بلوچستان میں غربت کی شرح دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ روزگار کا فقدان ہے ، لے دے کے ایک سرکاری ملازمتیں بچتی ہیں جو کہ حکومت پر زیادہ بوجھ ہے حالانکہ صوبہ میں بہت سے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے مگر یہاں کے عوام کو ان منصوبوں سے روزگار فراہم نہیں کیا گیا۔
بھارت کے ساتھ جب بھی پاکستان نے مذاکرات کرنے اورخطے میں امن کیلئے بات کی، جواب نفی میں ملا، بھارت کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتاجب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے بغیر کسی ثبوت، تحقیق اور دلیل کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے، اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پلوامہ میں حملہ ہوا تو چند گھنٹے ہی نہیں گزرے تھے کہ بھارتی میڈیا نے واویلا مچانا شروع کردیا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔
سعودی ولی عہد کے دو روزہ دورہ کے بعدپاکستان سعودی تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دی جارہی ہے ، پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے یقیناًپاکستان میں بڑی معاشی تبدیلی رونما ہوگی۔ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں سے یہ امید پیدا ہوچکی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں تجارتی تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے اور دیگر شعبوں پر بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمداورلک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو حکومت کی اب تک سب سے بڑی کامیابی گردانا جارہا ہے اور سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اسے سراہاجارہا ہے۔سعودی سرمایہ کاری کے بعد ملک میں ایک بڑی معاشی تبدیلی آئے گی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشی بحران اور دیگر چیلنجز کا سامنا کررہا ہے مگر اب امید پیدا ہوگئی ہے کہ سعودی سرمایہ کاری کے بعد ہم معاشی اہداف سمیت دیگر بحرانات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہونگے۔
بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار جہاں وفاقی حکومتیں رہیں ہیں، وہیں یہاں کی صوبائی حکومتوں نے بھی سیاسی مصلحت پسندی کے تحت عوامی خواہشات کے برعکس حکمرانی کی۔ بلوچستان کے وسائل پر وفاق،مختلف کمپنیوں سمیت یہاں کے وزراء اور آفیسران نے ہاتھ صاف کئے ، صوبے کے میگا منصوبوں سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہاں کے وسائل لوٹ لیے گئے اور صوبے کو نہ ہی کبھی اس کا حق دیا گیا۔
پاکستان میں سعودی عرب 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے جس میں خاص کر آئل ریفائنری گوادرشامل ہے، اس کے ساتھ دیگر تجارتی معاہدے بھی کئے جائینگے ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ماضی میں بھی خوشگوار تعلقات رہے ہیں مگر تجارتی حوالے سے اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔
خطے میں بڑھتے مسائل اور تبدیلی نے کسی حد تک مسلم ممالک کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ جس طرح سے گزشتہ بیس سالوں کے دوران ایک خلیج دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اس نے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کو متاثر کررکھا ہے۔
بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے ، اس کی آبادی پھیلی ہوئی ہے جہاں صحت جیسی سہولیات کی بروقت فراہمی انتہائی مشکل اور ایک چیلنج سے کم نہیں۔ صوبہ میں موذی امراض کا بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے ۔
ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولزایک منافع بخش کاروبار کا روپ دھار چکے ہیں اس کی ایک وجہ سرکاری اسکولوں میں بہترسہولیات کا فقدان، ہنرمندو تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی، بچوں کی بہتر ذہنی نشوونما کیلئے تربیت کی عدم فراہمی اور تعلیمی ماحول کا نہ ہونا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں پر توجہ مرکوز کی جاتی اور ان میں تعلیمی ماحول کیلئے کام کیاجاتا تو شاید آج ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار نہیں ہوتی ۔
پاکستان اور ایران کے درمیان طویل مدت سے برادرانہ اور اچھی ہمسائیگی کے تعلقات ہیں بلکہ ایران دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے پاکستان کو ایک نئی ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے۔ پاکستان اور ایران کئی دہائیوں تک فوجی معاملات میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے۔ بھارت کے خلاف دو جنگوں میں ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا بلکہ 1965کی جنگ سے قبل پاکستان نے رن آف کچھ کے تنازعہ میں ایران کو اپنا ثالث مقرر کیا تھا جو اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی اور قربت کافی پراناہے۔