عالمی یوم صحافت، غیرجانبدار میڈیا کے کھوکھلے بیانات

| وقتِ اشاعت :  


عالمی یوم صحافت کے موقع پر حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے میڈیا کی غیر جانبداری کے حوالے سے بیانات دیئے گئے جس میں کہاگیا کہ جمہوریت کیلئے آزاد اورغیر جانبدار میڈیا کاکلیدی کردار ہے اور یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ حسب روایت ہر سال یہ خبریں دی جاتی ہیں مگر میڈیا کی غیرجانبدارانہ صحافت اور جمہوریت کے حوالے سے صحافیوں کے عملاََ کردار کو دبانے کیلئے ہر دور میں منفی حربے استعمال کئے جاتے رہے ہیں ۔



پی ٹی آئی کے بعد باپ کے ارکان کیوںنالاں؟

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند روز سے بلوچستان کی سیاست کا درجہ حرارت بڑھتاجارہا ہے ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پیدا ہونے والی اختلافات کے بعد اب بلوچستان عوامی پارٹی کے اپنے ارکان بھی وزیراعلیٰ بلوچستان سے نالاں نظر آتے ہیں۔بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر رہنماء سردار صالح محمدبھوتانی سے وزیراعلیٰ بلوچستان نے قلمدان واپس لیکر اپنے پاس رکھ لیا ہے جبکہ اس حوالے سے سردار صالح محمدبھوتانی نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اعتماد میں لئے بغیر میرا قلمدان مجھ سے واپس لیاگیا ہے، سینئر ارکان کے ساتھ رابطہ میں ہوں اور بہت جلد آئندہ کے لائحہ کا اعلان کرونگا ۔



پی ٹی آئی کا نیاگورنر، وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کی بازگشت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان تحریک انصاف اول روز سے اپنے اتحادی حکومت کے ساتھ خوش دکھائی نہیں دے رہی خاص کر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ساتھ پی ٹی آئی بلوچستان کے تعلقات خاص بہتر نہیں ہیں ،وقتاََفوقتاََ بیانات کے ذریعے میڈیا کے سامنے یہ باتیں آتی رہی ہیں جس طرح گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور پی ٹی آئی بلوچستان کے صوبائی صدر اور پارلیمانی لیڈر سردار یارمحمد رند کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ خیال ہوا۔ سردار یارمحمد رند نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر یہ بات کہی کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی محض نوٹیفکیشن کی حد تک ہیں جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی نالائقوں کاٹولہ رکھا ہوا ہے۔



ن لیگ ،پیپلزپارٹی کشیدگی، پی ڈی ایم اتحاد کیلئے مزیدمشکلات

| وقتِ اشاعت :  


کراچی میں این اے 249کے ضمنی انتخاب کا معرکہ پیپلزپارٹی نے مار لیا البتہ 2018ء کے عام انتخابات میں اسی امیدوار کے ساتھ پیپلزپارٹی بہت بڑے مارجن سے ہاری تھی مگر اس بار انہوں نے زیادہ ووٹ لیا جو یقینا ایک حیران کن بات ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن اس بار بھی مقابلہ میں اول پوزیشن پر تھی، اب ایسے میںالیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ جنرل الیکشن کی نسبت اس بار ٹرن آؤٹ کم رہا جبکہ ووٹوںکی تعداد بھی کم تھی اور کراچی جیسے بڑے شہر میں ووٹوںکی گنتی کا عمل اتنی سست روی کا شکار کیوں رہا، پہلے تیزی سے نتائج سامنے آرہے تھے۔



کوروناوباء، کراچی میںضمنی انتخاب ، دوہرامعیار کیوں؟

| وقتِ اشاعت :  


عالمی وباء کورونا کے سبب پاکستان میں مزید 150 اموات اور 5 ہزار 480 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار 680 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 15 ہزار 711 ہو گئی ہے۔ملک بھرمیں ایکٹو کیسز کی تعداد 89 ہزار 838 ہے اور 7 لاکھ 8 ہزار 193 افراد کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔کوروناسے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 8 ہزار 327 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 629، خیبر پختونخوا 3 ہزار 238، اسلام آباد 677، گلگت بلتستان 106، بلوچستان میں 230سے زائد جبکہ آزاد کشمیر میں 470 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 74 ہزار 640، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 16 ہزار 523، پنجاب 2 لاکھ 98 ہزار 818، سندھ 2 لاکھ 81 ہزار 385، بلوچستان 22 ہزار 118، آزاد کشمیر 16 ہزار 931 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 296 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔



بشیرمیمن کے انکشافات، حقائق عوام کے سامنے لاناحکومت کی ذمہ داری ہے

| وقتِ اشاعت :  


سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے انکشافات نے ایک ہلچل مچادی ہے، بشیر میمن کے مطابق انہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف انکوائری کیلئے شہزاد اکبر نے کہا تھااور فروغ نسیم نے ان کی حمایت کی تھی۔بشیر میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ان سے کہا کہ ہمت کریں، آپ کرسکتے ہیں۔تاہم بشیر میمن کا کہنا ہے کہ میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ایف آئی اے کے ضابطہ کار میں ایسے نہیں کیا جاسکتا، یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔بشیر میمن کا مزید انکشافات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھ پر نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، شاہد خاقان، رانا ثنا، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خورشید شاہ، مصطفیٰ نوازکھوکھر، اسفند یار ولی اور امیر مقام کو گرفتار کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔



وزیراعظم کی جہانگیرترین گروپ سے ملاقات، دباؤ اوربلیک میلنگ کی باتیں

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے ملاقات کی ,جو وقت وزیراعظم سے مانگاجارہا تھا بلآخر وزیراعظم نے ملاقات کیلئے وقت دیا اور ان کی باتیںبھی سنیں۔ اس ملاقات کے بعد یہ تاثر ضرورگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کے حامی ارکان کے دباؤ میں آئے ہیں اور اس لئے ان سے ملاقات کی کیونکہ ایک بات یہاں واضح ہوتی ہے کہ وزیراعظم اول روز سے یہ بات کہتے آرہے ہیںکہ وہ کسی کے دباؤ اور بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے میرامقصد اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے اور شفاف طریقے کی حکمرانی ہے۔



بھارت میںکورونا بے قابو،مریضوں کادباؤ،صحت کانظام مفلوج

| وقتِ اشاعت :  


بھارت میں کورونا تاحال بے قابو ہے ، روزانہ تین لاکھ سے زائد نئے مریض رجسٹرڈ کیے جا رہے ہیں۔ صرف پانچ دنوں میں کورونا کے 17 لاکھ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ وہاں مجموعی طور پر کورونا کیسز کی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔کورونا مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے باعث ملک کا نظام صحت تقریباً مفلوج ہوکررہ گیاہے، اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بسترنہیں ہیں، ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ مصنوعی آکسیجن کے حصول میں لوگ دربدرپھر رہے ہیں۔



صحافی عبدالواحدرئیسانی کی شہادت، امن کے دعوے

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میڈیا میں اس وقت زیادہ زیر بحث آتا ہے جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہوتا ہے حالانکہ بلوچستان میںکرپشن سمیت دیگر عوامی مسائل کی بھرمار ہے مگر بدقسمتی سے میڈیا میں بدامنی کی خبریں زیادہ چلتی ہیں اور اسی وجہ سے بلوچستان میں آج بھی لوگ آنے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں چاہے کتنے بھی تسلی بخش بیانات اور خوش کن ترقی کے دعوے کئے جائیں ایک سانحہ تمام بیانات پر پانی پھیر دیتا ہے ۔یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس سے نظریں نہیںچرائی جاسکتیں۔ حال ہی میں سریناہوٹل میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد ایک بار پھر بلوچستان ملکی وغیرملکی خبررساں اداروں کی زینت بن گیا اور سب اسی کو رپورٹ کررہے تھے ،حملے کی نوعیت سے ہی کوئٹہ میںموجود انویسٹی گیشن رپورٹنگ اور کرائم کی خبروں پر گرفت رکھنے والے صحافیوں نے پہلے سے ہی اس کااندازہ لگاتے ہوئے اسے خود کش حملہ قرار دیا تھا گوکہ وہ الیکٹرانک میڈیا پر آکر فوری طور پر اس کو رپورٹ نہیں کرسکتے کیونکہ جب تک سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تمام تحقیقات کے بعداس کی تصدیق نہیںہوتی تب تک وہ اسے روک کر رکھتے ہیںالبتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض رپورٹر فوری خبر دینے کے دوران اس کا ذکر کرتے ہیں کہ خود کش حملے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتااور پوری کوریج کے دوران یہی سب کچھ دیکھنے کوملا۔



ماہ صیام، ثواب ونیکی کی بجائے منافع اور پیسے بٹورنے کا مہینہ

| وقتِ اشاعت :  


ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی اشیاءخوردونوش سمیت ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہونے کی رواےت اب تک برقرار ہے حالانکہ اس مبارک ماہ کے دوران مسلم امہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ثواب اور نیکیاں سمیٹ کر دعائیںحاصل کریں مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں اس مبارک ماہ کو منافع کے طور پر لیاجاتا ہے ۔