اساتذہ کا احتجاج، صوبہ میں تعلیم کی صورتحال

| وقتِ اشاعت :  


تعلیمی ایکٹ 2018 ء کے بعد اساتذہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے البتہ اس ایکٹ کو ابھی تک اسمبلی سے منظور نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر مفصل بحث ہونا ہے جس پر اپوزیشن بھی اپنا مؤقف پیش کرے گی۔ اساتذہ کو دنیا کے ہر معاشرہ میں اعلیٰ مقام اور عزت دی جاتی ہے۔



بلوچستان میں پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم

| وقتِ اشاعت :  


سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم کرکے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پانی کے بحران سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ 



تعلیمی ایکٹ2018، حکومت بلوچستان کا تعلیم دوست فیصلہ

| وقتِ اشاعت :  


حکومت بلوچستان نے صوبہ میں محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور بہتری کیلئے تعلیمی ایکٹ 2018 متعارف کرانے کافیصلہ کیا ہے، ایکٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے ہڑتال، احتجاج، بائیکاٹ کرنے والوں کو ایک سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ اساتذہ کو اکسانے اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کو 6ماہ قید 3لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا یادونوں سزائیں بیک وقت لاگو ہوسکتی ہیں۔ 



معاشی بحران اور روایتی طرز حکمرانی

| وقتِ اشاعت :  


ملکی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی حکومت رہی ہو جس نے قرض نہ لیا ہو، اپوزیشن میں بیٹھ کر تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت وقت کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا، یہ ہماری سیاسی روایات رہی ہیں۔حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھ کر ہم نے کبھی بھی ملکی معیشت کو بہترکرنے کیلئے معاشی ماہرین سے استفادہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کو اس قابل سمجھا کہ وہ ملک میں معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ 



سی پیک منصوبہ،سابقہ حکومتوں کی چشم پوشی

| وقتِ اشاعت :  


چائنا پاک اکنامک کوریڈور کا چرچا روز اول سے جاری ہے، سابقہ وفاقی اور بلوچستان کے حکمرانوں نے اس کااتنا ڈھول پیٹا گویا سی پیک کے تمام اہم منصوبوں میں بلوچستان کی برائے راست شراکت داری ہے اور اس منصوبہ کے آغاز سے بلوچستان میں دودھ اورشہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔



معاشی ترقی، امن کے بغیر ناممکن

| وقتِ اشاعت :  


کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے امن اولین شرط ہے ،ہمارے ہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک جنگی ماحول رہا ہے جس سے صرف افغانستان متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے برائے راست پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔



بلوچستا ن کو بلوچستان کی گیس میسر نہیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو یہاں کے عوام کوکوئی ریلیف فراہم کر رہا ہو۔بلوچستان کے ساتھ ناروا طرز حکمرانی کی طویل داستان ہے،یہاں کے و سائل کے سوا وفاق اور وفاقی ادارروں کی دلچسپی کامرکز بلوچستان کبھی رہا ہی نہیں ، یہاں کے وسائل سے وفاق برائے راست فائدہ اٹھارہاہے لیکن یہاں کے لوگ کس حال میں جی رہے ہیں یا مر رہے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ 



تاپی گیس پائپ لائن، خطے کیلئے امن کا راستہ

| وقتِ اشاعت :  


ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے (تاپی) پر کام آئندہ برس کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو کر اگلے ڈھائی سال میں مکمل ہو جائے گا۔یہ بات اسلام آباد میں جمعہ کو منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شامل مقررین نے کہی جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز نے کیا تھا۔



عالمی سطح پرپاکستان کی اہمیت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان اپنے جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کیلئے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، مشرق وسطیٰ اور سینیٹرل ایشیاء تک تجارت راستے پاکستان سے گزرتے ہیں جو کہ تجارتی ودفاعی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ بات الگ ہے کہ گزشتہ جتنی بھی حکومتیں بنیں انہوں نے خاص طور پر تجارتی حوالے سے اس کی اہمیت کو اجاگرنہیں کیا۔



بلوچستان میں چھوٹے ڈیموں کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


زراعت بلوچستان کی معیشت کا شہ رگ ہے۔ تقریباً اسی فیصد یا اس سے زائد آبادی کا انحصار زراعت اور زرعی پیداوار پر ہے۔ باقی تمام شعبے صرف بیس فیصد آبادی کی ضروریات پوری کرتے ہیں ان میں سرفہرست ماہی گیری ‘ گلہ بانی اور معدنیات ہیں ، بہر حال بلوچستان کی ترقی اور لوگوں کے خوشحالی کا تعلق زراعت کی ترقی پر ہے۔ یہ سب سے امید افزاء بات ہے کہ زراعت کے شعبے میں زیادہ قابل اور تعلیم یافتہ ریسرچ اسکالرز ہیں ۔