|

وقتِ اشاعت :   May 2 – 2015

چاغی: پاک ایران جوائنٹ بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں نئے تجارتی پوائنٹس کھولنے، سرحدوں پر گشت بڑھانے اورپہلی بار ہاٹ لائن رابطے قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ایرانی صوبے سیستان بلوچستان کے صدر مقام زاہدان میں منعقدہ شش ماہی جوائنٹ بارڈر کمیٹی کے 3 روزہ اجلاس میں شرکت کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر تفتان مراد خان کاسی نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چھٹہ نے کی۔ جس میں سیکرٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی، ڈی آئی جی فرنٹیر کوربلوچستان برگیڈیئر طاہر محمود ، ڈاریکٹر ایف آئی اے عبدالقادر قیوم، ڈاریکٹر سروے آف پاکستان نور الہی سمیت ایرانی سرحد سے متصل اضلاع چاغی ، واشک، پنجگور، تربت، گوادرکے ڈپٹی کمشنرز اور کمانڈنٹ تفتان رائفلز کے کمانڈنٹ کرنل عرفان اشرف چیمہ شریک تھے جبکہ ایرانی وفد کی قیادت سیستان بلوچستان کے صوبائی گورنر نے کی۔ ان کے مطابق اجلاس میں دو طرفہ سرحدی امور ، باہمی تعلقات اور تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،جس کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے پنجگور، تربت اور واشک سے متصل پاک ایران سرحدی علاقوں میں مزید چار تجارتی پوائنٹس بنانے کا فیصلہ کر لیا جن پردونوں اطراف سے جلد ہی کام شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ان کے مطابق پاک ایران سرحد ی پٹی پردہشت گردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیئے دو طرفہ سرحدوں پر سیکیورٹی فورسسز کی گشت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور سرحدی خلاف ورزی سمیت کسی بھی نا خوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیئے ایران کے متعلقہ صوبائی گورنر اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے درمیان پہلی بار ہاٹ لائن رابطے شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