بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی کو ایک نجی کنسورشیم کمپنی کی جانب سے صوبے کے ضلع چاغی کے علاقوں تنجیل اور ریکوڈک کے ذخائر کی ترقی کے حوالے سے ایک پیشکش موصول ہوئی ہے۔ بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی کو نیشنل ریسورسز لمیٹڈ نے تنجیل اورریکوڈک کے ذخائرکی ترقی کے حوالے سے تجویز دی ہے۔نجی کنسورشیم کمپنی این آر ایل میں 6 مختلف نجی صنعتی کمپنیاں شامل ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق بلوچستان منرل بورڈ کو نجی کمپنی این آر ایل کے سی ای او شمس الدین کی تجویز کے نمایاں نکات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کا ملک کی ترقی اور معیشت میں بہت اہم کردار ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ،این آر ایل کے اس اقدام سے خطے میں ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی بربریت سے شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 181 تک پہنچ گئی ہے شہید ہونے والوں میں 52 بچے اور 23 خواتین بھی شامل ہیں،بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق نصف سے زائد شہید ہونے والے بچوں کی عمریں دس برس سے بھی کم ہیں۔اسرائیلی میزائل حملے سے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز بھی تباہ ہو گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے 12 منزلہ عمارت کو فوجی ہدف کہہ کر تباہ کیا، عمارت میں امریکی خبر ایجنسی اور عرب ٹی وی کا بھی دفتر تھا۔ رپورٹ کے مطابق تباہ کی گئی عمارت میں موجود دونوں میڈیا ہاؤسز نے اسرائیل سے شواہد دینے کامطالبہ کر دیا۔
عام لوگوں تک معلومات کی مصدقہ رسائی کیلئے صحافی برادری انتھک محنت کرتی ہے اورلمحہ بہ لمحہ لوگوں کو ہر خبر سے باخبر رکھتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے بھارت میں کورونا وباء کی دوسری لہرخطرناک صورت اختیار کرگئی ہے، شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں جگہ کم پڑگئی ہے، کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ کے باعث بھارت کے بیشتر صحت عامہ کے مراکز میں جگہ ختم ہوچکی ہے لوگ فٹ پاتھوں پر اپنے پیاروں کو رکھ کر فریاد کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کی جائے۔ بعض لوگ اپنی مددآپ کے تحت متاثرہ مریضوں کو رضاکارانہ طور پر آکسیجن سمیت دیگر طبی آلات فراہم کررہے ہیں عالمی ادارہ صحت کی بڑی ٹیمیں بھی اس وقت بھارت میں کام کررہی ہیں مگرپھر بھی حالات کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔
گزشتہ تین سالوں سے موجودہ حکو مت کرپشن اور مافیاز کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتی آرہی ہے اور ملک سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم واپس لانے کے حوالے سے بھی حکومت یہی کہتی آرہی ہے کہ لوٹی ہوئی رقم واپس لائینگے ۔اس تمام دورانیہ میں بڑی سیاسی شخصیات سمیت بیوروکریسی کے اہم آفیسران کو گرفتار بھی کیا گیا مگر بعدازاں انہیں رہائی مل گئی اور وہ ضمانت پر رہا ہوئے، کچھ پر اب بھی کیسز چل رہے ہیں۔ حکومت نے اب ایک بار پھر سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیخلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیاہے۔گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے۔
بلوچستان میں حکومتی اتحاد کے در میان اختلافات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی اپنی ہی جماعت کے اندر سب سے زیادہ کشیدگی دکھائی دے رہی ہے اور اس میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجو فرنٹ پر نظرآرہے ہیں البتہ ان کی جانب سے کوئی بیان موجودہ سیاسی کشیدگی کے دوران واضح طور پر سامنے نہیں آیا ہے مگر ان کی سیاسی سرگرمیوں سے بہت کچھ واضح ہوتا جارہا ہے کہ وہ اپنے وزیراعلیٰ پر اب اعتماد نہیں کرتے چونکہ اس سے قبل بھی میرعبدالقدوس بزنجو نے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے اختلاف کیا تھا مگر بعد میں معاملات کو حل کردیا گیا جس