افغان مہاجرین کا مسئلہ

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان کے دو صوبے کے پی کے اور بلوچستان میں اس وقت افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آباد ہے پنجاب اور سندھ میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہے، شام میں جنگی ماحول پیدا ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں شامی افراد نے یورپ سمیت دیگر ممالک کا رخ کیا جس میں سرفہرست جرمنی ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی جنگ اورمعیشت زدہ ممالک کے افراد نے یورپ سمیت دیگر ممالک کا رخ کیا ہے



بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی۔۔۔ مگرکب؟

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں اِس وقت مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، شام میں جنگی ماحول پیدا ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں شامی افراد نے یورپ سمیت دیگر ممالک کا رخ کیا جس میں سرفہرست جرمنی ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی جنگ اورمعیشت زدہ ممالک کے افراد نے یورپ سمیت دیگر ممالک کا رخ کیا ہے مگر تارکین وطن کیلئے سماجی تبدیلی سمیت امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے بہترین قوانین موجود ہیں



وکی لیکس کے بعد پانامہ لیکس۔۔۔ نئی بات کیاہے؟

| وقتِ اشاعت :  


دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں کیپٹلزم کو پروان چڑھایاگیا وہیں سوشلزم کو بھی تقویت ملتی گئی مگر طاقت کے محور نے حالات کا رخ بدل کر رکھ دیا۔دوسری جنگ عظیم نے جہاں تباہی مچاہی وہیں سپر پاور بننے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے گئے جس میں بڑی ریاستوں نے جنگی قوانین کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ سوویت یونین اس دوران ایک بڑی طاقت بن کر ابھری مگر اس کے خلاف ایمپائرز نے ایکتا کرلیا



بلوچستان میں امن کا قیام اورمذاکرات

| وقتِ اشاعت :  


ملک بھر میں دہشت گردی کی لہر میں کافی کمی آنے کے بعد بھی معاشی حوالے سے تبدیلی میں فی الحال اتنی بہتری نہیں آئی ہے‘ کراچی میں قیام امن کے بعد تاجروں میں موجود خوف کی فضاء ختم ہوگئی ہے نہ ختم ہونے والے ہڑتالوں کے سلسلے نے بھی دم توڑ دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ کراچی میں کاروبار زندگی اب معمول کے مطابق چل رہی ہے تاجر بلاخوف اپنے کاروبار میں مشغول ہیں جس کی بڑی وجہ امن کا قیام ہے



میڈیا کی مدر پدرآزادی….؟

| وقتِ اشاعت :  


عوام کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کیلئے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے جو عوام تک تمام خبروں کو پہنچاتی ہے مگر میڈیا کی کچھ غلطیوں کے باعث عوام آج بھی پرنٹ خاص کر الیکٹرونک میڈیا سے شدید مایوس نظر آتی ہے کیونکہ ان کے بنیادی مسائل کو بہتر انداز میں کوریج نہیں دی جاتی بلکہ اس سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی تقاریر اور پریس کانفرنسز کو گھنٹوں تک لائیونشریات میں دکھا ئی جاتی ہے



کراچی کی سیاست میں تبدیلی ،محض پروپیگنڈہ اور کچھ نہیں…..!

| وقتِ اشاعت :  


کراچی پر عرصہ دراز سے ایک ہی جماعت کاکنٹرول رہا ہے اور اس کا ووٹ بینک بھی محفوظ رہا ہے‘ 2001ء کے بعد یہی جماعت یعنی متحدہ قومی موومنٹ نہ صرف وفاق بلکہ سندھ میں بھی راج کرتی رہی تمام محکمہ اُن کے پاس رہے اوریہ ایک منظم تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی‘ اس سے قبل شاید ہی متحدہ قومی موومنٹ اتنی مضبوط رہی ہو‘ پرویز مشرف کے دور حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کراچی کا اکلوتا وارث بن گیا



پاکستان کا معاشی ہب کراچی

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ تین دہائیوں سے کراچی بد امنی کی لپیٹ میں رہا جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت زبوں حالی سے دوچار رہی ،بد قسمتی سے کئی سالوں سے کراچی میں سیکورٹی آپریشن جاری ہے اور اس کے نتائج اب کہیں جاکے نظر سامنے آنا شروع ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی



غیر قانونی تارکین وطن

| وقتِ اشاعت :  


افغانستان میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد لاکھوں افغانوں نے پاکستان کا رخ کیا اس کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی خارجہ پالیسی تھی اور اس وقت پی پی پی کی حکومت نے نئے افغان حکومت جس کی سربراہی سردار داؤد کررہے تھے کی مخالفت کی تھی بلکہ اس کے خلاف زبردست میڈیا جنگ شروع کی تھی ۔ذوالفقار علی بھٹو سرحدی علاقوں میں جا کر افغانستان کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہے



حالات کو پُر امن بنانے کی ضرورت ……!

| وقتِ اشاعت :  


ملک کی تاریخ سیاسی بحرانوں سے ہمیشہ دوچار رہی ہے‘ اندرونی یا بیرونی معاملات دونوں کی وجہ سے پاکستان میں سیاست اور معیشت تنزلی کا شکار رہی ہے‘ اصل محرکات سیاسی ہی ہوتے ہیں جب تک سیاسی حوالے سے اندرونی طور پر مضبوط حکومت نہیں ہوتی تو اس کے اثرات جمہوریت پر برائے راست پڑتے ہیں جس کی تاریخ ہمارے یہاں واضح ہے‘ ملک میں بیرونی مداخلت کا معاملہ معمولی نہیں



پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات

| وقتِ اشاعت :  


آج کل ہمارا ملک مختلف بحرانوں سے گزر رہاہے قومی معیشت کا حال بہت خراب ہے ۔ ملک 21000ارب روپے کامقروض ہو چکا ہے ۔ پوری بجٹ قرضوں کی ادائیگی اور وفاقی اخراجات پر خرچ ہوتی ہے ۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ معاشی معاملات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آتے، ملک پر تاجر اور صنعت کار حضرات حکمران ہیں جو صرف اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کی حفاظت کررہے ہیں اور ان کو عوام الناس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ملک میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے