کابل/غور: افغانستان کے شیعہ مسلم مساجد میں دو الگ خودکش حملوں میں 60نمازی ہلاک ہوئے اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے، یہ دھماکے کابل کے ایک مسجد میں اوردوسرا غور کے مسجد میں ہوئے، کابل میں نماز کے دوران خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا، جس میں 39افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے اس خبر کی تصدیق کی کہ حملے میں 39افراد ہلاک ہوئے، غور کی شیعہ مسجد میں ایک اور خودکش حملے میں کم سے کم 20افرادہلاک ہو ئے اور 10افراد زخمی ہوئے، اس کی بھی تصدیق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے کی۔
غور میں صوبائی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ خود کش بمبار نے عبادت کے دوران اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا ، یہ مسجد دو لینہ ضلع میں واقع ہے یہ دونوں خود کش حملے آج ہی کے دن ہوئے اور افغان افواج سالوں سے طالبان ، داعش اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔
فرقہ وارانہ کشیدگی حالیہ سالوں کی پیداوار ہے ،خصوصاً شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان کشیدگی آئے دن شیعہ مساجد پر خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں، جمعہ کے دن دونوں دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری داعش نے لی ہے۔
ایک دن قبل طالبان نے قندھار کے فوجی چھاؤنی پر حملہ کیا جس میں60 فوجی ہلاک ہوئے، طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، طالبان اکثر فوجی تنصیبات پر حملے کر تے رہتے ہیں جس میں فوج کے 140جوان ہلاک ہوئے تھے، گردیز کے پولیس ہیڈ کوارٹر ز پر طالبان کے حملے میں 71افراد ہلاک ہو ئے تھے۔
اس میں دو کار بم دھماکے یا حملے ہوئے تھے جس میں 71افرادہلاک ہوئے دریں اثناء پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغان علاقے خوش کرم میں امریکی ڈرون حملے میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ 5 دنوں میں ہونے والے ڈرون حملوں میں طالبان رہنماؤں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق افغانستان میں تازہ ڈرون حملہ پاک افغان سرحد کے قریب افغان علاقے خوش کرم میں کیا گیا جس میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈرون طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر 6 میزائل داغے جس میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں حملے کے بعد امریکی ڈرون طیاروں کی نچلی پروازیں کچھ دیر تک جاری رہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ پانچ روز میں پاک افغان سرحد پر افغان علاقے میں 5 ڈرون حملے ہو چکے ہیں جس میں اب تک 47 افراد مارے جا چکے ہیں۔
جماعت الاحرار کے سربراہ اور سابق ٹی ٹی پی کمانڈر عمر خالد خراسانی کے بھی چند روز قبل افغان صوبے پکتیا میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
افغانستان، دو خودکش حملوں میں60افراد ہلاک
![]()
وقتِ اشاعت : October 21 – 2017