فوڈ اتھارٹی کی فعالیت ضروری

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں گزشتہ کئی عرصوں سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی غیر فعال رہی ہے جبکہ دیگر صوبوں خاص کر پنجاب اور سندھ میں فوڈ اتھارٹی کو مکمل فعال بنایا گیا ہے، بلوچستان میں فوڈ اتھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے عموماََ غیر معیار ی غذائی اجناس کی فروخت کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جبکہ اشیاء خورد ونوش میں ملاوٹ بھی عام بات ہے ۔



بلوچستان کا مزدور طبقہ، استحصال کا شکار

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کا واحد صنعتی زون ڈسٹرکٹ لسبیلہ ہے مگر یہاں کی صنعتوں میں بیشتر مزدوروں کا تعلق سندھ کراچی شہر سے ہے جبکہ مقامی آبادی کا اچھا خاصا حصہ روزگار سے محروم ہے، بلوچستان میں دوسری بڑی صنعت کوئلہ کان کنی ہے المیہ یہ ہے کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے سے انہیں ماہانہ معاوضہ نہ صرف کم دیاجاتا ہے بلکہ ان کی جانوں کی حفاظت کیلئے بھی کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے بڑے بڑے حادثات پیش آتے ہیں۔



پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی کوششیں

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے ایک جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ، بھارت کی جانب سے انتہائی جارحانہ رویہ اپنایا گیا جبکہ پاکستان نے اس تمام صورتحال کے دوران کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی مگر معاملہ اس وقت خراب ہوا جب بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر حملہ کیا اور جھوٹے پروپیگنڈے شروع کئے۔ 



خطہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابہی نندن کو رہا کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو پذیرائی ملی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان امن اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل چاہتا ہے۔



خطے میں بگڑتی صورتحال ، پاکستان کی امن پیشکش

| وقتِ اشاعت :  


-خطے میں امن وامان کی صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں سے خراب ہے جس کی بہتری کیلئے پاکستان نے بارہا پہل کرتے ہوئے امن اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر زور دیا اور اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی ہر معاملے کو میز پر بیٹھ کر حل کرنے کا کہا مگر بھارت کی جانب سے ہمیشہ منفی جواب آیا۔ 



بھارتی دعوے، پاکستان بھرپورجواب دے گا

| وقتِ اشاعت :  


پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت منفی پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی ناکامی اور کوتاہیوں کو چھپارہا ہے اور ایک جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ پلوامہ واقعہ پر بھارتی الزامات پر ان کے اپنے ہی ملک کے اندر سوالات اٹھائے جارہے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں ۔



سوئی گیس کمپنی پیسہ بٹورنے میں مصروف

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے ساتھ تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیاہے،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوتا گیا۔ سوئی گیس اور او جی ڈی سی ایل کے سربراہان نے بلوچستان کے صرف ترقیاتی اسکیموں کا ذکر کیا اور ان کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دونوں کمپنیوں نے تیل اور گیس کی تلاش کی بات کبھی نہیں کی۔ 



مضرصحت کھانے کی فروخت کب تک

| وقتِ اشاعت :  


کراچی میں ایک ریستوران میں مضر صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ گزشتہ روز کراچی میں ایک نجی ریسٹورنٹ سے مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 5 کمسن بہن بھائی جبکہ ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جوکہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔



بلوچستان میں بارشیں، پانی ذخیرہ کا منصوبہ موجود نہیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے قحط سالی کی لپیٹ میں ہے ، مطلوبہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے بعض اضلاع کو قحط سالی کا سامنا ہے ، صوبہ میں حالیہ بارشوں سے کسی حد تک خشک سالی سے نمٹا جاسکتا تھا مگر بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی خاص منصوبہ نہیں بنایا جس کی وجہ سے حالیہ بارشوں نے تباہی زیادہ مچائی۔