ء جہاں جمہوری اداروں کے لیے ایک کامیاب سال تھا وہاںیہی سال لوگوں کے لیے تباہی اور بربادی کا سامان لایا۔ اس سال وزیرستان اور فاٹا کے دوسرے علاقوں میں تباہی اور بربادی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جنگ وجدل صوبے کے بندوبستی علاقوں میں بھی پھیل گیا۔
گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گیس کمپنی کے حکام کے رویے سے تنگ آکر کہا کہ گیس کمپنی کا رویہ بلوچ عوام کے ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے یعنی وہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں لگی ہوئی ہے اور یہاں کے عوام کو کوئی سہولت دینے کو تیار نہیں ۔
گزشتہ دنوں میر علی وزیرستان میں فوجی چوکی پر خودکش حملہ ہوا جس میں بعض فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ خود کش حملہ اس وقت ہوا جب فوجی مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے اور دہشت گرد نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرادی۔
آئے دن ایرانی سرحدی محافظ پاکستان کی سرزمین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو ہلاک اور املاک کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں دہشت گردوں نے ایرانی مسلح دستوں پر حملہ کیا تھا اور سراوان میں 15سرحدی محافظین ہلاک اور پانچ کو یرغمال بنالیا تھا۔
گزشتہ کئی سالوں سے مقتدرہ نے لیاری کے تمام علاقوں سے پولیس کو حساس علاقوں سے واپس بلالیا ہے اور ان کی نقل و حرکت کو پولیس تھانوں میں محدود کردیا گیا ہے۔ اس طرح سے لیاری کے تمام علاقوں کو جرائم پیشہ افراد کے حوالے کیا گیا ہے جو آپس کی جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔
کو رد کردیا اور الزام لگایا کہ حکومت طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی تیاری کررہی ہے۔ اس سے قبل قومی سلامتی پر کابینہ کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ قوت کا استعمال حکومت کا آخری آپشن ہوگا۔
گیس کی کمپنیاں، بشمول پی پی ایل کو بھی فروخت کیا جارہا ہے۔ جب کبھی بھی تاجر لیگ اقتدار میں آیا اس نے قومی اثاثے فروخت کرنا شروع کردیئے۔ نج کاری کے نام پر اپنے من پسند تاجروں اور ساہو کاروں کو قومی اثاثے فروخت کئے جاتے رہے۔ اس بار ان کی تعداد 87ہے۔ سندھ اور پی پی پی، پاکستان اسٹیل کی نج کاری کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ بلوچستان حکومت کو چاہئے وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تمام گیس اور آئل کمپنیوں کی نج کاری کو ہر قیمت پر روکے کیونکہ یہ عمل نہ صرف بلوچستان کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ بلوچستان کے وسائل پر نج کاری کے نام پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
بلوچستان میں تین بڑے بجلی گھر حب، اوچ اور کوئٹہ میں قائم ہیں اور بجلی پیدا کررہے ہیں مگر ان بجلی گھروں سے بلوچستان کے لوگ مستفید نہیں ہورہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ واپڈا ان سے بجلی خریدتی ہے اور قومی گرڈ میں ڈال دیتی ہے اور بلوچستان کو گڈو تھرمل پاور ہاؤس سے… Read more »
16دسمبر 1971ء کو پاکستان ٹوٹ گیا۔ عوام الناس کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔ 16دسمبر کو پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستانیوں کوبین الاقوامی نشریاتی اداروں سے معلوم ہوا کہ پاکستان دو لخت ہوچکا ہے ،پورے مغربی پاکستان میں ماتم کا منظر تھا۔ بلوچ، سندھی اور پختون قوم پرست اور لبرل خیالات رکھنے… Read more »
پاکستان کے قیام سے قبل بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی سماجی اور معاشی طور پر انتہائی مطمئن اقوام تھیں۔ وہ تمام اعتدال پسندی کے ساتھ ساتھ قناعت پسند بھی تھے۔ کرپٹ عناصر کو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ دولت کو عزت کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ ایک وقت تھا کہ کرپٹ پولیس اہلکار… Read more »