اقامتی اسکولوں کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان اپنے قیام کے70سال پورا کرچکا ہے ۔ یہ عرصہ کسی بھی ریاست کو سنبھلنے اور ترقی یافتہ بننے کے لیے کافی ہے کیونکہ اس کی زندہ مثالیں وہ ممالک ہیں جنہوں نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی اور بہتر طرز حکومت سے اپنے مسائل حل کئے اور ترقی کی دوڑ میں ہم آج ان کر گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔باقی مسائل تو ایک طرف ،سب سے اہم اور بنیادی چیز تعلیم پر بھی ہم وقت گزاری سے کام لیتے رہے۔



بلوچستان میں مردم شماری اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات

| وقتِ اشاعت :  


ملک بھر میں مردم شماری کے اعلان کے بعدبلوچستان میں تمام بلوچ سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی جانب سے شدید تحفظات کااظہارکیاجارہا ہے اس کے باوجود کہ مردم شماری انتہائی ضروری ہے کیونکہ بلوچستان میں مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ میں اس کا حصہ بہت کم مل رہا ہے اور بلوچستان ترقی کے عمل میں دیگر صوبوں کی نسبت بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔



حکومتی خزانہ صرف سرمایہ داروں کے لئے

| وقتِ اشاعت :  


جب بھی ملک میں تاجروں کی حکومت آتی ہے تو تاجر حضرات کسی نہ کسی بہانے ریاستی خزانے سے اربوں روپے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ یہ امداد ان ارب پتی تاجروں کو صرف اور صرف تاجروں کی حکومت کے دوران ہی ملتی ہے۔ فوجی حکومت میں شاذ و نادر ہی ان کو اس طرح کی امداد ملتی ہو۔ پی پی پی اور دیگر پارٹیوں سے تاجر



بلوچستان صرف بلوچوں کے لیے

| وقتِ اشاعت :  


ایک خاص منصوبے کے تحت افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو بلو چستان میں بسایا گیا تاکہ بلوچوں کو اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں بلوچ اس بابت اچھی طرح آگاہ ہیں۔کیونکہ ریاست نے بھی بلوچ عوام کا اعتماد جیتنے بجائے



کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ

| وقتِ اشاعت :  


جمعہ کے دن بعض افغان باشندوں نے جن کی سربراہی این ڈی ایس کے سابق سربراہ کررہے تھے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیا اور پاکستان کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے۔ افغان سکیورٹی اہلکار جو سفارت خانے کی سکیورٹی پر مامور تھے تماش بین بن گئے اور انہوں نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنے و الوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔



بی بی سی نے وزیر اعظم کے مشکلات میں اضافہ کردیا

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روز بی بی سی اردو نے ایک خصوصی رپورٹ نشر کی اور اس کو اپنے ویب سائٹ پر بھی ڈال دیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس 1990 کی دہائی کے ابتداء میں خریدے گئے تھے۔ آج تک وہ ان کے صاحبزادے حسن نواز کے نام پرہیں گزشتہ دو دہائیوں میں ان کی ملکیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔



متوازی نظام تعلیم

| وقتِ اشاعت :  


70سال گزرنے کے بعد بھی ملک میں ایک یکساں اور منصفانہ نظام تعلیم رائج نہ ہوسکا۔ بڑے اور امیر گھرانوں کے افراد اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اور اعلیٰ ترین درجے کے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے بچے سرکاری اور غیر سرکاری کالے پیلے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔



صوبوں کی دوبارہ حد بندی کی جائے

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے۔ ان کو قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دوسرے سرکاری دستاویزات جاری کیے گئے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے اور دوسری جانب غیر قانونی تارکین وطن خصوصاً افغان شہری پاک افغان سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرکے آتے رہتے ہیں



سرمایہ داروں کے لئے 110ارب روپے

| وقتِ اشاعت :  


جب بھی ملک میں تاجروں کی حکومت آتی ہے تو تاجر حضرات کسی نہ کسی بہانے ریاستی خزانے سے اربوں روپے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ یہ امداد ان ارب پتی تاجروں کو صرف اور صرف تاجروں کی حکومت کے دوران ہی ملتی ہے۔



تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ ادوار میں بھی لوگ لاپتہ ہوتے تھے۔ سالوں ان کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ مگر لواحقین کو یہ یقین ہوتا تھا کہ وہ زندہ ہیں سلامت ہیں اور کسی وقت وہ واپس اپنی خاندانی زندگی میں دوبارہ آجائیں گے۔ گزشتہ 15سالوں میں طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا۔ اب اگر کسی کو اُٹھا لیا جاتاہے تولواحقین کو اسی وقت اس کی زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں