بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟ اس سوال کو ہردور میں دہرایا گیا، ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہربار یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو یقینا اس پرتعجب کرنا احمقانہ بات ہے کیونکہ بلوچستان ملک کا نصف حصہ اور ایک بڑی اکائی ہے جس سے ناواقفیت مرکزی حکومتوں کی نااہلی ہے کیونکہ آپ اپنے ہی ملک کے ایک بڑے حصہ کے لوگوں کی محرومیوں اور پسماندگی سے اس قدر انجان ہیں تو ملکی انتظامی امور کو چلانے کی صلاحیت کہاں سے آئے گی، جو اندرونی معاملات کو حل نہیں کرسکتے تو بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ان کے پاس کیا پالیسیاں ہونگی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی قیادت نے عوام کی خدمت نہیں کی بلکہ حکمرانوں نے صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اقتدار کا استعمال کیا۔کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا کرپشن کا خاتمہ، غربت میں کمی اور عوامی خدمت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں بشمول سندھ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کررہی ہے۔ انتظامی اصلاحات اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے حقیقی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
ضلع کیچ میں حالیہ دو واقعات کے دوران دوخواتین کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔ بلیدہ کے علاقے ڈنک میں مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملک ناز بی بی شہید جبکہ ان کی کمسن بچی برمش شدید زخمی ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد بلوچستان سمیت کراچی میں سخت احتجاجی ردِعمل دیکھنے کو ملا اور جسٹس فاربرمش کے حوالے سے مہم چلائی گئی اور مطالبہ کیاگیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان اور ان کے سرغنہ کو گرفتار کرکے سخت سزادی جائے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا کیسز بڑھنے اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے سے متعلق 20 شہروں کی نشاندہی کردی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اسلام آباد،کراچی، لاہور،کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے 20 شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارش کردی ہے جس سے صوبوں کو آگاہ کردیا گیاہے۔ این سی او سی کے مطابق ملک کے 20 شہروں میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کوروناکا پھیلاؤ روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ان شہروں میں پابندیاں لگا دی جائیں۔
بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے وابستہ لوگوں کی امیدیں آئندہ چند سالوں میں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ بلوچستان کے عوام کو جتنے خوش کن خواب دکھائے گئے،اتنے ہی بدتر حالات کا انہیں سامنا کرناپڑا۔ 2013ء میں جب بلوچستان میں مخلوط حکومت تشکیل پائی تو اس میں مرکزی حکومت کے سربراہ نواز شریف کے ساتھ ملکر نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ میپ نے ایک فارمولہ طے کیا کہ بلوچستان میں حکومتی نظام کو چلانے کیلئے پہلے مرحلے میں وزیراعلیٰ کا عہدہ قوم پرست جماعت کو دیا جائے گا اور کابینہ مشترکہ طور پر تشکیل دی جائے گی جسے مری معاہدہ کے نام سے منسوب کیا گیا اور اس طرح نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ پہلے اڑھائی سال کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان بنے۔
گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ملک میں کسی بھی حکمران جماعت نے یہ بات تسلیم نہیں کی کہ ملک کے کسی بحران کا وہ ذمہ دار ہے، ہر نئی حکومت ماضی کی پالیسیوں کو کوستے ہوئے بری الذمہ ہونے کے بہانے نکالتی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ ماضی کی بدترین پالیسیوں کو بحرانات کی وجہ ٹھہرانے کے باوجود نئی پالیسیاں نظر نہیں آتیں جس طرح ماضی میں قرض لئے گئے اسی طرح آنے والی حکومت نے بھی آئی ایم ایف اورورلڈ بینک سے رجوع کیا،بیانات میں کوئی ردوبدل نہیں پالیسی بیان بھی یہی کہ سابقہ حکومت نے اتنے قرض لئے، مجبوراََ ہماری حکومت ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے قرض لے رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کیا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق صوبوں کو 2874 ارب روپے کی ادائیگی کرے گا جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 3700 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے قومی اقتصادی سروے برائے مالی سال2019-20 پیش کردیا ہے جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے 5 ہزارارب روپے کے قرضے واپس کیے ہیں اور آئندہ سال تین ہزار ارب واپس کیے جائیں گے۔رواں سال کے پہلے 9ماہ میں بیرونی قرضوں میں 3ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے قومی اقتصادی سروے پیش کیا جس میں بتایا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کرکے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی اپنائی جو کافی حد تک کامیاب رہی۔اقتصادی سروے کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ خسارے پرقابو پانے کیلئے2080 ارب روپے کا قرض لیا۔
کرونا وائرس کے آغاز سے پوری دنیا میں سخت لاک ڈاؤن کیا گیا، جب چین، اٹلی، ایران اور امریکہ میں کوروناوائرس کی وباء نے تباہی مچائی تو بیشتر ممالک نے ہر قسم کی نقل وحرکت کو محدود کرکے رکھ دیا۔ سب سے پہلے انہوں نے انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دی ناکہ اپنے معاشی شعبہ کے نقصان کے متعلق فکر مند ہوئے اور اس ہنگامی صورتحال میں تمام تر وسائل صحت کے شعبے پر لگائے تاکہ متاثرہ مریضوں کابروقت علاج ہوسکے اور یہ وباء تیزی سے نہ پھیلے، یہ فارمولا انتہائی کامیاب رہا۔ آج بعض ممالک نے لاک ڈاؤن ختم کردیا ہے،وہاں معمولات زندگی رواں دواں ہے مگر ہمارے ہاں کورنا وائرس کے کیسز میں نہ صرف تیزی آرہی ہے بلکہ اموات کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وفاقی وزیر عامر محمود کیانی کے خلاف انکوائری اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کیخلاف شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دے دی۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں 3 انکوائریوں اور شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دی گئی۔بورڈ نے سابق وفاقی وزیرعامر محمود کیانی کے خلاف انکوائری کی منظوری دی جبکہ سول ایوی ایشن اور سی ڈی اے کے افسران و اہلکاروں کے خلاف بھی انکوائریز کی منظوری دی گئی۔