بلوچستان یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل،عدالت کا کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان یونیورسٹی میں ویڈیو اسکینڈل اور ہراسمنٹ کے معاملے پرگزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبداللہ بلوچ پرمشتمل دو رکنی بینچ نے جامعہ بلوچستان اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کا معاملہ پورے صوبے کامعاملہ ہے، ہمارے بچے جامعہ بلوچستان میں پڑھتے ہیں،سب کی نظریں تحقیقاتی اداروں اور پارلیمانی کمیٹی پر ہیں،عدالت کسی بھی ادارے پر اثرانداز نہیں ہوگی تاہم آخری فیصلہ عدالت ہی کریگی۔غیر متعلقہ افراد کو فوری طورپر یونیورسٹی اور ہاسٹلز سے بے دخل کیاجائے۔



افغان امن عمل، مذاکرات کیلئے نئی امیدیں

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان اور بعض دوسرے ممالک کی کوششوں سے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات جلد بحال ہونے کا امکان ہے۔اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہی رکھنے والے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سمیت مذاکرات کی بحالی کیلئے کوشش کرنے دیگروالے ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان میں جاری 18 سالہ جنگ کا خاتمہ ہو،افغان طالبان اور امریکا کے درمیان گزشتہ مہینے معاہدہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مسلسل حملوں کے باعث یہ امن عمل معطل کر دیا۔



بلوچستان کی ترقی، آزادمقامی حکومتوں کی تشکیل

| وقتِ اشاعت :  


وزیر اعظم عمران خان نے مقامی حکومتوں کے نظام پر جلد از جلد عملدرآمد پر زور دیا اور تا کید کی کہ اس سلسلے میں پلان کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے کیونکہ ہمارے شہر اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتے جب تک ان میں موثر انتظامی نظام قابل عمل نہیں ہوتا۔عمران خان نے ان خیالات کا اظہار آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔



دھرنا، سیاسی دنگل، ملکی مفاد میں نہیں

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی دنگل سجے گا یا اس سے قبل مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا،فی الحال مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے امکانات بہت ہی کم نظر آرہے ہیں چونکہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ سرفہرست ہے اور اب تک وہ اسی مطالبہ پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ حکومت نے اس حوالے سے دوٹوک جواب دیا ہے کہ دیگر مطالبات پر بات چیت ہوسکتی ہے مگر وزیراعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں ہوگی جس پر وزیراعظم عمران خان بھی اپنا مؤقف دے چکے ہیں کہ وہ استعفیٰ نہیں دینگے جس سے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کامارچ اسلام آباد کی طرف بڑھے گا تو ایسے میں یقینا تصادم کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔مگر یہ ملک کے وسیع ترمفاد میں نہیں ہوگا۔



عوام میں عدم تحفظ کا احساس،انصاف کا دوہرامعیار

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ایسا دوہرانظام چلتا آرہا ہے کہ اسے چیلنج کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس اسی نظام کا حصہ ہے۔گزشتہ روز ساہیوال سانحہ میں ملزمان کی بریت کا معاملہ زیر بحث ہے گوکہ عدم شہادت کی بنیاد پر ان ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر رہا کردیا گیا ہے مگر اس فیصلہ نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،وہی لواحقین جو واقعہ کے بعد سراپااحتجاج دکھائی دے رہے تھے اور میڈیا پر انہوں نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز فون موصول ہورہے ہیں یقینا وہ فون اسی کیس سے جڑے ملزمان کے متعلق ہی آرہے تھے۔



عوام میں عدم تحفظ کا احساس،انصاف کا دوہرامعیار

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ایسا دوہرانظام چلتا آرہا ہے کہ اسے چیلنج کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس اسی نظام کا حصہ ہے۔گزشتہ روز ساہیوال سانحہ میں ملزمان کی بریت کا معاملہ زیر بحث ہے گوکہ عدم شہادت کی بنیاد پر ان ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر رہا کردیا گیا ہے مگر اس فیصلہ نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،وہی لواحقین جو واقعہ کے بعد سراپااحتجاج دکھائی دے رہے تھے اور میڈیا پر انہوں نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز فون موصول ہورہے ہیں یقینا وہ فون اسی کیس سے جڑے ملزمان کے متعلق ہی آرہے تھے۔



دھرناسیاست،معاشی تنزلی، عوامی مسائل

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے دوران دھرنے اور مارچ کے متعلق امور پر غور وخوض کیا گیا جبکہ اپوزیشن سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کے متعلق وزیراعظم کواعتماد میں لیا، پرویزخٹک نے کہاکہ کوشش کریں گے کہ 27 اکتوبر سے پہلے اپوزیشن کو مذاکرات پرآمادہ کرلیں، امید ہے مولانا فضل الرحمان ہماری بات مان جائیں گے۔



سیاسی رویوں میں بہتری، کشیدگی میں کمی لاسکتی ہے

| وقتِ اشاعت :  


سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی آج کی نہیں بلکہ دہائیوں سے چلتی آرہی ہے سابقہ حریف آج اتحادی کے طور پر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں البتہ سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں حالات اوروقت کے تقاضوں کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔موجودہ سیاسی صورتحال بھی ماضی کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہے بہرحال اختلافات ایک حد تک ہونی چاہئیں تاکہ اس سے منفی تاثر قطعاََ نہ جائے۔



بھارتی پروپیگنڈہ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب

| وقتِ اشاعت :  


بھارت اپنی جارحانہ روش پر برقرار رہتے ہوئے ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کرتا آرہا ہے عام آبادی اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے جس سے معصوم شہری شہید ہورہے ہیں۔بھارتی انتہاء پسند حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہونے کے بعد من گھڑت اور جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہی ہے جبکہ بھارتی میڈیا پروپیگنڈہ مشینری کے طور پر مودی کے احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے منفی اور اشتعال انگیز جھوٹ پر مبنی رپورٹنگ کررہی ہے۔



اسلام آباد لاک ڈاؤن، ملک کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا

| وقتِ اشاعت :  


27اکتوبر قریب آتے ہی سیاسی ماحول میں گہماگہمی بڑھتی جارہی ہے، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مارچ میں شرکت کی بھرپور حمایت سامنے آرہی ہے جبکہ دھرنے کے متعلق اب تک کچھ بھی واضح نہیں ہے مگر جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان تاحال برقرار ہے۔مسلم لیگ ن، اے این پی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ دھرنے میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے اپنا الگ مؤقف رکھتی ہے۔