کوروناکی چوتھی لہر، پابندیوں کی بجائے ایس اوپیز پرعملدرآمدکرایاجائے

| وقتِ اشاعت :  


کوروناوائرس کی چوتھری لہر کے خطرات کے پیش نظر حکومتی سطح پر زیادہ اقدامات ہونے چاہئیں۔ فوری پابندیوں کا اطلاق لوگوں کومزید مشکلات میں مبتلا کردینے کے مترادف ہے ۔عیدالضحیٰ سر پر ہے اور اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدنے کیلئے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں،اس حوالے سے پیشگی بتایاگیا تھا کہ ایس اوپیز پر عملدرآمدکرانا حکومت اورضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے جبکہ مال مویشی فروخت کرنے والوں کیلئے یہ سب سے بڑا کاروبار کا سیزن ہوتا ہے اگر اس دوران سختی برتی گئی تو بڑے پیمانے پر چھوٹے کاروباری طبقے کو نقصان پہنچے گا.



افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا ، امریکی بدنیتی، عالمی امن کیلئے خطرہ

| وقتِ اشاعت :  


افغانستان کے صوبائی دارالحکومت قلعہ نو سے اب یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ طالبان آزادانہ گھوم رہے ہیں اور موٹرسائیکلوں پہ سوار ہو کر شہر کا معائنہ کررہے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد یا تو اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔



حکومت کو گھربھیجنے کے دعوے،اپوزیشن جماعتوں کے ایک دوسرے پرالزامات

| وقتِ اشاعت :  


اپوزیشن جماعتوں کی سب سے بڑی اتحاد پی ڈی ایم کی بنیاد جب رکھی گئی تو یہ طوفان برپاکیاگیا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیج اور سیاسی حکمت عملی کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجیں گی۔ آغاز تو بڑے بڑے جلسے جلوسوں سے کیاگیا اور تقاریر بھی سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح سے ماضی کی مخالف جماعتیں ایک اسٹیج پر کھڑے ہوکر مستقبل میں ساتھ چلنے کے وعدے کررہے تھے اور ایک دوسرے پر کبھی بھی تنقید نہ کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دے رہے تھے۔



وزیراعظم کا بلوچستان کی عسکریت پسندوں سے مذاکرات، آئندہ چند ماہ انتہائی اہم

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان نے پہلے بھی گوادرہ کا درہ کیا تھا مگر گزشتہ روز ہونے والے دورہ کوبہت اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ پہلی بار وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا ذکر چھیڑا ہے اور جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں انہوں نے کبھی بھی اس حوالے سے یہ بات نہیں کی اور نہ ہی موجودہ حکومت کے کسی اہم عہدے پر موجود شخصیت نے بلوچستان کی عسکریت پسند تنظیموں سے مذاکرات کا ذکر کیا ہے۔



افغان طالبان اور امریکہ دوبارہ مدِمقابل، خطے کے استحکام کیلئے خطرہ

| وقتِ اشاعت :  


افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ امن معاہدے پر ایک اور مسئلہ کھڑاہوچکاہے جس میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی ہے اور اس کی باقاعدہ تصدیق ترجمان پینٹاگون نے میڈیا بریفنگ کے دوران کیا تھااب سب سے بڑی تشویشناک بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مسائل بڑھ گئے تو یقینا یہ معاملہ جنگ کی طرف چلاجائے گا اور اس وقت پاکستان میں بھی تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے کہ اگر افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی طرف گیا تو پاکستان کیلئے بہت سے مسائل دوبارہ جنم لے سکتے ہیں.



تبدیلی اور ترقی کے دعوے، عوام کو مہنگائی کے عذاب کاسامنا

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں پیاز، ٹماٹر، لہسن، گھی، انڈے،آلو، گوشت، دال مونگ اور گڑ سمیت دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ واربنیادوں پرمہنگائی کی شرح میں 0.53 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔



افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتحال، امریکہ کی عدم دلچسپی سوالیہ نشان؟

| وقتِ اشاعت :  


غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے امریکی افواج کی واپسی کے بعد چھوڑی گئی فورسز کی گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر افغان طالبان کی کچھ تصاویر سامنے آنے کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان نے گزشتہ ماہ جون میں 700 فوجی گاڑیوں کو قبضے میں لیا ہے جنہیں اب طالبان اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کریں گے۔طالبان کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے افغان فورسز کے بھی متعدد ہتھیار قبضے میں لے رکھے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کا بتاناہے کہ 30 جون تک کی جانیوالی تحقیقات میں یہ شواہد سامنے آئے کہ طالبان نے 715 عام گاڑیوں کو بھی تحویل میں لیا ہے



افغانستان کے مسئلے پر نئی صف بندیاں،پاکستان کا لائحہ عمل

| وقتِ اشاعت :  


افغانستان اس وقت عالمی سیاست کا محورومرکز بناہوا ہے اسی تناظر میں دنیا کی عالمی طاقتیں صف بندی کرنے جارہی ہیں جس طرح ماضی میں دو عظیم جنگوں کے درمیان بڑی طاقتوں کے درمیان اتحاد تشکیل دیئے گئے تھے جس کے بعدسوویت یونین کی افغانستان میں آمد اور نائن الیون واقعہ کے بعد پھر اسی طرح کی ایک بڑی اتحاد تشکیل دی گئی۔



غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ،وزیراعظم کا ایک خوش آئند اقدام

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں غذائی قلت کا مسئلہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے سالانہ کی بنیاد پر غذائی قلت کے شکار خواتین اور بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور اس حوالے سے اگر سروے کیاجائے تو بلوچستان اس میں سرفہرست ہوگا۔ بدقسمتی سے اندرون بلوچستان غذائی قلت کے معاملے پر کسی سطح پر بھی سروے نہیں کیا جاتا جو حقیقی صورتحال کو سامنے لاسکے بعض کم نجی ادارے اس حوالے سے بلوچستان میں کام کرتے ہیں مگر گزشتہ چند عرصہ کے دوران نجی ادارے بھی اس جانب توجہ نہیں دے رہے اس لئے حقیقی اعداد وشمار سامنے نہیں آرہے ۔



دنیامیں بدلتی سیاسی صورتحال، ہمارے پارلیمنٹینرین کسی اور رخ پر

| وقتِ اشاعت :  


دنیا میں اس وقت حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں ایک بار پھر عالمی طاقتیں نئے بلاک تشکیل دے رہے ہیں اورلابنگ کی جارہی ہے جبکہ افغانستان میں تیزی سے بدلتے حالات پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ آنے والے وقت میں افغانستان کی سیاسی سمت کس طرف جائے گی۔