دنیا میں سب سے پہلے اولیت اپنی معاشی پالیسی کو دی جاتی ہے مگر اس کی کامیابی کی بنیاد بہترین پالیسی اور قانون کی عملداری ہے، سیاستدانوں سے لے کر تمام شعبوں پر اسی شعبہ سے وابستہ ماہرین کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ گوکہ چند ممالک میں سرمایہ دار طبقہ اقتدار پر براجمان ہونے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کی تکمیل کیلئے اپنا سرمایہ اور اثرورسوخ لگاتا ہے تاکہ وہ اپنی تجارت اور کاروبار کو وسعت دے سکے مگر اس قدر بھی وہاں اتنی آزادی نہیں کہ عوامی دولت کو مال غنیمت سمجھ کر انتخابات کی جیت کے بعد لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں بلکہ وہاں قانون کی کسی حد تک عملداری اور احتساب کا ایک شفاف عمل بھی موجود ہے۔
ملک بھر میں جب سخت لاک ڈاؤن کافیصلہ کیا گیا تو سب سے پہلے تجارتی مراکز کی بندش کو یقینی بنایا گیا، اسی طرح دیگر سرکاری وغیر سرکاری محکموں میں ملازمین کی تعداد کو انتہائی کم رکھا گیا جبکہ صنعتوں،ریسٹورنٹس، تفریحی مقامات،کھیلوں کے میدان،فوڈپوائنٹس کو بھی اس لئے بند کیا گیا تاکہ کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلاؤ کو روکاجاسکے، ایک ماہ سے زائد تک یہ پابندیاں برقرار رہیں مگر دوسری جانب یہ خدشہ بھی اپنی جگہ برقرار تھا کہ ان پابندیوں کے باعث عوام کی بڑی تعداد روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھے گی اور تاجر برادری بھی دیوالیہ ہوجائے گی۔
کراچی پولیس کی ایک بدنام تاریخ رہی ہے کہ منشیات فروشوں کی سرپرستی وہ کرتی آئی ہے، کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ کراچی کے بعض علاقوں کے تھانوں میں چل رہا ہے چونکہ یہ پولیس آفیسران کے لئے کروڑوں روپے کمانے کا بڑا ذریعہ ہیں باقاعدہ طور پر پولیس آفیسران مختلف علاقوں میں تعیناتی کیلئے سفارشیں کراتے ہیں جس کے بعد وہ علاقے کے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر جرائم کرتے ہیں۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اور دلخراش واقعہ گزشتہ روز رونما ہو ا،دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، معصوم اور نہتے بچوں وخواتین پر حملے وحشیانہ اور بزدلانہ فعل ہے جس کی ہر سطح پر صرف مذمت ہی کی جارہی ہے بلکہ دنیا کے امن کے دعویداروں کو ایسے دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح پالیسی اپنانی چاہیے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ جنگی حالات کا سامنا کررہا ہے خاص کر افغانستان میں سب سے زیادہ انسانی تباہی دیکھنے کو ملی ہے جس کی ذمہ دار عالمی برادری ہے جس نے اپنے مفادات کے لئے اسے پراکسی کا حصہ بنادیا ہے۔
ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد اورکورونا وائرس کے پھیلاؤکی شرح کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وینٹی لیٹرز کے بہترین استعمال اور اس کے آسانی سے میسر آنے کیلئے مربوط حکمت عملی تیارکی جائے۔انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال، عوام کے مسائل اور دیگر ملکوں کی صورتحال کومدنظر رکھ کر لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تاکہ معاشی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر اس امر کا ادراک کیاجارہا ہے کہ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف وقتی عمل ہے، کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کوکسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
کووڈ19 کے کیسز سب سے پہلے چین میں رپورٹ ہوئے اس کے بعد یہ دنیا کے دیگر ممالک کو متاثر کرنے لگی،ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی، کورونا وائرس ایک نئی وباء جو دنیا کے سامنے آگئی، لمحہ بہ لمحہ کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے لگے جس سے ایک خوفناک صورتحال بن گئی۔ ابتدائی دنوں میں لوگ زیادہ خوف کا شکار ہو گئے کہ کس طرح کاقیامت ٹوٹ پڑاہے۔ پوری دنیا کے انسانوں کی نقل وحرکت کو مکمل طور پر محدود کردیا گیا، بیشتر ممالک نے لاک ڈاؤن کردیا،اسی طرح پاکستان میں جب کیسز رپورٹ ہونے لگے تو فوری طور پر پہلے سندھ بعد میں تمام صوبوں نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔
کورونا وائرس اور تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی نے خلیجی ممالک کو بڑے معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ملازمتوں سے محرومی اور مستقبل غیر یقینی ہونے کی وجہ سے لاکھوں غیرملکی ملازمین نے وطن واپسی کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔متحدہ عرب امارات میں 60 ہزار پاکستانی ملازمین نے وطن واپسی کے لیے خود کو رجسٹر کرالیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں بھارت، بنگلا دیش، مصر اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں ملازمین اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے۔
بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں ایس اوپیز کے تحت نرمی کافیصلہ کیا ہے خاص کر تاجر برادری اور عوام کی مشکلات کو مدِ رکھتے ہوئے وفاقی وصوبائی حکومتوں کے درمیان بات چیت کے بعد ملک بھر میں سخت پابندیوں کا خاتمہ کیا گیا ہے بشرطیکہ جو ایس او پیز لاگو کی گئیں ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ سہولت معاشی صورتحال کے پیش نظر دی گئی ہے تاکہ تاجر برادری اور عوام کی مشکلات کم ہوسکیں اورماہ صیام وعید کے لیے مزید پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ہدایات کی روشنی میں لاک ڈاؤن جائز ہ امور کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے ملکر ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کافیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوسکیں خاص کر معاشی حوالے سے لوگ جس طرح متاثر ہورہے ہیں مزید ان کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے کاروباری سرگرمیوں کو ایس اوپیز کے ذریعے کھولا جارہا ہے البتہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے بھی عوام کی اچھی خاصی آبادی کا معاشی حوالے سے براہ راست تعلق ہے اس پر اب تک پابندی برقرار ہے مگر وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس پر بھی ایس اوپیز بناکر ٹرانسپورٹ کوکھولاجائے گا مگر حتمی فیصلہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
وفاق اور پنجاب میں حکومت کے اتحادی ق لیگ کے رہنماء چوہدری برادران بھی قومی احتساب بیورو(نیب) کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔چوہدری برادران نے چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنیوالا ادارہ ہے۔چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ میں نیب کیخلاف دائر درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بھی دے چکی ہیں۔