واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو انگریزی اخبار نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سےمتعلق ایک خبر شائع کی تھی، جس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلافات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ خبر پر شدید تنقید کے بعد پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا۔ ڈان لیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، محتسب اعلیٰ پنجاب نجم سعید اور ڈائریکٹر ایف آئی اے عثمان انور کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس ،آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا۔ کمیٹی نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس کے 16 اجلاسوں میں گواہوں سے بیانات لئے گئے۔
وزارت داخلہ نے تحقیقاتی رپورٹ چند روز قبل وزیر اعظم ہاؤس کو ارسال کی تھی ، جس میں طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہتانے جب کہ وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ہفتے کی دوپہر وزیر اعظم ہاؤس سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف ای ڈی رولز 1973 تحت کارروائی کی منظوری بھی دے دی ہے۔
ڈان لیکس تحقیقاتی رپورٹ کانوٹی فکیشن مسترد کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
![]()
وقتِ اشاعت : April 29 – 2017
واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو انگریزی اخبار نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سےمتعلق ایک خبر شائع کی تھی، جس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلافات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ خبر پر شدید تنقید کے بعد پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا۔ ڈان لیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، محتسب اعلیٰ پنجاب نجم سعید اور ڈائریکٹر ایف آئی اے عثمان انور کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس ،آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا۔ کمیٹی نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس کے 16 اجلاسوں میں گواہوں سے بیانات لئے گئے۔
وزارت داخلہ نے تحقیقاتی رپورٹ چند روز قبل وزیر اعظم ہاؤس کو ارسال کی تھی ، جس میں طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہتانے جب کہ وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ہفتے کی دوپہر وزیر اعظم ہاؤس سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف ای ڈی رولز 1973 تحت کارروائی کی منظوری بھی دے دی ہے۔