|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2015

کوئٹہ: صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور و اطلاعات عبدالرحیم زیارت وال نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چیزوں کو ٹھیک ہونا چاہئے تھا مگر صورتحال اسکے برعکس نظر آرہی ہے یہ ایوان پورے صوبے کا نمائندہ ہے جسے ہم سب سے معزز سمجھتے ہیں اگراسکی چیزوں کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا تو پھر ہمارے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بعض وفاقی ادارے بے لگام ہوچکے ہیں پنجاب صنعتی زون میں تبدیل ہوچکا ہے مگر ہمارے صوبے کے انگریز کے دور کے کارخانے ایک ایک کرکے بند کردیئے گئے حب کا صنعتی زون کراچی کے زیراثر ہے وہاں ہمارے مزدور کم ہیں سرحدوں سے جو تجارت ہوتی ہے اسے ہم تجارت سمجھتے ہیں و فاقی حکومت کی ماضی میں آنے والی کمیٹی نے بھی منشیات اوراسلحہ کے سوا دیگر تمام چیزوں کی تجارت کو کاروبار قراردیاتھا مگر یہاں پر لوگوں کو بلاجواز تنگ کیا جاتا ہے ہمارے ہاں سیب کی بڑی پیداوار ہوتی ہے مگرابتک اسکی گریڈنگ اورعالمی کوالٹی کے تحت ایکسپورٹ کیلئے اقدامات نہیں کئے جاسکے ہیں ایران اورانڈیا اپنے زمینداروں کو پانی ،بجلی ،کھاد سمیت دیگر سہولتیں مفت فراہم کررہے ہیں جبکہ ہم اپنے زمینداروں کو بجلی کی مد میں 12ارب روپے کی سبسڈی کے سوا کچھ نہیں دہ رہے باقی سب کچھ وہ خود کرتے ہیں 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی اداروں کی جانب سے صوبے میں مداخلت جاری ہے کسٹم کی جانب سے شہر کے اندردکانوں پر جاکر سامان چیک کیا جاتا ہے جبکہ انہیں اسکااختیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام وفاقی اداروں کو صوبائی حکومت کی مشاورت ،معاونت اور تجویز سے کام کرنا ہوگا تو حالات درست ہونگے ورنہ معاملات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے ہم پہلے ہی بے روزگاری کا شکار ہیں زیر زمین پانی ختم ہورہا ہے صوبے میں بے روزگاری 90فیصد تک پہنچ چکی ہے وفاقی حکومت کو ہماری چیزوں کودرست کرنے میں تعاون کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اداروں کی جانب سے ہمارے لوگوں کو بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت وفاقی ادارے بلوچستان میں من مانی کر رہے ہیں اگر کوئی ابہام یا مشکل ہے تو انہیں بیٹھ کر ٹھیک کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ زمینداروں کو 60فیصد سبسڈی صوبائی جبکہ 40فیصد وفاقی حکومت دے رہی ہے سولر انرجی سے ٹیوب چلانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے تاہم اس میں کچھ ٹیکنیکل مشکلات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے ہم نے اس پانی کو کس طرح زخیرہ کرنا ہے اس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ کرنا ہونگی زیر زمین پانی نکالنے کیلئے موجودہ حالات کے مطابق قانون سازی کرنا ہوگی ۔رکن اسمبلی دستگیر بادینی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں 15ارب روپے بلوچستان کو ملنے تھے جو نہ ملے صوبے میں پانی ختم ہوچکا ہے صورتحال سنگین ہے ہمیں اس حوالے سے اقدامات کرنے ہونگے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے وفاق سے 15ارب روپے لئے جائیں ۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صوبے میں مختلف اداروں کے سربراہ مقامی ہونے چاہئے کیونکہ وہ یہاں کے حالات اور مسائل سے باخبر ہوتے ہیں کیسکو میں ایک مقامی آفیسر کو سربراہ بنایا گیا ہے جس کو ہٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں اسکا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ایک اہم مسئلہ ہے اس کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات کرنے ہونگے ۔ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا واضح موقف ہے کہ اسلحہ اور منشیات کے سوا تمام کاروبار تجارت ہے سندھ اور پنجاب کی طرح ہمیں بھی ایک نظرسے دیکھا جائے تمام ملک کیلئے یکساں قانون ہونا چاہئے کراچی اور لاہور میں ٹیکس کی ادائیگی کے بعد کسی کے خلاف نہ کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی پوچھ گچھ ہوتی ہے ہم بھی ٹیکس ادا کرنے کے حق میں ہیں اور جہاں ٹیکس وصول کرنے کے بعد لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اسکے حل کیلئے فوری کام کرنا ہوگا سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے اگربڑے ڈیم نہیں بنا سکتے تو چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