ماحولیاتی آلودگی، کوئٹہ خطرناک شہروں میں شمار

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ بلوچستان کا دارالخلافہ ہے بدقسمتی سے سب سے زیادہ آلودگی اسی شہرمیں پائی جاتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی ادارے آلودگی سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ ابلتے ہوئے گٹر بند کردیں اور انسانی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے شہر کو صاف ستھرا رکھ سکیں۔ شہر میں کہیں بھی صفائی ستھرائی کاکام ہوتانظر نہیں آتاالبتہ کبھی کبھار شہر کے چند ایک علاقوں میں صفائی مہم دکھائی دیتی ہے اس کے علاوہ صفائی مہم محض دعویٰ ہی ثابت ہورہی ہے، کچرا اٹھانے والی گاڑیاں بھی شاذو نادر شہر کے سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔ سنیٹری کارکن سڑکوں اور گلیوں کو صاف کرتے نظر نہیں آتے وہ سرکاری ملازم ہیں لیکن سرکاری کام ہی نہیں کرتے۔ کوئٹہ شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی سے بچائے رکھنے کی پہلی ذمہ داری کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن پر عائد ہوتی ہے۔



بلوچستان میں بیروزگاری، مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روزبے روزگار ایسوسی ایشن اور سیاسی جماعتوں کی لانگ مارچ پر کوئٹہ پولیس نے دھاوا بول کر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت 100 سے زائد افراد کو گرفتارکرکے مختلف تھانوں میں بند کردیاجبکہ ردعمل میں سیاسی رہنماؤں اور بے روزگار ایسو سی ایشن کے رہنماؤں نے غنجہ ڈوری کے مقام پر 3 گھنٹے تک کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلاک کیا۔بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ بے روزگار ایسوسی ایشن کے لانگ مارچ کا مقصد چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے ایرانی تیل کی ترسیل پر حکومتی پابندی کا خاتمہ ہے جنہوں نے26 نومبر کو مستونگ سے کوئٹہ تک پیدل لانگ مارچ کیا۔



عالمی چپقلش، افغان جنگ

| وقتِ اشاعت :  


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ فغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔ طالبان معاہدہ کرنا چاہ رہے ہیں اس لیے ہم ان سے ملاقات کررہے ہیں،ہم کہتے ہیں کہ جنگ بندی ہونی چاہیے، وہ سیز فائر نہیں چاہتے تھے لیکن اب وہ بھی جنگ بندی چاہتے ہیں اور میرے خیال سے اب کام ہوجائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئے۔



لالاصدیق بلوچ اکیڈمی، صوبائی حکومت کا علم دوست اقدام

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کا سنگ بنیاد رکھ دیا،صدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کا مقصد صحافتی وعلمی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ صدیق بلوچ اکیڈمی میں صحافتی نیوزیم بھی تعمیر کی جائے گی تاکہ بلوچستان کی صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے اداروں اور شخصیات کے پورٹریٹ رکھے جاسکیں جو نوجوانوں کیلئے علمی حوالے سے فائدہ مند ثابت ہو۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاکہ موجودہ حکومت ہر شعبہ کی بہتری کیلئے پْرعزم ہے تاکہ صوبہ سے پسماندگی کا خاتمہ یقینی ہوسکے۔تقریب میں صوبائی وزراء ظہور بلیدی، میرضیاء لانگو، نصیب اللہ مری، عبدالخالق ہزارہ،بشریٰ رند،صدر پریس کلب کوئٹہ رضا الرحمان، جنرل سیکریٹری ظفر بلوچ سمیت سینئر صحافیوں اورعہدیداران نے شرکت کی۔واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں لالاصدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کے قیام کیلئے تین کروڑ روپے مختص کئے تھے جوکہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جسے صحافتی، ادبی وسیاسی حلقوں سمیت عوام میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔



