ملک میں معاشی تنزلی اور بحرانات ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے جارہے ہیں اور اس کا براہ را ست اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔حکومت عوام کو اب تک ریلیف فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے لیکن دعوے حکمرانوں کی جانب سے اول روز سے کئے جارہے ہیں کہ بہت جلد عوام کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوجائینگے مگر بدقسمتی سے کوئی واضح معاشی پالیسی اب تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ وزراء کی تبدیلیاں ہوتی رہیں مگر ان تبدیلیوں سے عوام کی زندگی میں کوئی تبدیی نہیں آئی بلکہ عوام مہنگائی کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔
بلوچستان کی سیاست کاایک اہم باب بندہوگیا۔بلوچستان کے عظیم بزرگ قوم پرست رہنماء سردارعطاء ا اللہ خان مینگل جمعرات 2ستمبر 2021کو کراچی کے نجی اسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کی سیاست کے اہم باب اور مرکزی کرداروں میں شامل تھے۔ سردار عطاء اللہ مینگل 1929ء کو سردار رسول بخش مینگل کے ہاںپیداہوئے ۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں خواتین سمیت بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے خاص کر خواتین و بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے کیسز نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور لوگ اپنی خواتین و بچوں کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں لہذا اس کے تدارک کیلئے ایک جامع اور واضح پالیسی کے ساتھ قانون سازی کی اشد ضرورت ہے ۔
گزشتہ دنوں ملک کے معروف گلوکار ابرار الحق نے ایک تقریب کے دوران والدین کی بچوں سے متعلق تربیت پر ایک جملہ کہا جو خود ابرار الحق کے ہی شعبہ سے منسلک موسیقی پر تھا ،ان کا کہنا تھا کہ آج کل والدین اپنے بچوں کو سلاتے ہوئے موسیقی سناتے ہیں اورانہوں نے انگریزی ورژن کا سانگ سنایا جو ان دنوں بہت زیادہ مقبول ہے کہ والدین اپنے بچوں کو موبائل فون ہاتھ میں دیکر یہ گانا سناتے ہوئے انہیں سلاتے ہیں۔
افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان گزشتہ شب بھی جھڑپیں جاری رہیں۔وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ ہے اس کے علاوہ وہ تقریباً پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔طالبان نے وادی پنجشیر کا محاصرہ کررکھا ہے اور گزشتہ دو روز سے جھڑپیں جاری ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے اعتماد کو دیکھاجائے تو بظاہریہی لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی آنے والے انتخابات میں حکومت بنائے گی۔ اب پیپلزپارٹی نے صرف حکومت کو نہیں بلکہ اپنے سابقہ اتحادی پی ڈی ایم کی قیادت کو بھی ہدف پر رکھ لیا ہے اور جس انداز میں ان پر تنقید کی جارہی ہے گویا واپس اپوزیشن کے ساتھ جانا ہی نہیں ہے اور اپنی اسی سیاسی لائن کو لیکر آگے بڑھتے ہوئے درمیانہ راستہ نکال کر مزید معاملات کو مقتدرہ سے بہتر بنانا ہے۔
افغانستان میں امریکی اوراتحادی افواج کی انخلاء کے بعد اس خدشہ کا اظہار پہلے ہی کیاجارہاتھا کہ افغانستان میں موجود دیگر گروپس متحرک ہوجائینگے اور ایک نئی جنگ چھڑجائے گی۔ طالبان کا افغانستان پر کنٹرول کے بعد اب تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ مستقبل میں طالبان کس طرح سے اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے افغانستان میں حکومت سازی کریں گے اور اعتماد کی فضاکس حد بحال ہوکر آگے بڑھے گی۔
معاشرے میں صحافیوں کا کلیدی کردار ہوتا ہے اسے دوحصوںمیں تقسیم کرکے موازنہ کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ایک طبقہ جنہوں نے اظہار رائے کی آزادی کیلئے طویل جدوجہد کی ،ہرقسم کی تکالیف برداشت کیں اور حقائق کی بنیاد پر ان عظیم صحافیوں نے عوام کومعلومات فراہم کیں جس کا بنیادی مقصد شعوروآگاہی کے ساتھ حکمرانوں کے سامنے ملک میں ہونے والی صورتحال کا اصل نقشہ پیش کیاجانا تھا تاکہ وہ صحافیوں کی نشاندہی پر اقدامات اٹھاتے ہوئے بہتر انداز میں ملکی امور کو چلائیں ۔داخلی وخارجی معاملات، معاشی مسائل سمیت دیگر چیلنجز کے اصل پہلوؤں کو حقیقی صحافیوں نے ہمیشہ سامنے لایا تاکہ حکمران حالات حاضرہ کے مطابق وسیع ترملکی مفاد میں فیصلہ سمیت بہتر قانون سازی کریں۔دوسرا صحافتی طبقہ وہ ہے جو ہمیشہ اپنے گروہی وذاتی مفادات کیلئے کام کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام خود کرسکتی ہے کہ کتنے وعدے وفا ہوئے جو براہ راست عوام کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، عوام کو روزگار دینے کا وعدہ، گھر بنانے کا وعدہ، مہنگائی سے چھٹکارا دینے کا وعدہ، عوام پر قرضوںکا بوجھ ہٹانے کا وعدہ سمیت بہت سے دعوے کئے گئے جن میں سے صرف چند ایک کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ۔
بلوچستان میں نچلی سطح تک اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر اضلاع بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف مقامی حکومتوں کی غیر فعالیت ہے اور اس میںکوئی شک نہیں کہ ایم پی ایز اس میں بڑی حد تک رکاوٹ ہیں جو نہ صرف حلقے میں اپنا اثرونفوذ برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ بلدیاتی نمائندگان کو جو فنڈز دیئے جاتے ہیں ان پر بھی اپنا حق جتاتے ہیں اور اس سے نقصان پورے بلوچستان کو پہنچتا ہے۔