پاکستان معاشی دیوالیہ ہونے سے بچ گیا آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط منظور کرلی گئی۔ یہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب پاکستان بدترین حالات سے گزررہا ہے ایک طرف معاشی تنزلی تو دوسری جانب سیلاب نے پورے ملک کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں بڑے پیمانے پر انسانی اموات رپورٹ ہوئی ہیں ،لوگ بے گھر ہوگئے ہیں روزگار تباہ ہوگیا ہے ان کا سب کچھ اب ختم ہوکر رہ گیا ہے مگر گزشتہ چند دنوں سے اچھی خبریں بھی آرہی ہیں عالمی سطح پر سیلاب زدگان کی بحالی کے حوالے سے دوست ممالک سمیت عالمی تنظیموں کی جانب سے بھی مالی امداد کی جارہی ہے جس سے یہ امید نکلی ہے کہ جلد سیلاب متاثرین کو مشکل سے نکالاجائے گا۔مگر صدافسوس اس تمام تر صورتحال کے دوران پی ٹی آئی کے رہنماء اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پنجاب اور کے پی کے وزاء خزانہ کوآئی ایم ایف فنڈ کے متعلق خط لکھنے کو کہا جس میں وہ باقاعدہ ہدایات دے رہے ہیں کہ سرپلس کے حوالے سے جو ہم نے کمٹمنٹ کی ہے اسے پورا نہیں کرسکتے کیونکہ سیلاب کی صورتحال ہے۔
ملک اس وقت بہت بڑی تباہی سے دوچار ہے ملک کا بڑاحصہ بارش اور سیلاب کی نذر ہوگیا ہے حالات انتہائی خراب ہیں لوگوں کا سب کچھ ختم ہوگیا ہے نہ گھر رہا نہ روزگار،جوکچھ تھا سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہہ کر لے گئے ۔یقینا اس گھمبیر صورتحال کے دوران مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اپنے تئیں جس سے جو بھی ہوسکے وہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے خاص کر وہ مخیر حضرات جو سکت رکھتے ہیں کروڑوں روپے کی امداد دینا بھی ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ،بہت سے ایسے خاندان ہیں جو بڑے پیمانے پر ذاتی طور پر یہ کام کرسکتے ہیں امید ہے کہ جس ملک سے انہوں نے سب کچھ حاصل کیا آج اس مصیبت کی گھڑی میں وہ اپنے ملک اور قوم کو تنہا نہیں چھوڑینگے بلکہ متاثرین کا ہاتھ تھامیں گے جو اس وقت بے بسی کی تصویر بنے امداد کے منتظر ہیں۔ خواتین ، بچے، بزرگ جوان ہر کوئی متاثر ہوکر رہ گیا ہے جن کی بحالی ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں ۔
طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کے ساتھ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، عوام کھلے مقامات پر زندگی گزارے پر مجبور ہیں ،ہیضے اور پیٹ کی تکلیف سمیت دیگر بیماریاں بھی جنم لینے لگی ہیں۔نوشہرہ کے علاقہ خویشگی پایاں میں دریائے کابل کے حفاظتی پشتے ٹوٹنے سے پانی قریبی گھروں میں داخل ہو گیا جس کے باعث خویشگی پایاں کے رہائشی گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔
ملک میں اس وقت سب سے خطرناک صورتحال قدرتی آفت کا ہے جو بارش اور سیلاب کی صورت میں سا منے آیا ہے مگر افسوس کہ اس انسانی بحران کے بدترین حالات کے باوجود بھی سیاست ہی کو فوقیت دی جارہی ہے حکومت واپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر بیانات، پریس کانفرنسز تو کئے جارہے ہیں ساتھ ہی بڑے جلسے بھی منعقد ہورہے ہیں اگرپریس کانفرنسز اور جلسوں کی رقم متاثرین پر خرچ کئے جائیں تو بہتر نہیں ہوگا افسوس کہ اقتدار کی رسہ کشی میں اس قدر آگے معاملات جارہے ہیں کہ جن سے ووٹ لیے جاتے ہیں ان کا کوئی پرسان حال تک نہیں ۔ پی ٹی آئی جس کے پاس پنجاب، گلگت بلتستان، کے پی ، آزاد کشمیر موجود ہے اس کی تمام تر توانائی اس وقت سیاست پر لگی ہوئی ہے بڑے بڑے جلسے کئے جارہے ہیں۔
بارش برسانے والا ایک اور مضبوط سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں بہہ جانے اور پل ٹوٹنے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے والا مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے جس کے باعث چمن شہر کے نواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔چمن میں کئی علاقوں کے برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہیں۔
