|

وقتِ اشاعت :   April 28 – 2017

کوئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بی این ایم کے لاپتہ رہنماء ماسٹر بیت اللہ کو چار دیگرلاپتہ بلوچوں کے ہمراہ جعلی مقابلے میں شہید کرنے کو قابض فورسز کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنی حواس باختگی چھپانے کے لئے لاپتہ بلوچوں کو شہید کرکے شدید ترین جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ آج فورسز نے 17جون 2015کو اغواء ہونے والے ماسٹر بیت اللہ، 16نومبر2016کو مند گوبرد سے اغوء ہونے والے کمسن صابر ولد غلام محمد، چھ ماہ قبل گومازی سے اغواء ہونے والے جاسم ولد رحیم، آصف ولد ماسٹر انور اور مجید ولد نوروز کی لاشوں کو مند کے علاقے ہوزئی میں پھینک دیا جنہیں دوران حراست غیر انسانی تشدد کے بعد قتل کردیا گیا ۔ ماسٹر بیت اللہ کے اغواء کی تصدیق 17جون 2015 کوایف سی ترجمان نے بھی کی تھی۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ ان جرائم میں ریاستی فورسز کو نیشنل پارٹی کی قیادت اور پارلیمانی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، بلوچ مزاحمت کاروں سے شکست کے بعد نہتے لوگوں پر تشدد اور مغویوں کو قتل کرکے مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ ریاستی فورسز کی حواس باختگی کو چھپا نہیں سکتے، کیوں کہ ریاست کی میڈیا اور نام نہاد سول سوسائٹی کی تنظیمیں اگرچہ فورسز کے جھوٹے دعوے پر یقین کر لیں لیکن بلوچستان کا ہر فرد بخوبی واقف ہے کہ کس طرح فورسز جھوٹ اور دروغ گوئی کا سہارا لیکر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ بی این ایف نے کہا کہ بلوچستا ن سے لاپتہ افراد کو حراست میں قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت ہزاروں بلوچ اسیران کی لاشیں فورسز مختلف وقتوں میں پھینک چکے ہیں۔ بی این ایم کے رہنماء بیت اللہ بلوچ سمیت دوسرے لوگوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی بھی سابقہ واقعات کی ایک کھڑی ہے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض ریاست کو جلد یا بدیر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ طاقت کے جارحانہ استعمال سے وہ بلوچستان پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے گا، کیوں کہ بلوچستان میں قابض کا وجود غیر فطری اور عام بلوچوں کی مفادات کے برعکس ہے۔ ترجمان نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زمہ داریاں ادا کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ عوام کی خاموش قتل عام کو فوری طور پر روک دیں۔