ڈی جی آئی ایس آئی تقرری کے نوٹیفکیشن کی تاخیر پر گزشتہ چند دنوں سے بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ موجودہ حکومت وعسکری قیادت کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوچکا ہے، ہیجانی کیفیت ہے ایک بہت بڑا سیاسی بھونچال بحرانی کیفیت میں کسی بھی وقت سامنے آسکتا ہے۔ مختلف خبریں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے گردش کررہی رہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے موجودہ حالات پر تبصرے اور تجزیے کئے گئے کہ پی ٹی آئی حکومت کے تین سال کے دوران کبھی بھی ایسا موڑ نہیں آیا کہ سول وعسکری قیادت کے درمیان تناؤپیداہواہو بلکہ دونوں ایک پیج پر ہوتے ہوئے ہم آہنگی سے معاملات کو آگے بڑھاتے آرہے ہیں
بلوچستان کا شمار ملک کے سب سے پسماندہ اور محروم ترین صوبوں میں ہوتا ہے، دہائیوںسے بلوچستان کے ساتھ حکمرانوں کی زیادتیاں جاری ہیں، مرکز سے لیکر صوبائی حکمرانوں تک ، ہر کسی نے بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا، اگر کسی نے بلوچستان کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہا تو بدقسمتی سے انہیں کام سے روک دیا گیاانہیں رخصت کیا گیا، فنڈز روک دیئے گئے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے بلوچستان کو کبھی بھی ترقی کی جانب گامزن کرنے نہیں دیا گیا۔ بلوچستان میں آج بھی لوگ بنیادی سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ایک مسئلہ شاہراہوں کا ہے اندرون بلوچستان اور بلوچستان کو دیگر صوبوں سے ملانے والی قومی شاہراہیں یاخستہ حالی کا شکار ہیں یا تو پھر دورویہ نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا سبب بنتی ہیں۔
بلوچستان میں نہ ختم ہونے والا سیاسی بحران روز ایک نیا موڑ لے رہا ہے، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ،اب تک معاملات ابہام میں ہیں۔ گزشتہ روز یہ اطلاعات موصول ہورہی تھیں کہ ناراض اتحادی اراکین کو اسلام آباد سے واضح پیغام دیا گیا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہٹانے میں کسی صورت ساتھ نہیں دینگے ۔
ملک میں مہنگائی کی شرح بہت زیادہ بڑھتی جارہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کے شرائط ہیں یقینا جو قرض دیتا ہے اس کے فیصلوں کے تابع تو رہنا ہی پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ روز ایک بات واضح کردی تھی کہ وہ اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے گی بلکہ ڈومور کے واضح اشارہ بھی دیدیئے۔ چونکہ ہماری معیشت اس وقت قرضوں کی بنیاد پر چل رہی ہے مگر اس بات کا کھل کر اظہار حکومت کی جانب سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہر بار آنے والے چند روز کو معاشی ترقی سے جوڑدیاجاتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے امکانات ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اطلاعات کے مطابق مرکز کی مکمل حمایت سمیت مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کے حوالے سے مخالفین کوکوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی حکومت کو جاری رکھنے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے اپنی حمایت کا بھرپور اظہار کیا گیاہے۔
افغانستان کی موجودہ حکومت اور دیگرتمام تر معاملات پرامریکہ اور اس کے اتحادی ایک پیج پر نظر آرہے ہیں جب سے طالبان نے افغانستان کی بھاگ ڈور سنبھالی ہے دنیا کے بیشتر ممالک کی جانب سے کسی طرح کا بھی مثبت بیان تعلقات کے متعلق نہیں دیا گیا البتہ تنقیداور طرز حکمرانی پر ضرور بیانات سامنے آئے ہیں ۔ابتدائی دنوں میں ہی امریکہ اور ورلڈ بینک نے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے ساتھ کسی طرح کا مالی امداد نہ کرنے کا واضح پیغام دیا۔
گزشتہ شب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم 20 افراد جاں بحق جبکہ 200سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کوئٹہ، سبی، ہرنائی، پشین، قلعہ سیف اللہ ، چمن، زیارت اور ژوب سمیت کئی علاقوں میں رات 3 بج کر 2 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
پانامہ، وکی اور اب پنڈرواپیپرز کے آنے کے بعد ایک نئی کلبلی مچ گئی ہے کہ سات سو پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں ہیں جنہیں خفیہ رکھا گیا تھا حالانکہ آف شور کمپنی بنانا کوئی غیر قانونی کام نہیں بلکہ دیگر ممالک میںاس کی بالکل اجازت ہے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں اور اپنے اثاثوں کو منیج کرسکیں اور کھل کر آف شور کمپنی بنائیں مگر جب کسی کو اپنے کالے دھند کو سفید کرناپڑتا ہے تو وہ اپنے تمام ترکاروبار اور اثاثوں کو خفیہ رکھ کر کاروبار کرتاہے تاکہ اسے ٹیکس دینا نہ پڑے ،اپنے ملک سے لوٹی گئی رقم کو بیرون ملک منتقل کرکے باآسانی خفیہ طور پر اثاثے بنانے کے ساتھ کاروبار کرسکیں ۔
حکومت نے موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین نیب کی توسیع سے متعلق قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کئی تجاویز پیش کی گئیں۔
پاکستان میں اول روز سے اشرافیہ ہی کا راج رہا ہے کوئی ایسی حکومت نہیں رہی کہ جس میں طاقت ور طبقے نے ملک کے فیصلے نہ کئے ہوں اور آج تک یہی اشرافیہ وفاداریاں تبدیل کرکے ایک جماعت سے دوسری جماعت میں شامل ہوکر اقتدار کے مزے نہ صرف لیتا آرہاہے بلکہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے سمیت اداروں کا منافع اپنے ذاتی کاروبار میں لگاتے رہے ہیں ۔