غذائی قلت، خشک سالی سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں غذائی قلت کی بنیادی وجہ شدید خشک سالی ہے رواں سال کے دوران صوبے کے نوے فیصد علاقے قحط سالی کا شکار ہوئے تھے جس سے ماں اور بچوں کی صحت شدیدمتاثر ہوگئی تھی۔بلوچستان میں یہ سلسلہ 90ء کی دہائی کے بعد شروع ہوا ہے تاہم کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرتی گئی،اگر پیشگی اس پر منصوبہ بندی کی جاتی تو صورتحال اس قدر تشویشناک نہ ہوتی۔ کسی بھی شہر،علاقے یا کمیونٹی میں اگر پندرہ فیصد بچوں میں غذائی قلت پائی جائے تو وہاں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے،صوبے میں بچوں میں غذائی قلت کی کئی وجوہات ہیں جن میں غربت، پینے کیلئے صاف پانی کی عدم دستیابی، مناسب خوراک کی کمی،تعلیم اور آگاہی کا نہ ہونا شامل ہے جن سے بچوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔



غذائی قلت، خشک سالی سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں غذائی قلت کی بنیادی وجہ شدید خشک سالی ہے رواں سال کے دوران صوبے کے نوے فیصد علاقے قحط سالی کا شکار ہوئے تھے جس سے ماں اور بچوں کی صحت شدیدمتاثر ہوگئی تھی۔بلوچستان میں یہ سلسلہ 90ء کی دہائی کے بعد شروع ہوا ہے تاہم کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرتی گئی،اگر پیشگی اس پر منصوبہ بندی کی جاتی تو صورتحال اس قدر تشویشناک نہ ہوتی۔ کسی بھی شہر،علاقے یا کمیونٹی میں اگر پندرہ فیصد بچوں میں غذائی قلت پائی جائے تو وہاں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے،صوبے میں بچوں میں غذائی قلت کی کئی وجوہات ہیں جن میں غربت، پینے کیلئے صاف پانی کی عدم دستیابی، مناسب خوراک کی کمی،تعلیم اور آگاہی کا نہ ہونا شامل ہے جن سے بچوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔رواں سال شدید قحط سالی کے پیش نظر محکمہ صحت بلوچستان نے عالمی ادارے یونیسیف کے تعاون سے غذائی قلت کی صورتحال کا جائزہ لینے اور اقدامات کیلئے ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ بچوں کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا جس کے بعد گزشتہ برس دسمبر کے دوران پہلے مرحلے میں کوئٹہ،پشین اور قلعہ عبداللہ میں اسکریننگ کا عمل شروع کیا گیا۔



ایک پاکستان، سیاسی جماعتیں اورقانون کی بالادستی

| وقتِ اشاعت :  


سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوانے کیلئے وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے دائر درخواست میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کو 28 نومبر کو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔اپنی درخواست میں وزارت داخلہ نے مؤقف اپنایا ہے کہ سنگین غداری کیس میں پرویزمشرف کے شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا، پراسیکیوشن ٹیم کو 23 اکتوبر کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا مگر 24 اکتوبر کو اس نے بغیر اختیار کے مقدمہ کی پیروی کی۔



بلوچستان میں بیروزگاری

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان جوہر شعبہ زندگی میں دیگر صوبوں کی نسبت پیچھے ہے اس کی بنیادی وجہ یہاں شعبوں پر سرمایہ کاری کانہ ہونا ہے، تعلیم یافتہ نوجوانوں کا دارومدار سرکاری ملازمت پرہے کسی بھی محکمہ کیلئے جب آسامیوں کا اعلان کیا جاتا ہے تو اعداد وشمار سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی تعداد میں باصلاحیت،ہونہارنوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ مگر شکوہ کس سے کیا جائے کہ سرکاری محکموں کے علاوہ دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع نوجوانوں کیلئے کیوں پیدا نہیں کئے جاتے۔ بہرحال یہ دعوے ہر دور میں دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے پالیسیاں بنائی جارہی ہیں،وفاقی اور صوبائی حکومت سنجیدگی کے ساتھ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی پر خاص توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے محض طفل تسلیاں دی جارہی ہیں کسی ایک آدھ شعبہ کی مثال دی جائے جہاں روزگار پیدا کرنے کیلئے سرمایہ کاری کی گئی ہو، جبکہ دو سالوں کے دوران اتنے نوجوانوں کو روزگار فراہم کی گئی ہے اور آنے والے دوسالوں میں اس کی شرح کتنی ہوگی چونکہ کچھ ہے نہیں تو کس طرح سے اعداد وشمار دیئے جاسکتے ہیں البتہ دعوے ضرور کئے جاسکتے ہیں جو ہر حکومت وقت کا وطیرہ رہا ہے اور روایتی طرز حکمرانی کا حصہ بھی۔



