وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں مجوزہ اضافے کی تجویز مسترد کر دی۔اوگرا کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 14.07 روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13.61 روپے، کیروسین (مٹی کے تیل) کی قیمت میں 10.79 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 7.43 روپے اضافہ تجویز کیا گیا تھا۔وزیر اعظم نے عوامی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی تجویز منظور نہیں کی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے ہر حد تک جائے گی۔
افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے، آئے روز بم دھماکے اور خود کش حملے رپورٹ ہورہے ہیں جس پر پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے امن عمل کو نقصان پہنچے گااور پورے خطے میں بدامنی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اس لئے ان واقعات کو روکنے کی اشد ضرورت ہے، حالانکہ افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے امریکہ اور افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ معاہدے بھی ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود بھی دونوں اطراف سے طاقت کے استعمال میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ الیکشن کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا۔وزیراعظم کی زیر صدارت تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کو فائنل کیا گیا اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد حتمی ناموں کا اعلان کیا گیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے لیے پنجاب سے سیف اللہ نیازی، اعجاز چوہدری، عون عباس، علی ظفر اور ڈاکٹر زرقا کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔سندھ سے فیصل واوڈا اور سیف اللہ ابڑو امیدوار ہوں گے۔
گرمیوں کی آمد سے قبل ہی عوام کو بجلی کے زوردار جھٹکے لگنے شروع ہوگئے،حکومت نے تین روز میں مسلسل تیسری بار بجلی کی قیمتیں بڑھا دیں۔وفاقی حکومت کی درخواست پر نیپرا نے بجلی ایک روپیہ 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ فیصلے کا اطلاق 50 یونٹ تک والے غریب صارفین پر بھی یکساں ہو گا جس سے صارفین پر 200 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔بجلی کا اوسط ٹیرف 14.38 سے بڑھ کر 16.33 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہو گا ۔
پاکستان نے نجی کمپنیوں کو بغیر پرائس کیپس کے کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔دستاویزات کے مطابق نیشنل ہیلتھ سروس، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن نے ایسی درآمدات پر خصوصی استثنیٰ مانگا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ نے اس تجویز کو منظوری دے دی ہے۔معان خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے کابینہ کے اس فیصلے کی تصدیق کردی ہے۔فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عوام کو فری کورونا ویکسی نیشن کے بارے میں منصوبہ بندی جاری ہے۔
گزشتہ روز سے ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے مبینہ ویڈیو میں حکومتی حلقوں کی جانب سے بھاری رقم لیتے ہوئے دکھایا جارہا ہے جس کے بعد ایک ہنگامہ برپاہوگیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔ بہرحال ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی بات الگ ہے مگر ملک میں سینیٹ کی نشست کیلئے بولی لگانے کا سلسلہ طویل عرصہ سے چلتا آرہا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت ایسی پارسا نہیں کہ اس نے ہارس ٹریڈنگ نہ کی ہو جو ہمارے یہاں کے کرپٹ نظام کی واضح مثال ہے۔ جب سیاست کے ایوانوں میں نمائندگان لانے کیلئے رقم کا استعمال ہو تو کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ملک میں معاشی خوشحالی اور عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی پرائس کمیٹیوں کو ختم کردیا ہے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں مہنگائی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی۔ نرخوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ذمہ داری ہم نے انتظامیہ کو منتقل کردی ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پورے شہر میں ایک ہی نرخ پر اشیاء خوردونوش کی قیمت نافذ کرے گی۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی ذمہ دار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کیلئے موثراقدامات کیے ہیں۔ ریوینیو لیکیج کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے جا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آرڈیننس مفروضاتی اصول پر مبنی ہے، صدر مملکت کو آرڈیننس کے اجراء سے نہیں روکا جاسکتا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر آرڈیننس میں کوئی تضاد ہے اورعدالت ریفرنس کا جواب نفی میں دیتی ہے تویہ خود بخود غیرمؤثر ہوجائے گا۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزراء سمیت دیگر انتخابات کا طریقہ کار خفیہ کیوں رکھا گیا ہے؟
وفاقی کابینہ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کی منظوری دیدی ۔اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ سے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کی منظوری سرکلر سمری کے ذریعے لی گئی۔ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق آرڈیننس تیار کر لیا ہے اور سینیٹ انتخابات سے متعلق آرڈیننس کا مسودہ وزیراعظم کوبھجوا دیا گیا ہے۔
ملک بھرمیں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تقاریب اور ریلیاں منعقد ہوئیں جن میں کشمیریوں کے ساتھ بھرپور انداز میں اظہار یکجہتی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کو آزاد رہنے یا پاکستان کا حصہ بننے کا حق دے گا،کشمیری پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے۔آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں یوم یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دنیا نے کشمیریوں سے ایک وعدہ کیا تھا، کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ نے اپنا حق ادا نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مسلم امہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