کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں بلوچ طلباء کی شکایات کے ازالے کے لیے قائم کمیشن 15 نومبر کووائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کیاحتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کریگی جبکہ کمیٹی اراکین گورنر بلوچستان، وزیر اعلیٰ، سمیت اعلیٰ حکام اور وکلاء ، طلباء سے بھی ملاقات کرینگے۔تفصیلات کے مطا بق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں بلوچ طلباء کی شکایات کے ازالے کے لیے بنائے گئے کمیشن کا ساتواں اجلاس جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ہراساں کرنے، جبری گمشدگیوں اور نسلی پروفائلنگ پر غور کیا گیا اور اس چیلنج سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرنے پر زور دیا۔ کمیشن کو ممبربلوچستان فرخندہ اورنگزیب کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
کوئٹہ: وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما آغا حسن بلوچ نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاکہاہے کہ احتجاج کرنا ہر ایک کا جموری حق ہے لیکن ۔
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے کہا کہ مشیرداخلہ بلوچستان ضیالانگو اور ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ کی پریس کانفرنس جھوٹ پر مبنی تھی،بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہردور میں لاپتہ افراد کیلئے آواز بلند کی اور اپنا سیاسی کردارادا کیا ہے ، وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دھانی کرائی ہے ۔
کوئٹہ: صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ سیکورٹی فوسز کی جانب سے کسی خاتون کو گر فتار نہیں کیا گیا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈ ہ کیا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے خواتین کو اٹھالیا ہے ،جنہوں نے خواتین کو بازیاب کروایا ہے وہی بتائیں کہ خواتین کو کہاں سے بازیاب کیا ہے ،سرکار ٹوئٹریا فیس بک کے ذریعے نہیں چلتی ،لاپتہ ہو نے والی خواتین کے ورثاء کی جانب سے کوئی ایف آئی آر یاشکایت درج نہیں کروائی گئی ،سر دار اختر جان مینگل حکومت کے مزے اور حکومت کے خلاف غلط پروپیگنڈے بھی کر رہے ہیں ،حکومت کبھی دہشتگروں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی، ہرنائی میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 2سیکورٹی اہلکار شہید جبکہ 10دہشتگرد مارے گئے ہیں ۔یہ بات انہوں نے منگل کو ڈی آئی جی پو لیس اظفر مہیسر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔
اسلام آباد: غیرملکی ماہرین نے سپریم کورٹ کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ریکوڈک منصوبے میں اس وقت 8 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ضروری ہے، اگر پاکستان اور بلوچستان حکومت کو فائدہ حاصل کرنا ہے تو سرمایہ کاری بھی کرنی ہوگی۔سپریم کورٹ میں ریکوڈک سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ لارجر بینچ نے سماعت کی۔
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے نام نہاد قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کی جانب سے پارٹی کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرف دور سے ان کا عمل کردار سے عوام بخوبی واقف ہیں انہوں نے اقتدار کی خاطر مخبر کا کردار ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کیامفادپرستی ، ضمیر فروشی کی بنیاد پر مشرف دور سے اپنے ہی بزرگ مرحوم ڈاکٹر حئی بلوچ کو مشرف کے ایماء پر اپنے ہی پارٹی میں ان کے خلاف کام کرتے رہے ڈاکٹر حئی بلوچ کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے پونم میں مثبت سیاسی کردار ادا کر رہے تھے۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاک فوج ہمار ی شان آن اور فخر ہے پاک فوج پر بے بنیاد الزامات لگا کر قوم کے جزبات اور احساسات مجروع کر نے کی کوشش قابل مزمت ہووزیراعلیٰ نے کہا ہے۔
کوئٹہ: سوئی سدرن گیس کمپنی کے سپلائی سسٹم میں 10فیصد گیس کی کمی بلوچستان اور سندھ میں بھی وفاقی حکومت کے اعلان کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان پر عملدآمد کا فیصلہ صوبے کے 15اضلاع میں صرف تین وقت کھانا پکانے کے لئے گیس دستیاب ہونے کا خدشہ، سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے این این آئی کو بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اس وقت بلوچستان کے 15اضلاع کو گیس فراہم کر رہی ہے صوبے میں گیس کی طلب 250سے 260ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ رسد 200سے 210ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان ہے جسکی وجہ سے ہر سال صوبے میں 10فیصد کم گیس فراہم کی جارہی ہے ۔
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہم نے ہمیشہ ہرقسم کے تشدد کی مذمت کی ہے وہ تشدد چاہے کسی فرد کی طرف سے ہو یا اسٹیٹ کی طرف سے کیا گیا ہو۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔سرداراختر جان مینگل نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس ملک کے سیاسی ماحول کو ہم نے تشدد سے چلانے کی کوشش ہے اورجب بات چیت کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جب سیاسی لیڈر گالم گلوچ پر آجائیں تو ورکر کونسی زبان استعمال کریں گے۔
گوجرانوالہ: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے 6 سوالوں کا جواب مانگتے ہوئے کہا ہے اگر الیکشن کا اعلان نہیں کیا گیا تو یہ تحریک اگلے 10 مہینوں تک چلتی رہے گی۔گھکر میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرے 6 سوال ہیں ان کا جواب دیا جائے، جب میں وزیراعظم تھا تو امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو دھمکی کیوں دے رہا تھا، ارشد شریف کو باہر جانے پر کس نے مجبور کیا، کون ہے جو ملک میں ہماری آزادی لینا چاہتا ہے اور چوتھا سوال کون ہے جنہوں نے اعظم خان پر تشدد کروایا اور ایف آئی اے کو حکم دے رہا تھا، شہباز گل پر تشدد کرنے والے کون تھے۔