کرپٹ مافیا سے چھٹکارا

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں طویل عرصہ سے ایک ہی طبقہ حکمرانی کرتا آرہا ہے مگر اس بات کی ذمہ داری آج تک کسی نے اپنے سر نہیں لی کہ اس سرزمین کی پسماندگی کے ذمہ دار ہم ہیں، حکومتیں بدلتی گئیں مگر چہرے نہیں بدلے۔



بلوچستان میں آبی بحران

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں خشک سالی اور زیرزمین پانی کی سطح گرنے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتاجارہا ہے۔ بلوچستان میں نصف صدی قبل کاریز اور چشموں کا پانی دور تک بہتا دکھائی دیتا تھا اور 20 سے 25 فٹ کے فاصلے پر کنوؤں کی کھدائی پر پانی نکل آتا تھا۔



شٹل ٹرین کوئٹہ کی اہم ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ کے شہری ماس ٹرانزٹ کی سہولت سے محروم ہیں یوں لوگوں کو دہائیوں پرانی بسوں اور رکشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ یہاں ریلوے کا بہتر نظام موجود ہے جس نے عوام کی ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک خدمت کی ہے۔



بلوچستان میں معاشی اصلاحات

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان وسائل کے لحاظ سے مالامال خطہ ہے مگر اس کے لوگ انتہائی غریب ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں، دیہی علاقوں میں رہنے والی پوری آبادی کو کسی قسم کی سہولیات حاصل نہیں۔



بلوچستان کابینہ کے اہم فیصلے

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے جن غیرمعیاری ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیاگیاجبکہ متعلقہ محکموں کو انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔



سریاب، بنیادی سہولیات سے محروم

| وقتِ اشاعت :  


سریاب کے مکین آج کے جدید دور میں بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں ۔اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی کہ صوبائی دارالحکومت کی سب سے بڑی کچھی آبادی کو شہری سہولیات کیسے فراہم کی جائیں گی ۔



بلوچستان میں امن ضروری ہے

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت گزشتہ روز نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے پہلے اجلاس کے دوران نیکٹا کے بطور ادارہ کردار اور کام سے متعلق جائزہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔



بلوچستان آج بھی گیس سے محروم

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں 1953ء میں قدرتی گیس ،سوئی کے مقام پر دریافت ہوئی تھی اس لئے اس کوسوئی گیس کانام دیا گیاجس کے بعد پیرکوہ، لوٹی اور اوچ میں بھی قدرتی گیس دریافت ہوئی، یہ بگٹی قبائلی علاقے میں واقع ہیں۔



گوادر، بلوچستان کا سرمایہ

| وقتِ اشاعت :  


گوادر پورٹ فعال ہونے سے ملکی خزانہ کو 10 ارب ڈالر سالانہ آمدن ہوسکتی ہے، 2006ء میں گوادر پورٹ میں مشرف دورحکومت میں تین برتھ بنائے گئے، گوادر اپنے محل وقوع اور گہرے سمندر کی وجہ سے خطے میں بڑا گیم چینجر ہے۔