|

وقتِ اشاعت :   May 7 – 2015

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی کے استعفے کی منظوری کیلئے گرین سگنل دے دیا نئے اسپیکر کے انتخاب کیلئے مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ناموں پر غوروغوض شروع کردیا ذرائع کے مطابق سینٹ انتخابات میں اسپیکر میرجان محمد جمالی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان جو خلش پیدا ہوئی تھی اسکی بناء پر اسپیکر شپ تبدیل کرنے پر غوروغوض کیا جارہا تھا اور بلوچستان اسمبلی میں اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں کہ اسی اثناء میں اسپیکر جان محمد جمالی نے اپنا استعفیٰ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینئر صوبائی وزیر چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کو پیش کر دیا ذرائع کے مطابق نواب ثناء اللہ خان زہری کی کوشش تھی کہ وہ پارٹی کی مرکزی قیادت اور اسپیکر کے درمیان تحفظات کا خاتمہ کریں گزشتہ روز جب وزیراعظم پاکستان اپنے مختصر دورہ پر کوئٹہ آئے تو ان کی واپسی پر نواب ثناء اللہ خان زہری بھی ان کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں اسپیکر کے استعفے کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر اسپیکر کا استعفیٰ منظور کرنے اور نئے اسپیکر کی نامزدگی کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ کے شیخ جعفرخان مندوخیل کے نام پر غور کیا گیا تاہم ان کی اور ان کی جماعت کی جانب سے رضا مندی نہ ہونے پر وزیراعظم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے سربراہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں سے کسی رکن اسمبلی کو اسپیکر کیلئے نامزد کریں نواب ثناء اللہ زہری ان دنوں اسلام آباد میں ہیں اور چند روز میں کوئٹہ پہنچنے پر وہ پارٹی کے ارکان اسمبلی سے مشاورت کے بعد نئے اسپیکر کی نامزدگی کا فیصلہ کریں گے ذرائع کے مطابق اس وقت جن ناموں پر غوروغوض کیا جارہا ہے ان میں رکن صوبائی اسمبلی طاہر محمود خان ‘ پرنس احمد علی اور راحیلہ حمید درانی شامل ہیں۔