سی پیک،امریکہ چین مدِ قابل، خطہ مزید جنگی ماحول کا متحمل نہیں ہوسکتا

| وقتِ اشاعت :  


سی پیک منصوبہ پر امریکی بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں ایک طرف امریکہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیتا ہے، وہیں پاکستان کو ہمدردانہ طور پر سی پیک سے دوررہنے کا بھی مشورہ دے ڈالا ہے۔ اس بیان سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ سی پیک سے امریکہ خوش نہیں ہے کیونکہ ہر ذی شعور شخص یہ بات جانتا ہے کہ خطے میں تھانیداری کی جنگ چل رہی ہے اور کوئی سپر پاور دوسرے بڑے ملک کو معاشی یا دفاعی حوالے سے طاقتور دیکھنا نہیں چاہتا۔ البتہ سی پیک کو فی الحال ایک معاشی اسٹریٹیجی کے طور پر دیکھا جارہا ہے مگر امریکہ نے اس کی دفاعی اسٹرٹیجی کی طرف اشارہ دیا ہے جس سے وہ خطے میں چینی معاشی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتااورپاکستان چین تعلقات کو معاشی حوالے سے مستحکم ہونے پر بھی نالاں دکھائی دے رہا ہے۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ امریکہ خود ایک سپر پاور کے طور پر پاکستان میں کونسی بڑی سرمایہ کاری کی ہے جس کی ایک بہترین مثال دی جاسکے البتہ یہ ضرور ہے کہ امریکہ کو جب بھی جنگی حالات میں پاکستان کی ضرورت پیش آئی تو پاکستان کو فرنٹ لائن کا اتحادی قرار دے دیا۔



ملکی نظام،شفاف احتساب کے دعوے

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں شفاف احتساب کے متعلق سب متفق دکھائی دیتے ہیں سیاسی جماعتوں سے لیکر حکمران، اپوزیشن جماعتیں یہاں تک عوام بھی یہی بات کرتی ہے کہ ملک کو کرپشن سے پاک کیاجائے مگر یہ اتنا آسان معاملہ نہیں کہ بیک وقت سب پر ہاتھ ڈال کر پیسہ قومی خزانے میں منتقل کیا جائے۔ حقائق کی بنیاد پر ملک میں جس دن احتساب شروع ہوا تو شاید ہی کوئی بچ سکے ہمارا نظام اس قدر کرپٹ ہوچکا ہے کہ عام لوگ بھی اس میں مجبوری کے تحت پھنس کر رہ گئے ہیں سیاسی جماعتوں کے قائدین پر اربوں روپے کے کرپشن کے الزامات ہیں تو عوام پر بجلی چوری، گیس چوری کی الزامات ہیں مگر یہ تمام مسئلہ نظام پر ہی آکر رک جاتا ہے کہ آپ ملک میں کس طرح کا نظام چاہتے ہیں تاکہ عام لوگ بھی مخلصانہ اور ایمانداری کے ساتھ وفاداری نبھائیں کیونکہ یہاں حلف اٹھاکر جو کام کیاجاتا ہے اس کی مثالیں خود سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اپنے بیانات کے ذریعے دیتے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوں سے چلتا آرہا ہے البتہ تبدیلی نہیں آئی۔