‘) کے وزیرِاعلیٰ سردار عطااللہ مینگل و گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے حکم پر سب تحصیل سْنٹسر میں بورنگ کراکے پائپ لائن کے ذریعے 60/62 کلو میٹر دوْر گوادر کی محدود آبادی کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ جوکہ 1994 تک باقاعدگی سے جاری و ساری ررا، جس سے گوادر کے شہریوں کی ضرورتِ آب پوری ہوتی رہی۔ 1980کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے احکامات پر جنوبی آنکاڑہ کؤر پر ایک بند تعمیر کیا گیا تھا جس سے آنکاڑہ کؤر کی بارانی پانی کو جمع کرکے گوادر کے عوام کی تْشنگی کو ختم کرنے اور سْنٹسر پائپ لائن کی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن جب سیزن پر بارش نہ ہوتا ، اور یہ پانی کم ہوجاتا تو کھارہ اور پینے کا قابل نہیں رہتا تھا۔ 1985/88 کے درمیان ایم پی اے گوادر میر عبدالغفور کلمتی نے اپنے ایم پی اے فنڈ سے سْنٹسر میں ایک آدھ بورنگ کا اضافہ کیا ، اور سایئجی بند ڈیم تعمیر کرایا۔ لیکن گوادر کی تشنگی میں حاطر خواہ کمی نہیں آئی ، لیکن پھر بھی دؤرِ حاضر کی طرح لوگ پانی کو نہیں ترسے۔ 1987 میں جیونی کے عوام نے پانی کے طلب میں احتجاج کیا اور حکومت سے اپنے پیاس بجھانے کا مطالبہ کیا۔ تو پانی مانگنے کے *غیر قانونی اور غیر شرعی جْرم کے ارتکاب میں* پولیس نے گولیوں سے تین شہریوں بی بی اِزگْل ، 12،13 سالہ بچی یاسمین اور غلام نبی نامی شخص کو بھون کر شہید کیا۔ مگر 38سال گْزرنے کے باوجود آج تک جیونی میں مسئلہِ آب جوں کا توں ہے اور آئے روز لوگ پانی دو پانی دو کا صدا بلند کرکے مظاہرہ کررہے ہیں۔



حاصل مہر ایک بے لوث انسان

| وقتِ اشاعت :  


زندگی میں جو چیز سب سے بڑی حقیقت ہے ،وہ موت ہے،کسی بھی چیز کا انکار کیا جاسکتا ہے،لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ہر ذی روح کو موت کا مزہ چھکنا ہے ،لیکن کچھ لوگوں کی موت معاشرے کو سوگوار کرتی ہے،کچھ لوگ اپنی زندگیوں میں اپنے لئے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ایسے لوگوں کاجانا ہر شخص کے لئے ناخوشگوار ہوتا ہے۔



لیاری کو بچایا جائے

| وقتِ اشاعت :  


کراچی کے قدیم علاقے لیاری کی تاریخی حیثیت ہے۔ تقسیم ہند سے قبل کراچی میں لیاری واحد علاقہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ لیاری ہمیشہ سے سیاسی اور سماجی تحریکوں کا مرکز تھا۔ یہاں کے قدیم باسی اور مزدور لیڈر عثمان بلوچ اپنی یاد داشتوں میں لکھتے ہیں کہ لیاری نے ہندوستان کی آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔



بلوچستان کا ساحل۔۔۔ نیلامی کے کٹہرے میں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کا سمندر ہمیشہ سے سخاوت کی علامت رہا ہے۔ اس کے نیلگوں پانیوں نے ہزاروں سال سے مچھیرے خاندانوں کو رزق دیا، ان کے گھروں میں چراغ جلائے اور ان کے بچوں کے خوابوں کو روشنی بخشی۔ لیکن آج یہی سمندر بے آواز چیخ رہا ہے۔ اس کے سینے پر غیر قانونی ٹرالر اپنے فولادی جال پھینک کر اس کی زندگی کو چھین رہے ہیں۔



دریائے ملیر تاریخی دستاویزات سے آج کی حقیقت تک – شاہراہ بھٹو کی تعمیر اور ممکنہ خطرات

| وقتِ اشاعت :  


دریائے ملیر کراچی کی ان قدرتی آبی گزرگاہوں میں شامل ہے جو اس شہر کی بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صدیوں سے یہ ندی یہاں کے باشندوں کی زندگی کا لازمی حصہ رہی ہے۔ برسات کے موسم میں یہ پانی کے ریلے سمندر تک پہنچا کر شہر کو تباہ کن… Read more »



میر غوث بخش بزنجو کی شاندار سیاسی جدوجہد

| وقتِ اشاعت :  


آج دنیا کی بدلتی ہوئی عالمی صورت حال، روسی اور یوکرینی جنگ ، ایران، شام، لیبیا، سب اس جگ کی لپیٹ میں ہیں فلسطین میں تباہ کاریاں ہو رہی ہیںمختلف ممالک کے ایک دوسرے پر ایٹمی حملے وغیرہ، جس کے نتیجے میں سرمایہ داری نظام شکلیں بدل رہا ہے،