گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پارٹی صدارت سے مستعفی ہوکر یہ بات واضح کردی کہ پارٹی کے اندر بہت سے سینئر ارکان انہیں وزارت اعلیٰ کے منصب پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ پارٹی عہدے سے الگ ہونے کا براہ راست تعلق وزارت اعلیٰ کے معاملے سے جڑا ہوا ہے اب تک پارٹی کے اندرون خانہ معاملات زیادہ واضح نہیں تھے حالیہ فیصلے نے تمام معاملات کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی عمر تین برس ہے اور یہ جماعت مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل شخصیات نے تشکیل دی تھی جس میں بعض سینئر ارکان بھی شامل ہیں جو بلوچستان کے سیاسی ماحول کے مطابق اپنے کارڈز کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں کہ کب کس وقت انہیں اپنے کارڈز شو کرنے ہیں ۔
لیجنڈ اداکار،کامیڈین اور اسٹیج کے بے تاج بادشاہ عمر شریف جرمنی کے اسپتال میں انتقال کر گئے۔عمر شریف کو علاج کے لیے 28 ستمبر کو کراچی سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے امریکہ روانہ کیا گیا تھا۔ ایئر ایمبولینس نے شیڈول کے مطابق جرمنی میں مختصر قیام کرنا تھا اور ری فیولنگ کرانا تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طویل فضائی سفر کی وجہ سے عمر شریف نہ صرف تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے بلکہ انہیں ہلکا بخار بھی ہو گیا تھا۔عمر شریف کو بخار اور تھکاوٹ کے باعث جرمنی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔جرمنی میں ڈائیلیسز کے دوران عمر شریف کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے نے عمر شریف کے انتقال کی تصدیق کردی ہے،جرمنی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل زاہد حسین اسپتال میں انتظامات دیکھ رہے ہیں۔
عوام کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اب صبر بھی جواب دے چکا ہے،مہنگائی سے لوگوں کی چیخیں اب نکلنے والی نہیں بلکہ بند ہوجائینگی کیونکہ ایک بہت بڑا مہنگائی کا ایٹم بم عوام پر گرایا جا چکاہے۔ شاید حکمران اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دینا ہی نہیں چاہتے کہ معاشی حوالے سے ملک میں کس طرح بہتری لائی جائے ان کی ترجیح اپوزیشن کی درگت بنانا ہے ہر دوسرے روز ایک نیا کیس اٹھاکر اکھاڑا لگایا جاتا ہے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحامیں ہونے والے امن معاہدے کے دستاویزات آج بھی ریکارڈپر موجود ہیں کہ امریکہ میں کس کی حکومت تھی اور کس نے ملابرادران کے ساتھ خود براہ راست مذاکرات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھایا جبکہ افغانستان میں موجود اشرف غنی حکومت دوحا امن معاہدے میں کسی طور فریق کی صورت شامل نہیں رہی کیونکہ اشرف غنی کی حکومت مکمل مطمئن اور تسلی میں تھی کہ امریکہ اپنا مکمل آشیرباد آخر تک ان کے ساتھ رکھے گا۔
ملک میں کورونا کے مریضوں میںانتہائی کمی آرہی ہے جبکہ اموات کی شرح بھی بہت کم ہوچکی ہے اس لئے اب پابندیوں کی بجائے نرمی برتی جارہی ہے مگر صرف ان علاقوں میںجہاں ویکسی نیشن کی شرح بہت زیادہ ہے اس لئے دیگر سرگرمیوں کو بحال کرنے کے احکامات بھی جاری ہورہے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرنے8 شہروں میں پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک میں مقامی حکومتوں کی تشکیل کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان متعدد بارکہہ چکے ہیںکہ جب تک نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی نہیں ہوگی مسائل کے حل اور ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ وزیراعظم عمران خان متعدد بارمختلف تقاریب میں اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ ہماری حکومت کی ترجیحات میں بلدیاتی انتخابات کرانا اور مقامی حکومتوںکو بااختیار بناکر عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے مگر اس حوالے سے اب تک کوئی خاص پیشرفت نہیںہوئی ہے البتہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس بات کا کھل کر اظہار کیاہے کہ مقامی حکومتوں کی تشکیل میں اصل رکاوٹیں کون ہیں اور حکومت کی منصوبہ بندی لوکل انتخابات کے حوالے سے کیا تھی۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کاکہناتھا کہ لوکل الیکشن پہلے سال نہ کرانا حکومت کی غلطی تھی۔وزیراعظم مضبوط لوکل حکومت پر یقین رکھتے ہیں۔
ملک بھر کے بڑے شہروں میں ترقی کے جال بچھائے جارہے ہیںَ آبادی کے پیش نظر سڑکیں، پُل، انڈرپاسز، ٹرانسپورٹ، پانی، سیورج، اسپتال، تعلیمی اداروں پر کام کیاجارہا ہے ۔یہ ایک اچھا اور احسن اقدام ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں جدید سہولیات مہیا کرنا اور عوام کو بنیادی مسائل سے چھٹکارا دلاکر ان کی معمولات زندگی کو آسان بنایاجائے۔
گزشتہ چند روز سے طلباء کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ پی ایم سی آن لائن کی بجائے دوبارہ فزیکل ٹیسٹ لئے جائیں مگر اس مسئلے کو اس قدر طول دیاگیا کہ طلباء سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے اور بالآخر طلباء کااحتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا۔ پولیس اور طلباء کے درمیان تصادم کی وجہ سے طلباء اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ،پولیس نے 75طلباء کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جس کے بعد احتجاج میںمزید شدت آگئی۔ اس سے قبل بھی اس بات کاذکر کیاجاچکا ہے کہ جو معاملہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے تو ہمارے حکمران کیوں اسے تشدد کی نہج تک لے جاتے ہیں ۔طلباء کسی شوق میں سڑکوں پر احتجاج نہیں کررہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں مسئلہ کشمیر، افغانستان کی صورتحال، اسلاموفوبیا، کووڈ 19، ماحولیات اور دیگر اہم امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کشمیر اور افغانستان مسئلے خاص کرامن کے قیام پر زیادہ زور دیا۔وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی جموں و کشمیر تنازع پر خود ساختہ آخری حل کی طرف بڑھ رہاہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے، قرارداد واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل علاقے کے افراد اقوام متحدہ کے تحت آزاد اور غیرجانبدار رائے شماری سے کریں گے۔
میاں محمد نواز شریف کو جب نااہل کرکے وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا گیا تو میاں صاحب نے ” ووٹ کو عزت دو ” سلوگن کو متعارف کرایا۔ ن لیگ کی جانب سے ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد کئے گئے، میاں محمد نواز شریف نے مقتدر حلقوں اور عدالتی نظام پر خوب تنقید کی اور اپنی نااہلی کا اپنی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ دہرایا جو مقبول رہی کہ ” مجھے کیوں نکالا”۔