ملکی معیشت، آئی ایم ایف کے شرائط، وزیرخزانہ کے مذاکرات

| وقتِ اشاعت :  


ملکی معیشت میں فی الحال کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے پہلے سے ہی قرضوں کے بوجھ تلے قومی خزانہ چل رہا ہے اور تمام تر معاشی معاملات کو چلانے کے لیے سخت فیصلے بھی کئے جارہے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںاضافہ، ٹیکسز کی بھر مار ،مہنگائی کے ذریعے قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کوکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔بہرحال حکومتیں ہر وقت یہی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ ماضی میں زیادہ قرض لینے کی وجہ سے مالی بوجھ پڑا ہے اس وجہ سے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہیں ۔اس وقت بھی آئی ایم ایف کے شرائط کے مطابق ہی فیصلے کئے جارہے ہیں ملک میں حالیہ سیلاب کے بعد جو بحرانی کیفیت پیداہوئی ہے اس نے مزید مالی حوالے سے صورتحال کو خراب کردیا ہے اب حکومت اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اس حوالے سے بیرونی ممالک، عالمی ادارے ، مالیاتی ادارے پاکستان کی مدد کریں اور کسی حد تک اس حوالے سے بہترین پیشرفت بھی ہوئی ہے۔



سیلاب متاثرین کیلئے عالمی برادری کی امداد،ایک بہترین اقدام

| وقتِ اشاعت :  


ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو سیلاب امداد میں تقریباً ڈھائی ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹریونگ زی اور بینک کے وفد سے ملاقات کی۔وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے بینک کے وفد کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں بتایا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سیلاب سے ملکی معیشت پر اثرات کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت نے معیشت کو نقصان سے بچانے اور معاشی ترقی کے لیے درست سمت دی ہے۔ اس موقع پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹریونگ زی کا کہنا تھا کہ اے ڈی بی سیلاب امداد میں 2.5 ارب ڈالر تک دے گا، سیلاب متاثرین کے لیے رقم کی منظوری رواں ماہ بورڈ سے لی جائیگی۔یونگ زی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب کی روک تھام کے لیے 1.5 ارب ڈالر بھی امداد میں شامل ہوں گے۔



ملک میں امن واستحکام،سیاسی جماعتیں بھی کرداراداکریں

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں امن واستحکام کے لیے پاک فوج پُرعزم دکھائی دے رہی ہے ان دنوں ملک میں سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ برقرار ہے مگر جس دہشت گردی کا سامنا پاکستان کو تھا اس پر کافی حدتک قابو پالیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ امن ہوگا تویقینا خوشحالی آئے گی اور ملک سے بحرانات کا خاتمہ ہوگا اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز بھی اپنا کردار اداکرنا چائیے تاکہ ملک کے اندر اس وقت جو سیاسی عدم استحکام ہے اسے ختم کیاجاسکے ،بات چیت ایک واحد حل ہے جس کے ذریعے استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن اپنی ذاتی انا اور ضد سے پیچھے ہٹ جائے تو یقینا بہتری کے امکانات پیدا ہونگے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دلانے کیلئے فوج نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔گزشتہ روز ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ اس عظیم فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔



لانگ مارچ، سیاسی ماحول گرم، عمرانی بیانیہ، عوام کی بیگانگی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی پارہ ہائی ہوتاجارہا ہے وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے حوالے سے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا ہے کہ سخت اقدام اٹھائے جائینگے اگر خدانخواستہ کوئی بڑاسانحہ رونما ہوا تو اس کا ذمہ دار عمران خان ہی ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی چیئرمین ایک سازش کے تحت ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اقتدار کی کرسی مل سکے۔ حکومتی وزراء کی جانب سے یہی کہاجارہا ہے کہ عمران خان کسی تبدیلی کے لیے اسلام آباد نہیں آرہے بلکہ معصوم عوام کو اُکساکر محض اپنی ذاتی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی یہی دعویٰ کررہی ہے کہ ہماری حکومت کے خلاف بیرونی سازش رچائی گئی اور حکومت کا خاتمہ کیا گیا ۔یہ الزام عمران خان ہر جلسے میں دہراتے دکھائی دیتے ہیں اب باقاعدہ عمران خان نے اپنی جماعت کے نمائندگان سے حلف لینا بھی شروع کردیا ہے اور اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ لوگوں کو لیکر آئینگے ۔



بلوچستان اکیڈمی تربت پرقبضہ کرنے کی کوشش، حکومت ایکشن لے

| وقتِ اشاعت :  


درسگاہیں علم پھیلانے کا ذریعہ ہیں، قوموں کی ترقی اور معاشرے کو درست سمت پرڈالنے کے لیے اداروں کا مرکزی کردار ہوتا ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اگر آج اپنا ایک بڑا مقام بنایا ہے تو اس کی وجہ علمی درسگاہ ہیں۔ہمارے یہاں بدقسمتی سے تعلیمی اداروں تک کو سہولیات میسر نہیں تو دیگر علمی اداروں کی حالت زارکا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ گزشتہ چند روز سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ بلوچستان تربت اکیڈمی پر قبضہ کیاجارہا ہے، اکیڈمی کے ذمہ داران بارہا اپنااحتجاج بیانات کے ذریعے ریکارڈ کرارہے ہیں اور انتظامیہ کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں انہیں یہ تسلی دی جارہی ہے کہ قومی اداروں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور ہر صورت میں قومی اداروں پر قبضہ جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان کا علاقہ ضلع کیچ علمی حوالے سے سب سے اعلیٰ اور بلنددرجہ درکھتا ہے اس زرخیز ضلع نے اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاستدانوں سمیت مختلف شعبوں میں بہترین شخصیات کو جنم دیا اور یہ سلسلہ تاہنوزجاری ہے۔



