بلوچستان میں ہر دوسرا منصوبہ کرپشن کی نظر

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں عموماََ یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ بیشتر منصوبے تاخیر کا شکار ہیں یا تو پھر ان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اسی وجہ سے عوامی نوعیت کا کوئی منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں پورا نہیں ہوتا، گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس کے دوران پی ایس ڈی پی پر خاص غور کیا گیا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ عرصہ دراز سے جاری تاخیر کے شکار منصوبوں کے لیے رقم کی اجراء نہیں ہوگی ۔



ازخودنوٹس کا کم استعمال اورمقدمات کو جلد نمٹانے کا عزم

| وقتِ اشاعت :  


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ان کی جگہ لینے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جہاں دیگر اہم باتوں کی جانب اشارہ کیا، وہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ از خود نوٹس کا استعمال صرف اس صورت میں کریں گے جب کوئی صورت نہیں ہوگی۔



فوڈاتھارٹی کی فعالی،حکومت کااہم فیصلہ

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو سیکریٹری محکمہ خوراک وفوڈ سیکیورٹی نے محکمانہ امور پر بریفنگ دی، سیکرٹری خوراک نے وزیراعلیٰ کو صوبے کے مختلف اضلاع کے گوداموں میں موجود گندم کے ذخائر، گوداموں میں ویٹ مینجمنٹ سسٹم کے قیام اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فعالی سمیت دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 



خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ابترصورتحال

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑگیا ہے، 90 فیصد علاقے متاثر ہونے کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد مشترکہ طور پر منظور کی گئی تھی جس میں یہ زور دیا گیا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پرامدادی کاموں کا آغاز کیاجائے۔



ڈاکٹرابراہیم خلیل کی عدم بازیابی

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں ڈاکٹروں کی اغواء کاری کا تاثر صوبہ کیلئے انتہائی تشویشناک ہے، ملک کے دیگر حصوں میں اب یہ بحث ہورہی ہے کہ بلوچستان ڈاکٹروں کے لئے غیر محفوظ صوبہ بن گیاہے۔مسلسل اغوا ء اور قتل کی وارداتوں کے بعد 100 سے زائد ڈاکٹر صوبہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔



اہم منصوبوں میں بلوچستان کا حصہ

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان سے یہ صدا بلندہورہی ہے کہ یہاں کے وسائل پر عوام کو واک واختیار دیا جائے تاکہ صوبہ پسماندگی کی دلدل سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کاروز اول سے یہ مطالبہ رہا ہے اور بارہا سابقہ وفاقی حکومتوں کی اس اہم مسئلے کی جانب توجہ بھی مبذول کروائی گئی مگر بدقسمتی سے ہمیشہ سنی کو اَن سنی کردیا گیا جس کے باعث یہاں کے عوام میں وفاق کے خلاف منفی رائے پائے جاتی ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے صرف مرکز ہی فائدہ اٹھارہا ہے اوراپنے منظور نظر علاقوں کو ترقی دے رہا ہے۔



بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں بہتری کے امکانات

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ ضلعی سطح پر تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ۔گزشتہ روز بلوچستان کابینہ نے محکمہ تعلیم میں 9سے 15گریڈ کے ٹیچنگ اسٹاف کی بھرتی کی پالیسی میں ترمیم اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتی کی پالیسی کی اصولی منظوری دی۔



بلوچستان کی لوٹی ہوئی دولت کیلئے کڑااحتساب ضروری ہے

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں پیش ہونے والے بجٹ ہمیشہ خسارے کا ہوتے ہیں جن میں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، گزشتہ حکومت کے دوران ہر سال تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اربوں روپے رکھے گئے۔ 



پاک ایران معاشی تعلقات: اہم پیشرفت

| وقتِ اشاعت :  


پاک ایران برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ تعلقات صرف سرکاری سطح پر محدود نہیں رہنے چائیں بلکہ ان کو وسعت دی جائے تاکہ دو طرفہ تجارت اور آمد و رفت میں اضافہ ہو۔ اس مقصد کے لئے ہم نے ہمیشہ ایران ‘ پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کی حمایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ اس کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ 



بلوچستان میں پانی بحران: مستقل حل کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں حالیہ قحط سالی سے 20 زائد اضلاع متاثر ہوئے ہیں، خشک سالی کی وجہ صوبے میں بارشوں کا نہ ہونا ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر آر او پلانٹ نصب کئے جارہے ہیں تاکہ متاثرین کو صاف پانی فراہم ہوسکے،یہ کسی حد تک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تو بہتر ہے البتہ مستقل حل نہیں ہے۔