|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2015

کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کروانے کے بعد ایم کیو ایم نے بھی عمران خان کے خلاف صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کروا دی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے قائدین پر ریاستی اداروں اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے گزشتہ دنوں ایک تقریر میں بعض فوجی افسران اور اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی جس کا وفاقی وزارت داخلہ نے بھی سخت نوٹس لیا۔ اس تقریر کے بعد الطاف حسین کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں50 سے زائد مقدمات درج کروائے گئے ہیں جن میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے، لوگوں کو اکسانے اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ ڈان نیوز کے مطابق بدھ کو پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی ثمر علی خان، خرم شیر زماں، سید حفیظ الدین، سیما ضیاء اور دیگر نے سندھ اسمبلی قرار داد مذمت جمع کروائی۔ قرار دار کے متن کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، ملک کے اہم اداروں کے خلاف ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے ملک میں اشتعال پھیل سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانوی شہری الطاف حسین کے خصوصی طور پر فوج کے خلاف دیئے جانے والے بیانات پر کارروائی کی جائے اور ان کے لندن سے خطاب پر پابندی بھی لگائی جائے۔
پی ٹی آئی کے اراکین کی جانب سے الطاف حسین کے خلاف سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی جانے والی قرار داد کا عکس — ڈان نیوز اسکرین گریب
پی ٹی آئی کے اراکین کی جانب سے الطاف حسین کے خلاف سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی جانے والی قرار داد کا عکس —
اس موقع پر پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعارف علوی بھی موجود تھے۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے اراکین نے کہا کہ قرار داد جمع کروانے کا مقصد الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقاریر کی مذمت کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اراکین کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا نہیں کررہیں اور کراچی کو معاشی دہشت گردی کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔
— ڈان نیوز اسکرین گریب
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا گٹھ جوڑ ہے جس سے کراچی اور سندھ کے دیگرعلاقوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ برطانوی ہائی کمیشن میں بھی ایک مذمتی قرار داد جمع کروائیں گے۔ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے رہنما میاں محمود رشید نے پنجاب اسمبلی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی فوج اور دیگر اداروں کے خلاف تقاریر پر قرار داد جمع کروائی تھی۔
عمران خان کے خلاف ایم کیو ایم کی مذمتی قرارداد
تحریک انصاف کی قرار داد کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین نے بھی سندھ اسمبلی پہنچ کر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے خلاف ایسی ہی ایک قرار داد جمع کروائی جس میں عمران خان کے پاک فوج کے جنرلز کے خلاف بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے اراکین کے مطابق عمران خان نے فوج سمیت دیگر ریاستی اداروں کی توہین کی جس کی مبینہ ویڈیو گذشتہ دنوں نجی چینل کے ایک پروگرام میں چلائی گئی۔
ایم کیو ایم کے اراکین کی جانب سے عمران خان کے خلاف سندھ اسمبلی سیرٹریٹ میں جمع کروائی جانے والی قرار داد کا عکس — ڈان نیوز اسکرین گریب
ایم کیو ایم کے اراکین کی جانب سے عمران خان کے خلاف سندھ اسمبلی سیرٹریٹ میں جمع کروائی جانے والی قرار داد کا عکس —
قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جائے۔ بعد ازاں سندھ اسمبلی کے باہر ایم کیو ایم اراکین سندھ اسمبلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کا ماضی پوری قوم کے سامنے ہے اس کا پاک آرمی کے خلاف بیان قابل مزمت ہیں۔ انھوں اس موقع پر ایک بار پھر پی ٹی آئی چیئرمین کے سیتا رائے سے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا۔ ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی کے جنرلز کے خلاف جو بیان عمران خان نے دیئے ہیں اس سے پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے درخشاں تھانے میں متحدہ کے قائد کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔ علی زیدی کا کہنا تھا کہ خون خرابے کی باتیں اب بند ہونی چاہیے اور الطاف حسین کی تقاریر کا سلسلہ بھی اب ختم ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے ایم کیوایم قائد کی مبینہ نفرت انگیز تقاریرکے خلاف برطانوی ہائی کمشنرکومراسلہ بھی لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی شہری کی نفرت انگیز تقاریرسے پاکستانیوں کے جذبات مجروع ہورہے ہیں۔ جس کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما پی ٹی آئی کے چئیر مین عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرانے درخشان تھانے پہنچے۔ متحدہ کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے126 دن تک دھرنا دے کرملک کونقصان پہنچایا اور پی ٹی وی پرحملے کے بعد عمران خان خوش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عمران خان اور عارف علوی کی آڈیوریکارڈنگ بھی موجودہے۔ علی رضا عابدی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور وزیربجلی خواجہ آصف سمیت باقی افراد کےخلاف بھی ایف آئی آر کٹوائی جائے گی۔