بلوچستان کے بعد سندھ میں بھی شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔مٹیاری کی کرار جھیل کا پانی بھٹ شاہ شہر میں داخل ہو گیا، سڑکوں اور گلیوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے مٹیاری میں 400 سے زائد کچے مکانات گر گئے جب کہ متاثرین قومی شاہراہ پر جھونپڑیاں بناکر بیٹھ گئے۔پڈعیدن کی نصرت کینال میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی جبکہ خیرپور میں سیلابی ریلوں نے حفاظتی بندوں میں کٹاؤ ڈال دیا ہے اور شہر میں جگہ جگہ دو سے تین فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔
بلوچستان میں کئی روز سے جاری موسلادھار بارشوں اور سیلابی صورتحال نے ہر طرف تباہی مچادی ہے، سیلابی ریلوں میں بہہ کر دو معصوم بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق اور 7 افراد لاپتہ ہوگئے،تاہم کراچی کوئٹہ شاہراہ 8 روز بعد عارضی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔بلوچستان کے بیشتر بالائی علاقوں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، ہرنائی چاروں جانب سے سیلاب کے گھیرے میں ہے، پیر کی شام افغانستان سے آنے والے سیلابی ریلوں نے نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں تباہی مچا دی، نوشکی کے 7 دیہات ان سیلابی ریلوں میں ڈوب گئے، درجنوں مکانات کو نقصان پہنچایا۔چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے تیار پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں اپنے ساتھ بہا لے گئے۔
کراچی کے این اے 245میں پی ٹی آئی کی جیت اور حکومتی اتحاد ی جماعت ایم کیوایم کی شکست کو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سمیت ان کے رہنماء اپنے بیانیہ اور تبدیلی کو قرار دے رہے ہیں درحقیقت یہ مکمل زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ کراچی ملک کا سب سے قدیم، سب سے بڑا اور ریونیو دینے والا شہر ہے اس کی آبادی بھی سب سے زیادہ ہے اور مسائل بھی بہت زیادہ ہیں یہ حلقہ ایم کیوایم پاکستان کا ہر وقت رہا ہے اور انہی کے امیدوار ہی یہاں سے منتخب ہوتے آئے ہیں 2018ء میں پی ٹی آئی نے پہلی بار یہاں سے کامیابی حاصل کی اور امیدوار بھی ایم کیوایم کے سابق رہنماء مرحوم عامر لیاقت حسین تھے اب دوسری بار بھی بازی پی ٹی آئی لے گئی ہے اس حلقے میں بہت زیادہ گھمبیر مسائل ہیں پی ٹی آئی نے خود اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں کراچی میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی جس پر یہ جتایا جائے کہ اسے کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ پڑے ہیں۔
بلوچستان میں تعلیم کامسئلہ دیرینہ ہے اسکولز ، کالجزاوریونیورسٹیز بہت سارے مسائل کا شکار ہیں جن کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم واحد ذریعہ ہے جس سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے اور وہ ترقی کے منازل طے کرتی ہیں بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ،مالی مشکلات جیسے اہم مسائل ہیں بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد صوبے سے باہر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں غریب والدین تمام تر مالی مسائل کے باوجود کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ بلوچستان میں یونیورسٹیز اور کالجز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اب بیشتر اسٹوڈنٹس اپنے صوبے کے اندر ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں، اس سے ان کو مالی حوالے سے بہت سارے مسائل سے چھٹکارا مل چکا ہے مگر ابھی بھی ایک گھمبیر اور دیرینہ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے وہ اسکولز ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی اور بنیاد ہیں بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اسکول خستہ حالی کا شکار ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے کہ شہباز گل کو پولیس کی حراست میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے، ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھاجارہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان نے یہاں تک الزام لگایا ہے کہ شہباز گل کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی ہے، اس عمل کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیاگیا۔ پمز اسپتال میں عمران خان شہباز گل سے ملاقات کے لیے پہنچے تو ان کی ملاقات نہیں کرائی گئی قانونی آرڈر لانے کی ان سے درخواست کی گئی۔