|

وقتِ اشاعت :   August 25 – 2016

تقسیمِ ہند سے پہلے 1848 سے لے کر 1947 تک صدی پر محیط اقتدار کے دوران برطانوی راج نے بلوچستان میں ہزاروں میل طویل سڑکیں اور پٹریاں بچھائیں، پل، ہوائی اڈے اور چھاؤنیاں تعمیر کیں اور ڈاک اور ٹیلی فون کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔

اس تمام تر تعمیر و ترقی کا مقصد بےحد شفاف تھا: نوآبادیاتی نظام کا استحکام، استحصال اور بلوچستان کے گرم پانیوں تک روسی پیش رفت پر بند باندھنا۔ 1878 سے لے کر 1922 کے عرصے میں بلوچستان میں ریلوے کا جال بچھ چکا تھا، جس کے دوران کھوجک سرنگ جیسے عجائبات تعمیر کیے گئے۔ 1891 میں کھودی جانے والی یہ چار کلومیٹر لمبی سرنگ اب بھی جنوبی ایشیا کی طویل سرنگوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی انجینیئروں نے شاندار پل بنائے، سنگلاخ پہاڑوں کو چیر کر سڑکیں نکالیں اور پٹریاں بچھائیں لیکن ان تمام سرگرمیوں کے باوجود بلوچستان میں کوئی معاشی خوش حالی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ساری تعمیر و ترقی کسی خاص مقصد کے لیے تھی اور اس میں مقامی آبادی کی معاشی و معاشرتی شمولیت کو مدِنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ راج کی چلائی ہوئی ریلوں میں صرف استحصال سفر کرتا تھا اور قاتل مشینری ہر اس جگہ تیزی سے پہنچ جاتی تھی جہاں سے نوآبادیاتی استعمار کو آزادی پسندوں سے کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوتا تھا۔ 1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو بلوچوں کو ایک جنت نظیر خواب دکھایا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947 سے 1948 تک کئی اجلاسوں اور تقاریر کے دوران پاکستان سے الحاق کے عوض بلوچستان کی خودمختارانہ حیثیت برقرار رکھنے اور خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کرنے کے وعدے کیے۔ تاہم پاکستان سے الحاق کے فوراً بعد ہی بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے کی پالیسی شروع کر دی گئی۔ وسائل سے مالامال اس علاقے کو مالی امداد کا محتاج بنا دیا گیا اور گوروں کی بجائے کراچی، لاہور اور بعد میں اسلام آباد سے حکمرانوں کی ایک نئی کھیپ صوبے میں آ پہنچی۔یہی نہیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر بلوچستان کے ایک صدی پرانے اداروں کو تباہ کر کے ان کی جگہ خارجی ادارے قائم کر دیے۔ علاوہ ازیں، آزادی کے پانچ برسوں کے اندر اندر بلوچستان کی اعلیٰ معیار کی قدرتی گیس نکال کر پنجاب کے دور افتادہ علاقوں کو فراہم کی جانے لگی، لیکن بلوچوں کے ہاتھ دھول اور دھویں کے سوا کچھ نہیں آیا۔ نوکریاں اور وظائف ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے حصے میں آئے اور گیس سے منسلک صنعتیں مثلاً کھاد کی فیکٹریاں بلوچستان میں نہیں بلکہ پنجاب میں لگیں۔ 1948 سے لے کر آج تک بلوچوں سے متعدد وعدے کیے گئے لیکن انھیں صرف موت اور مایوسی ملی۔ بلوچ پاکستان شراکت کے 70 برس بعد بلوچستان میں غربت، ناخواندگی، بچوں میں غذائیت کی کمی اور زچہ و بچہ کی ہلاکت کی شرح ملک کے دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک جیسے بلند بانگ دعوے اور مقامی آبادی کی شمولیت کے بغیر کیے جانے والے ’ترقیاتی‘ منصوبے ان بلوچوں کو کچھ زیادہ لبھا نہیں پاتے جو شعور اور علم کی روشنی سے بہرہ ور ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ گیس، کوئلے اور سونے کی دولت سے مالامال تزویراتی اہیمت کا حامل علاقہ ہونے کے باوجود اگر بلوچستان کو کچھ نہیں ملا تو پھر سی پیک کے 46 ارب ڈالر میں سے 60 کروڑ کا معمولی حصہ بلوچوں کی زندگی میں کیسے معجزے بپا کر دے گا؟ pak china اس سوال کا کوئی ٹھوس جواب نہیں، حتیٰ کہ ایک صفحے پر مشتمل حقائق یا اعداد و شمار تک نہیں جو کسی پڑھے لکھے بلوچ کو مطمئن کر سکیں۔ اگر برطانوی راج کے عہد میں تعمیر کردہ پانچ ہزار کلومیٹر طویل سڑکیں اور ریلوے نظام بلوچوں کی معاشی حالت میں بہتری نہیں لا سکا تو پھر چین پاکستان معاشی راہداری کیسے کوئی تبدیلی لا سکتی ہے جب کہ اس کے صرف دو اہم اجزا ہیں، گوادر کی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ۔ دفاعی اہمیت کی حامل بندرگاہ یا پھر کوئی ہوائی اڈہ ڈیرہ بگٹی، خاران، لسبیلہ، آواران یا پھر صوبے کے کسی اور علاقے میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے؟ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ گوادر بندرگاہ اور ہوائی اڈے کے دونوں میگا پروجیکٹ دراصل معاشی منصوبے ہیں اور یہاں سے گزرنے والے کنٹینروں اور مسافروں سے بڑے پیمانے پر محصولات حاصل ہوا کریں گے، سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ ان سے حاصل ہونے والا سرمایہ کس کی جیب میں جائے گا؟ موجودہ آئینی میکانزم کو دیکھتے ہوئے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے حاصل شدہ وسائل صوبائی حکومت کے نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کھاتے میں جائیں گے۔ ایک اور زاویے سے جائزہ لیں۔ دفاعی پہلو سے دیکھا جائے تو 25 کروڑ ڈالر کے سپیشل سکیورٹی ڈویژن (ایس ایس ڈی) کے تحت روزگار کے 15 ہزار مواقع تشکیل کیے جائیں گے تاہم بجائے اس کے کہ اس منصوبے میں بلوچستان کی شراکت داری بڑھائی جاتی اور یہاں کے متعلقہ اضلاع سے لوگوں کو موقع دیا جاتا، ایس ایس ڈی کی اسامیوں پر پہلے ہی سے غیر مقامی افراد بھرتی کیے جا چکے ہیں۔ اس لیے سی پیک سے آنے والی ابتدائی علامات بلوچستان کے لیے کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہیں کیوں کہ اس عمل میں بلوچوں کی شراکت داری اور ملکیت پیدا نہیں کی جا سکی۔ اس کے مقابلے پر پنجاب میں روبہ عمل منصوبوں کا معاشی اور سماجی ترقی پر بالکل مختلف اثر پڑتا ہے۔ صرف 27 کلومیٹر طویل اورنج لائن میٹرو سے ہر روز ڈھائی لاکھ لوگ استفادہ کر سکیں گے، جب کہ 2025 تک یہ تعداد بڑھا کر پانچ لاکھ کر دی جائے گی۔ اورنج لائن سے نقل و حرکت، رسائی، کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ ابھی تک اس منصوبے کے تحت دس ہزار کے قریب مستقل یا عارضی نوکریاں پیدا کی جا چکی ہیں اور یہ پنجاب کی چھوٹی اور درمیانہ درجے کی کئی صنعتوں کے لیے نعمت ثابت ہو رہا ہے۔ مزید براں، سی پیک کے تحت پنجاب میں توانائی کے متعدد منصوبے قائم کیے جائیں گے جن کا متعلقہ علاقوں، خاص طور پر وسطی اور شمالی پنجاب کی معاشی اور سماجی صورتِ حال پر زبردست مثبت اثر پڑے گا۔ تاہم بلوچستان میں اس نوعیت کا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ سی پیک کے تحت کوئلے سے چلنے والے منصوبے چینی کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے باعث پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ بلوچ منطقی جواب مانگتے ہیں، نہ کہ دھمکی آمیز بیانات یا کم علمی پر مبنی تقاریر جن میں سی پیک کو قرآنی آیات کے درجے پر رکھتے ہوئے اس پر تنقید کرنے والوں کو غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ صدر، آرمی چیف، وزیرِ اعظم، وزرا، حتیٰ کہ بلوچستان میں تعینات فوجی افسران تک کھلم کھلا دھمکیاں دے کر سی پیک کی مقدس اور خفیہ حیثیت کی بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات پر زبردست خوف و ہراس کی فضا پیدا کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے صدر نے حال ہی میں بلوچستان کا دورہ کر کے قومی دھمکی جاری کی کہ بلوچوں کو سی پیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ’احتیاط‘ سے کام لینا چاہیے۔ ایسے لاپروایانہ بیانات کی بجائے سربراہِ مملکت اور وفاق کی علامت کو تمام وزارتوں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ سی پیک کے معاہدوں، قواعد و ضوابط، آمدنی، منافعے اور فیصلہ سازی پر بلوچوں کے ساتھ ملک گیر مکالمے کا آغاز کریں۔ سی پیک کی اس تاریک اور مبہم صورتِ حال سے اتحاد کی بجائے نفاق کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ خوف کا عالم یہ ہے کہ بلوچستان کا کوئی صحافی یا تحقیق کار سی پیک کے بارے میں کوئی بات لکھنے یا کہنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ صوبائی حکومت کے پاس کسی قسم کا منطقی طور پر ٹھوس اور اطمینان بخش ڈیٹا موجود نہیں ہے جو ثابت کر سکے کہ آخر سی پیک کا بلوچوں اور بلوچستان کو کیا فائدہ ہو گا۔ بات سادہ سی ہے۔ ہم اپنے آپ سے، اور خاص طور پر ڈسے ہوئے بلوچ سے مخلص ہو جائیں کہ درحقیقت ملک کے ایک مخصوص علاقے میں اربوں ڈالر کے تعمیراتی ڈھانچے، میٹرو لائنوں، مشرقی راہداری، موٹر ویز اور توانائی کے منصوبوں کے بدلے میں چین کو گوادر درکار ہے۔
  ٭ مصنف بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر ہیں اور آئینی امور پر اقوامِ متحدہ اور کئی ملکوں کی مشاورت کرتے ہیں۔ بشکریہ بی بی سی