بلوچستان کی مقامی قیادت کو اہمیت دی جائے

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے متعلق جب بھی مرکز میں گونج اٹھی ہے تو حسب روایت وہی روایتی طرز اپنا یا گیا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر ان کو حق دیا جائے تو وہاں کے لوگوں میں موجود احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا۔یہ صرف ہمدردانہ بیانات تک ہی محدود رہا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلتاآرہا ہے۔ 



بلوچستان کی غیر محفوظ شاہراہیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کا رونما ہونا معمول کی بات ہے مگر سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ شاہراہوں پر حادثات کے باعث بیشتر متاثرہ افراد راستے میں ہی دم توڑدیتے ہیں جس کی بڑی وجہ معالج گاہوں کا نہ ہونا ہے اور جہاں کہیں چھوٹے چھوٹے صحت مراکز ہیں وہاں عملہ نہیں ہوتا،کہ حادثے کے شکار افرادکو بروقت طبی امداد دی جاسکے ۔



حکومت اور ڈاکٹرں کے درمیان کشیدگی کا ماحول

| وقتِ اشاعت :  


محکمہ صحت نے بلوچستان بھر میں دن کے دفتری اوقات کارصبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، او پی ڈی سے غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی، تمام ڈپٹی کمشنر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ضلعی صحت آفیسران کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔



میگا منصوبوں میں صوبائی حکومت کی شراکت داری

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان اپنے وسائل ،جغرافیائی محل وقوع اورملک کا نصف حصہ ہونے کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے، ان تمام خصوصیات کے باوجود یہ خطہ آج تک پسماندہ ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ یہاں مرکز کی جانب سے خاص توجہ نہیں دی گئی ، ستر سالوں کے دوران یہاں سے ہر قسم کا فائدہ اٹھایا گیا مگر بلوچستان کو اپنے وسائل سے دھیلا تک نہیں ملا۔



بلوچستان کے ڈاکٹر سڑکوں پر،عوام درپہ در

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے بائیکاٹ کو چالیس روز سے زائد دن گزرگئے ہیں ،نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی عدم بازیابی کیلئے یہ احتجاج جاری ہے ۔ڈاکٹر تنظیموں کے مطابق گزشتہ 8 سالوں کے دوران 33 ڈاکٹرز اغواء ہوئے ہیں، 18 ڈاکٹروں کو قتل کیا گیا،100 کے قریب ڈاکٹر عدم تحفظ کی وجہ سے صوبہ چھوڑ کر جاچکے ہیں اور اب بھی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد خوف کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں میں اپنا تبادلہ کرانے کی درخواستیں دے رہے ہیں۔



بیرونی سرمایہ کاری، کرپشن فری پاکستان

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں مختلف ادوار کے دوران بے تحاشہ کرپشن کی گئی جس کی ایک وجہ کاروباری سیاسی مائنڈ سیٹ ہے ، ملک میں کاروباری شخصیات نے سیاست کو بہترین کاروبار سمجھ کر اس میں پنجے گاڑھ دیئے اور اس طرح پورے نظام کو کرپٹ کرکے رکھ دیا ،اوپر سے نیچے کی سطح تک ریکارڈ کرپشن کی گئی ۔ 



ساہیوال سانحہ، جے آئی ٹی رپورٹ کاانتظار

| وقتِ اشاعت :  


میڈیا رپورٹس کے مطابق انسداد محکمہ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ساہیوال میں کارروائی کی نئی فوٹیج موصول ہوگئی ہے جو مبینہ مقابلے کے وقت سڑک پر پیچھے کھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شہری نے موبائل سے بنائی۔موبائل سے بنائی گئی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا گیاکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی کو ٹکر مار کر روکا اور پہلے گاڑی سے بچوں کو اتارا جس کے چند سیکنڈز بعد اہلکاروں نے سیدھی فائرنگ کردی گاڑی میں ذیشان اور مہرخلیل کی جانب سے جوابی فائرنگ نہیں کی گئی۔



سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ حکومت کے دوران سیف سٹی پروجیکٹ کی بنیاد رکھی گئی تھی تاکہ شہر میں درپیش دہشت گردی کے واقعات سے بروقت نمٹا جاسکے جس کیلئے 14 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے جن کی مانیٹرنگ آئی جی آفس سے کی جائے گی جس کیلئے جگہ بھی مختص کی گئی ہے۔



افغانستان میں عالمی طاقتوں کی موجودگی اور مذاکرات

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان کے حوالے سے مذاکرات میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے البتہ مذاکرات کے خاص نتائج برآمد نہیں ہورہے مگر کوشش پوری طرح سے جاری ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے مذاکرات کامیابی طرف جاسکیں۔