26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ میں مختلف کیسز میں سینئر ججز اب یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ ہمارے پاس لگنے والے کیسز پر ساتھی ججز ریمارکس دیتے ہیں کہ یہ کیس آئینی بنچ سنے گا تو کیا جب تک آئینہ بنچ نہیں بیٹھے گا ہم غیر آئینی ہیں؟ اب آئینی بنچز کی تشکیل اور طریقہ کار پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے تاکہ کیسز مزید التواء کا شکار نہ ہوں کیونکہ ہر دوسرے روز یہ معاملہ سامنے آرہا ہے اورکیسز کی سماعت بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی کی جارہی ہے جس سے سائلین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