|

وقتِ اشاعت :   July 26 – 2017

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ سی پیک کی صورت میں ترقی حاصل کرنے ،غربت کے خاتمے اورروزگار میں اضافے کے جو عظیم مواقع ملے ہیں ان سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تمام متعلقہ محکمے اس حوالے سے مکمل تیاری کریں اوراپنی سفارشات پیش کریں۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (B-Tevta )سے متعلق امور کاجائزہ لینے کیلئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی وترقیات ڈاکٹرعمربابر،سیکرٹری خزانہ اکبردرانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی ،جبکہ سیکرٹری محنت وافرادی قوت پسند خان بلیدی نے اجلاس کو بی ٹیوٹا سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی ۔

انہوں نے بتایا کہ ادارے کے تحت سی پیک کے منصوبوں اوربین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندافرادی قوت تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں تعمیرات،انجینئرنگ،سیاحت،انفارمیشن ٹیکنالوجی،مالیات،صحت کے شعبوں کیلئے ماہرین کی تیاری کے ساتھ ساتھ ہنرمنداورنیم ہنرمند افرادی قوت تیارکی جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ہنرمندافرادی قوت کوروزگار کی فراہمی کیلئے ایمپلائمنٹ سیل بھی قائم کیاجائے گا،اجلاس میں کوئٹہ اورحب کے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرزکوسینٹرز آف ایکسیلینس بنانے کی منظوری بھی دی گئی ،وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے اوراخباری بیانات اورکاغذوں تک ترقیاتی منصوبے محدودہونے کے باعث حقیقی ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے کہاکہ حقیقت اورعملیت پسندی کی پالیسی کواپناکرہی ہم روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کے ذریعے غربت اوربیروزگاری کے چیلنجزسے نمٹ سکتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے بی ٹیوٹا کو مکمل طورپر فعال اورمتحرک ادارہ بنانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنے اورادارے کو خودمختاری دینے اورمالی مسائل کے حل کیلئے تجاویزاو رسفارشات پر مشتمل سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ بلوچستان قدرتی وسائل،جغرافیائی محل وقوع اورطویل ساحل کاحامل منفرد خطہ ہے جبکہ سی پیک سے بلوچستان کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہواہے ،اگراب بھی ہم اپنے صوبے اورعوام کو ترقی نہ دے سکے تو یہ بدقسمتی ہوگی،اُن کی خواہش ہے کہ ان تمام وسائل کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں اوراس کی زندگی میں بھی خوشحالی آئے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے تمام محکموں کو رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں شامل ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون فوری طورپرتیار کرکے منظوری کیلئے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے جبکہ انہوں نے محکمہ پی اینڈ ڈی اورمحکمہ خزانہ کو پی سی ون کی فوری منظوری اورفنڈ ز کے بروقت اجراء کویقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ وہ ہرپندرہ دن بعد منصوبوں کی پیشرفت کاجائزہ اجلاس منعقد کریں گے۔وہ صوبائی مشیران سرداردُرمحمدناصر، میرمحمدخان لہڑی،رکن صوبائی اسمبلی حاجی اسلام بلوچ اورسابق صوبائی وزرأ میرفائق جمالی اورمیرعبدالغفور لہڑی سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے پیرکے روزیہاں ان سے ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ رواں سال کے ترقیاتی پروگرام میں عوامی فلاح وبہبود کے اہم منصوبوں کو شامل کیاگیاہے اورتعلیم ،صحت،مواصلات اورآبنوشی کے شعبوں کو ترجیح حاصل ہے۔

انہوں نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر اورفنڈز کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا اورعوام کے وسائل کو عوام کی فلاح وبہبود کیلئے بروئے کارلاکر اُن کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔

وفد نے صوبے کی ترقی کے وزیراعلیٰ کے وژن کوسراہتے ہوئے اس یقین کا اظہارکیاکہ وزیراعلیٰ کی قیادت میں بلوچستان تیزی سے ترقی کی منازل طے کریگا اورعوام تک ترقی کے ثمرات پہنچیں گے۔