|

وقتِ اشاعت :   May 20 – 2015

اسلام آباد :  قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کمیٹی کو بتایا کہ سائبر کرائم کے کیسسز 31 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہے ہیں سائبر کرائم بل میں عوام کی اظہارے رائے کو مکمل آزادی اور پی ٹی اے کی پاور کو محدود کیا گیا ہے ۔ قانون کو نافذ کرنے کے بعد اس میں ترامیم کی گنجائش موجود ہوتی ہیں ۔ سائبر بل سے الیکٹرانک کرائم کے ذریعے منفی پراپیگنڈے کو روکنے میں مدد ملے گی ۔فیس بک کو بند کرنے سے معاشرتی کرائم میں واضح کمی واقع ہو سکتی ہے ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین کمیشن کیپٹن ( ر ) صفدر کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سائبر کرائم پر عوامی ردعمل پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قانون نافذ ہونے کے بعد بھی قانون میں رہ جانے والے سقم کو دور کیا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم کے خصوصی معاون خواجہ ظہیر احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں 1947 سے لے کر آج تک جتنے بھی قوانین بنائے اس کی ترمیم کی ضرورت پیش آئی ہے تو پارلیمنٹ قانون میں ترمیم کر لیتی ہے ۔ پاکستان میں رواج بن گیاہے کہ ہر شخص دوسرے شخص کی بات نفی کرتا ہے ۔ حکومت کا کوئی بھی منصوبہ چاہے میٹروبس ، پیلی ٹیکسی ، ایٹمی دھماکے ہوں اختلاف رائے موجود ہوتا ہے ۔ بیرون ملک امریکہ فرانس میں بھی سائبر قوانین بنائے گئے لیکن جب وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم کی ضرورت پڑی وہاں کی پارلیمنٹ نے سائبر کرائم میں ترمیم کر لی ۔ پارلیمنٹیرین عوام کے نمائندے اور قانون بنانے والے ہیں ۔ سائبر بل پاس کر کے پارلیمنٹ کو بجھوایا جائے ۔ ضرورت پڑی تو اس میں ترمیم کر لی جائے گی ۔ ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت الیکٹرانکس کرائم روز بڑھ رہے ہیں اس وقت سائبر کرائم 31 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے جس کو روکنے کے لئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔ وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کمیٹی کو بتایا کہ سائبر کرائم میں اظہار رائے کی مکمل آزادی دی گئی ہے ۔ قانون میں پی ٹی اے کی پاور کم کی گئی ہیں سائبر کرائم بل کے نفاذ سے الیکٹرانک کرائم میں واضح کمی آئے گی ۔ عوامی ردعمل کو اچھال کر کچھ لوگ اس بل میں اپنے مطلب کی شقیں ڈلوانا چاہتے ہیں کمیٹی نے سائبر بل پر آنے والے عوامی ردعمل پر جمعہ کو دوبارہ کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ایف آئی اے اور پی ٹی اے کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