میں چیئرمین سینیٹ میرصادق سنجرانی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان گزشتہ کئی ادوار سے آئی ایم ایف سے قرض لیتارہا ہے اور تمام حکمرانوں نے معیشت کی نحیف حالت کوقرض لینے کی وجہ بتائی جبکہ آئی ایم ایف ورلڈبینک سمیت کوئی بھی ملک قرض دے گا تو اپنی شرائط رکھے گا، اگر کبھی آئی ایم ایف مہربان ہوکر قرض دے رہا تھا تو اس وقت بھی اس کی وجہ عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات تھے ،سپر پاور قوتیں خطے میں اپنے پنجے گاڑنے کیلئے داخل ہوئے تھے افغان وار کے دوران دنیا کا رویہ پاکستان کے ساتھ مکمل فرینڈلی رہا ہے اس کی وجہ پاکستان کو اپنے ساتھ ملاکر اس جنگ میں شامل کرنا تھا تاکہ زمینی راستے سمیت فوجی قوت اور دیگر دفاعی وسائل کو بروئے کار لایاجاسکے اور اس کی قیمت پاکستان نے بہت زیادہ چکائی ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے والوں کو خوش آمدیدکہتا ہوں،مجھے اللہ پاک نے بلوچستان کی خدمت کاموقع دیاہے انشاء اللہ بلوچستان کے عوام کی بھرپور خدمت کرونگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی حلقے یا اپوزیشن کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤنگا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا حالیہ بیان یقینا موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے ہے جو گزشتہ تین چار دنوں سے جاری ہے جہاں پر اطلاعات یہ آرہی تھیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض سینئر ارکان وزیراعلیٰ بلوچستان سے ناراض ہیں اور اس کی وجہ باپ کے سینئر رہنماء صالح محمد بھوتانی سے ان کی وزارت کا قلمدان واپس لینا ہے۔
عیدالفطر کے موقع پر پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں 11 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق پہلی عید ا سپیشل ٹرین کراچی سے 7 مئی کو لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔ دوسری عید اسپیشل ٹرین کراچی سے 8 مئی کو لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔ریلوے حکام کے مطابق تیسری عید اسپیشل ٹرین کراچی سے 9 مئی کو لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔ چوتھی عیدا سپیشل ٹرین کراچی سے 10 مئی کو لاہور کے لیے چلے ہوگی۔ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے راولپنڈی کے لیے عید اسپیشل ٹرین 11 مئی کو چلے گی۔ کراچی سے ملتان کے لیے عید اسپیشل ٹرین 12 مئی کوچلے گی۔
گزشتہ چند روز سے ایسی خبریں رپورٹ ہورہی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہیں، لاک ڈاؤن کے نام پر لوگوں کی تذلیل کی جارہی ہے اور ان کے عزت نفس کو مجروح کیاجارہا ہے اور یہ باقاعدہ ضلعی آفیسران کی سرپرستی میںسیکیورٹی اہلکار کررہے ہیں جس کی آئین بالکل اجازت نہیں دیتا کیونکہ آئین پاکستان میں واضح ہے کہ اپنے شہریوں کی جان ومال ،عزت نفس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اس طرح کے رویے انسانی اور اخلاقی اقدار کیخلاف ہیں کیونکہ انہی عوام کے ٹیکسز سے ان آفیسران اور اہلکاروں کو تنخواہیںملتی ہیں جن کا بنیادی مقصدعوام کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عزت نفس کامکمل خیال رکھنا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے عید الفطر پر 10 سے 15 مئی تک کی طویل چھٹیاں دی گئیں ہیں اور زیادہ چھٹیاں دینے کا مقصد لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود رکھنا بتایا گیا ہے۔ساتھ ہی عید کی تعطیلات کے دوران ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں اور تفریحی مقامات بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اجلاس میں کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دینے کافیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی،صوبائی اور ضلعی سطح پر ایس اوپیزپرعملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی جائے، مانیٹرنگ ٹیمیں 8 مئی سے16مئی کے دوران ایس او پیز پرعملدرآمد یقینی بنائیں گی۔