پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ملک کا ایک پسماندہ خطہ ہے یہ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور ملک کی سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے بلوچستان کی عرب سمندر کے ساتھ تقریباً 750 سے 760 کلومیٹر طویل ساحلی لائن ہے، جو اسے بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کی ترقی کے لیے ایک نہایت اہم مقام بناتی ہے۔ تاریخی طور پر بلوچستان کو ترقی کے میدان میں بہت کم توجہ دی گئی، لیکن حالیہ برسوں میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی بدولت ساحلی بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جو اسے ایک بڑے علاقائی تجارتی اور رابطہ جاتی مرکز کے طور پر ابھار رہی ہے اور بلیو اکانومی کے فروغ کے مواقع فراہم کر رہی ہے صوبہ بلوچستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے جن میں سونا، تانبا، کوئلہ، لوہے کی کانیں، سیسہ، شیل گیس، کروم اور اینٹیمونی شامل ہیں۔
محکمہ اقلیتی امور حکومت بلوچستان کی جانب سےصوبے کے تمام اقلیتی ملازمین کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اقلیتی ملازمین کیلئے ان کے مذہبی تہوار کے موقع پر انہیں تین دن کی چھٹی ملے گی،،،،،محکمہ نے اس بڑے اقدام کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے، جس کے مطابق بلوچستان میں بسنے والے… Read more »
کسی بھی معاشرے کی روشن مستقبل اور ملک و ریاست کے ترقی و خوشحالی کیلئے مملکت کی صحت اولین ترجیح ہوتی ہیں۔ حقیقی اور عوام دوست حکمران عوام کی صحت کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں جو اپنے ملک میں صحت کے لیے تمام اقدامات اٹھاتے ہیں، پولیو اور 2019 میں کرونا وائرس ہمیں… Read more »
گزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران میں ایسے واقعات اور خلفشار دیکھنے میں آیا ،جس نے انقلاب اسلامی کے دوستوں اور دشمنوں، دونوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور عصر حاضر میں ایک بار پھر حق و باطل کے تصادم کا منظر دنیا کیلئے عیاں ہوا۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے زرمبادلہ… Read more »
پروفیسر امان اللہ بلوچ، جنہیں امان اللہ ساجد کے قلمی نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک معروف تعلیمی و سماجی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ خدمات، اور ادبی کارناموں سے اپنے آپ کو ممتاز کیا ہے۔ وہ ایک محنتی، ذہین، اور علم دوست شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کو تعلیم، سماجی خدمت، اور ادب کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک الگ، باکمال، پراثر اور انوکھا صلاحیت وجود پذیر ہے جو حقیقی طور پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ اور متاثر کرتا ہے، اور ان کی خدمات بلوچستان کی تاریخ میں ایک کلیدی مقام رکھتی ہیں۔
بلوچ سرزمین ایک بار پھر ایک عظیم بیٹے کو الوداع کہہ چکی ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بانی رہنما، ماما قدیر بلوچ اب ہم میں نہیں رہے۔ ایک طویل، ثابت قدم اور بے مثال سیاسی جدوجہد کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا مشن چھوڑ گئے ہیں جو ہر بلوچ فرزند کے لیے ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔
دنیا کا سب سے حسین خواب “امن” ہے۔ مگر افسوس، یہ خواب ہمیشہ ٹوٹنے کے قریب رہا۔ انسان نے آسمانوں کو فتح کر لیا، سمندروں کی گہرائی ناپ لی، مگر اپنے ہی دل کے زخم نہیں بھر سکا۔ آج بھی زمین کے کسی نہ کسی کونے میں دھواں اٹھ رہا ہے، بچے روتے ہیں، مائیں بین کرتی ہیں، اور قومیں ایک دوسرے پر نعرے لگا کر اپنی شکست چھپاتی ہیں۔
پچھلے مہینے میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر(مرک) کی جانب سے جاری کردہ پانچ سالہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سڑکوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 22اکتوبر 2019… Read more »
بلوچستان پچھلے 30 برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار صوبہ رہا ہے ،،کبھی خشک سالی تو کبھی غیر معمولی بارشوں سے تباہی، مگر اس مسلے کا حل کبھی بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ، 90 کی دہائی میں بلوچستان کے مختلف علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں رہے،