|

وقتِ اشاعت :   October 25 – 2017

سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کو گرفتار کر لیا گیا، ان کے ساتھ صوبائی حکومت کے سابق سیکرٹری اور محکمہ اطلاعات سند ھ کے بعض افسران سمیت اشتہاری کمپنی کے بعض افسران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔

نیب نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سندھ کے قومی خزانے سے پانچ ارب 76کروڑ روپے غبن کیے ۔آگاہی مہم کے بہانے وزیر ‘ افسران اوراشتہاری کمپنی کے ذمہ داران نے بہت بڑی رقم خرد برد کی ۔

شرجیل میمن کو عدالت کے باہر اس وقت گرفتار کیا گیا جب ہائی کورٹ نے ان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی ۔ شرجیل میمن نے پانچ سے زائد گھنٹوں تک عدالت عالیہ کے اندر رہ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی، تاہم سیکورٹی اہلکاروں کے اضافی دستے طلب کیے گئے اور شرجیل میمن کو گرفتار کرکے نیب کے دفتر منتقل کیا گیا۔ 

دوران گرفتاری دھینگا مشتی ہوئی اور بڑی تعداد میں پی پی پی کے کارکنوں نے گرفتاری سے بچنے کی مزاحمت کی ۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک بار پھر اشتہاری اداروں اور وزیر نے تقریباً چھ ارب روپے غبن کیے ۔ 

آگاہی مہم کے لئے حکومت سندھ نے یہ رقم مختص کی تھی جس کو ملزمان نے غبن کیا ۔ محکمہ اطلاعات سندھ میں کرپشن کے واقعات تواتر سے ہورہے ہیں ۔

یہ تو صرف ایک کیس ہے سندھ اور دوسرے صوبوں میں یہ شکایات عام ہیں کہ اخبارات کے حقوق وزیر ‘ سرکاری ملازمین ا ور اشتہاری کمپنیوں نے غصب کیے ہیں گزشتہ کئی سالوں سے ان کو ادائیگی نہیں ہوئی حالانکہ حکومت سندھ ان اشتہاری کمپنیوں کو ادائیگیاں کر چکی ہے مگر چھوٹے اور درمیانہ درجے کے اخبارات کو ادائیگی نہیں ہوئی ۔ 

معلوم ہوتا ہے کہ ساری رقم وزیر ‘ افسران اور اشتہاری کمپنیاں غبن کر چکی ہیں ۔ گزشتہ دنوں سی پی این ای کے کوئٹہ کے اجلاس میں درمیانے درجے کے سندھی روزنامہ کے ایڈیٹر نے دعویٰ کیا کہ ان کے اخبار کے ڈیڑھ کروڑ روپے حکومت سندھ پر واجب الادا ہیں اور کئی سالوں سے ان کو ادائیگی نہیں ہوئی ۔

اس سے قبل پنجاب حکومت کو اسی قسم کی شکایات کا سامنا کرنا پڑا ۔ پنجاب حکومت نے اربوں روپے اشتہارات کی مد میں ایک اشتہاری کمپنی کو سیاسی بنیادپر دئیے ۔

وہ اشتہارات نہیں چھپے ،اگر چھپے بھی توغلط بلنگ کے ذریعے حکومت پنجاب کے اربوں روپے اشتہاری کمپنی نے لوٹے ۔ کمپنی کا مالک مفرور رہا ، بعدازاں سیاسی دباؤ کی وجہ سے اشتہاری کمپنی کے مالک کو گرفتار نہ کیاجا سکا اور اس طرح سے معاملہ رفع دفع کردیاگیا ۔

پھر اسی کمپنی نے سندھ کا رخ کیا جس سے متعلق غلط بلنگ کی عام شکایات ہیں کہ کمپنی اشتہارات کی اسی فیصد رقم اپنے پاس رکھ لیتی ہے اور صرف بیس فیصد چھوٹے اخبارات کو دیتی ہے۔ ملک کے بڑے بڑے اخبارات کے ساتھ ایسی زیادتی کی توقع نہیں کی جاسکتی اس لیے ان کی حمایت حاصل ہونے کے بعد پنجاب اور سندھ میں قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ۔ 

تاہم چھوٹے اخبارات جن کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہے ان کو اشتہارات کی مد میں ایک معمولی رقم مل رہی ہے ۔ بعض اشتہاری کمپنیاں سرکاری افسران اور وزراء سے مل کر کم سے کم ادائیگی اخبارات کو کرتی ہیں باقی رقم آپس میں بانٹ دیتے ہیں۔ 

چونکہ بلوچستان ایک غریب صوبہ ہے اس کی ساری آمدنی صرف سرکاری ملازمین اور وزراء پر خرچ ہوتی ہے وہاں ایسی کوئی بڑی اشتہاری مہم نہیں چلائی گئی ۔