اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومتیں گرائی گئیں لیکن عوام نے ان طریقوں کو مسترد کردیا جب کہ وزیراعظم کو نکالنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا توملک کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔
نوازشریف نے مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی (ن) لیگ کی حکومتیں مختلف طریقوں سے گرائی گئیں لیکن عوام نے ہمیشہ ان طریقوں کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ یہ کیا ہورہا ہے، اگر آپ کی فہم و فہراست تسلیم کرتی ہے تو میں مجرم ہوں، یہاں لوگوں کی جیبیں بھری ہوئی ہیں لیکن وہ ڈکلیئر نہیں کرتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ ایک نظریاتی انسان ہیں اور انہوں نے کبھی نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا،میں نے خلوص دل اور عزم سے ملک کی خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے، تین نسلوں کے احتساب سے ملا کیا؟
ایک اقامہ جو آمدن کا ذریعہ نہیں ہے، جو ذریعہ آمدن نہیں اسے ڈکلیئر کیسے کرتا، ہر آمدن اور اثاثے کو ڈکلیئر کیا ہے، اپنے ہراثاثے پر ٹیکس دیتا ہوں، ملک کو واپس کس سمت میں لے جایا جارہا ہے؟
نواز شریف نے کہا کہ ترقی کا یہ پہیہ رکنا نہیں چاہیے، فیصلے پر اختلاف کرنا میرا حق ہے، ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ کر جیلوں میں بھیج کر ملک نہیں چلائے جا سکتے، خیبرپختونخوا میں حکومت بنا سکتے تھے لیکن دوسروں کو موقع کیا، جائیں جاکر دیکھیں بلوچستان بدل رہا ہے، پہلا دھرنا، دوسرا دھرنا اور پھر پاناما کے باوجود اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کچھ نو وارد سیاستدانوں نے الزامات اور تہمتوں کی حد کردی، میرا ٹیکس مسلسل اوپر کی طرف جارہا ہے اور اگر میرا ضمیرمجھے ملامت کررہا ہوتا یا میں نے بےایمانی سے مال بنایا ہوتا تو میں خود استعفا دیتا جب کہ اگر پیسا ہی مطمع نظر ہوتا تو مجھے 5 ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جو جدوجہد چاہتاہوں اس کا فائدہ 20 کروڑ عوام کو ملے جب کہ ہم نے پاکستان کو بدلنا ہے، خدا کی قسم اقتدارکی لالچ کی بات نہیں کررہا، میں آخری وقت تک پاکستان کے لیے مورچے پر کھڑا رہوں گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ملکی تاریخ قابل افسوس ہے مگرہمارے ملک کا حال افسوسناک نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں آئین اورقانون کی پاسداری ہونی چاہیے اور اگریہ سلسلہ نہ رکا تو اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے پاکستان اسکا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے وزیراعظم کے ساتھ یہ کررہے ہیں جس نے پاکستان کو اقتصادی ترقی دی، اس ملک کے ایٹمی پروگرام کے بٹن پر ہاتھ رکھا، خلوص دل اور عزم سے اس ملک کی خدمت کی اور اس وجہ سے مجھے کوئی سزاملی تو اس کا دکھ نہیں بلکہ فخرہے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ہائی جیکنگ کا کیس بناکر مجھے ہائی جیکر بنادیا گیا، ایک رات میں وزیراعظم تھا،اگلے دن ہائی جیکر تھا جب کہ لوگوں نے کہا آپ کو سزائے موت سنائی جائے گی، اگر مجھے سزائے موت سنادی جاتی تو میں بھی سوچتا کہ سزا دے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن 14مہینے قید میں گزارے، پوری قوم نے دیکھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا تھا جب کہ ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم کردی گئی تھی۔