عمران خان کی خواہش، ادارے نیوٹرل ہی رہیں گے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں جمہوریت کے متعلق ہر وقت سوالات اٹھائے جاتے ہیںکہ ہمارے یہاں جمہوری نظام انتہائی کمزور رہا ہے جس کی وجہ سے معیشت اور سیاسی استحکام کا مسئلہ سراٹھاتا رہا ہے ۔ایک تو غیرجمہوری ادوار بہت زیادہ گزرے جس میں فوج کے سربراہان نے منتخب حکومتوں کو گھر چلتا کرتے ہوئے مارشل لاء لگایا اور یہ ادوار طویل رہے دس دس سال تک غیر جمہوری حکومتیں رہیں مگر المیہ یہ بھی ہے کہ اسی غیر جمہوری دور میں بھی چند سیاسی جماعتیں کابینہ اور حکومت کا حصہ بنی رہیں ۔اگر سیاسی جماعتیں اس عمل کا حصہ نہ بنتیں تو یقینامارشل لاء کا دروازہ بہت پہلے بند ہوچکا ہوتا مگر اپنے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے سیاستدانوں نے اس عمل کواپنے لیے سود مند سمجھتے ہوئے فائدے اٹھائے اور اپنے حریف جماعتوں کو دیوار سے لگانے کے لیے تمام تر زور لگایا ،نتیجہ یہ نکلا کہ یہی سیاسی جماعتیں خود بھی اس سیاہ تاریخ سے بچ نہ سکیں اورانہیں اسی مکافات عمل کا سامنا کرناپڑا۔ بہرحال اس طویل تجربہ کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے مشرف دور میں ایک اتحاد تشکیل دیا اور یہ طے کرلیا کہ اب کسی غیرجمہوری عمل کا حصہ کوئی جماعت نہیں بنے گا ،میثاق جمہوریت بنائی گئی بدقسمتی سے ایک بارپھریہ اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔



نصیرآبادکے سیلاب متاثرین وبائی امراض کے شکنجے میں

| وقتِ اشاعت :  


حالیہ بارشوں اور سیلاب نے نصیرآباد ڈویژن کے پانچ اضلاع میں شدید نقصان پہنچا نے کے بعد اب بے گھر اور تباہ حال متاثرین میں وبائی امراض ایک دوسری آفت کی صورت میںسر اٹھا رہے ہیں۔ڈائریکٹرجنرل پراونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نصیرخان ناصر کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں اس کے باوجود صورحال تشویشناک ہے۔نصیرآباد ڈویژن کے سیلاب متاثرین ملیریا، ڈائریا اور گیسٹرو جیسے امراض کا شکار بن رہے ہیں، حکومتی سطح پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو بلوچستان میں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔



سیاسی کھیل، ملک میںبحران، دنیاہمیں کس نگاہ سے دیکھ رہی ہے؟

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں آنے والے دنوںمیں سیاسی پارہ بڑھنے کا قوی امکان ہے اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے حوالے سے مکمل پلان مرتب کرلیا ہے اور ان کی طرف سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیاجائے گا۔ ملک کے مختلف حصوں سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے اور پی ٹی آئی ریڈزون ڈی چوک کو ہدف بنائے گا یقینا اس سے پورا اسلام آباد ویسے ہی جام ہوکر رہ جائے گااور دارالحکومت میں تمام تر معمولات ٹھپ ہوکر رہ جائینگے جس کے بڑے بھیانک اثرات مرتب ہونگے ایک طرف سیلاب جیسے بحران کا سامنا ملک کو کرنا پڑرہا ہے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں دنیاکے بیشتر ممالک اس وقت پاکستان کوتاسف کی نظرسے دیکھ رہے ہیں کہ فوری ریلیف فراہم کرکے انسانی بحران کو ٹالا جائے۔



عمران خان کی سیاست بندگلی میں

| وقتِ اشاعت :  


ملکی سیاست میں اس وقت آڈیو، ویڈیو لیکس کے ساتھ سائفر کا مسئلہ زیادہ طول پکڑتا جارہا ہے سیاسی حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے ہیں کہ حساس نوعیت کے معاملات بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں سائفر آڈیو لیک نے تو تہلکہ مچارکھا ہے کہ کس طرح سے ایک وزیراعظم سائفر کو توڑ مروڑ کر… Read more »



پیٹرولیم مصنوعات سستی، مہنگائی کی شرح میںکمی نہ آسکی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم تو ہوگئیں مگر مہنگائی کی شرح میں کمی فی الحال دیکھنے کو نہیںمل رہی ۔ متعدد بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی اور کم کی گئیں البتہ اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں تک پہنچ گئیں ہیں جوعوام کی قوت خرید سے باہر ہیں ۔اس وقت اگر دیکھا جائے تو عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس پر ا نہیں ریلیف کی امیدیں ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جب بڑھائی جاتی ہیں تو مارکیٹوں میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس کااطلاق گرانفروش فوری طور پر کردیتے ہیں مگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں تو اس کاکوئی اثر مارکیٹ پر نہیں پڑتا ،اس پر چیک اینڈ بیلنس کون کرے گا؟ کون اس کی ذمہ داری لے گا؟ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اس اہم مسئلے پر غیر فعال دکھائی دیتی ہیں کسی جگہ پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ۔بڑے شہروں کی مارکیٹوں میں سرکاری نرخنامہ آویزاں تو کیا جاتاہے مگر اس پر عملدرآمد نہیںہوتا محض دکھاوے کے لیے یہ ایک سرکاری پرچہ رکھا ہوتا ہے جبکہ دکانداریہ شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں آگے سے سامان مہنگے داموں ملتا ہے اس لیے وہ اپنی طرف سے کس طرح سستے داموں چیزیں فروخت کریں۔