کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ خان زہری کی زیرصدارت بدھ کے روزیہاں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اورجاری پیشرفت کاجائزہ لیاگیا۔
مشیرقومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصرخان جنجوعہ نے خصوصی طورپر اجلاس میں شرکت کی،جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگ زیب حق، سیکرٹری داخلہ اکبرحریفال ،آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری اوردیگر متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو نیشنل ایکشن پلان میں صوبے سے متعلق شامل امور پرعملدرآمد اورپیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کی پیشرفت پر اطمینان کااظہارکیاگیا،تاہم سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں ،شدت پسندوں اورشرپسندوں ،ان کے سہولت کاروں اورمحفوظ ٹھکانوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے بجائے پیش قدمی کی حکمت عملی اختیا رکرتے ہوئے بھرپور کاروائی کی ہدایت کی گئی ۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ امن وامان کی غیرمعمولی صورتحال سے مؤثرطورپر نمٹنے کیلئے غیرمعمولی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے دہشت گرد عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا،اجلاس میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے علماء بورڈ کے جلدازجلدقیام کو یقینی بنانے کافیصلہ بھی کیاگیاجس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کی نمائندگی ہوگی۔
اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی دلچسپی اورہدایت کے تحت کاؤنٹرٹیراریزم فورس کا قیام عمل میں لایاگیا ہے جس میں اے ٹی ایف اورایلیٹ فورس کے دوہزاراہلکاروں کوپاک فوج کے تعاون سے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے جبکہ مزید ایک ہزاراہلکاروں کو تربیت فراہم کرکے جلد اس فورس میں شامل کرلیاجائے گا۔
اجلاس کو موٹرسائیکل سوارپولیس فورس کے قیام کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئیں اورفیصلہ کیاگیا کہ اس فورس کو صوبے کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹروں میں بھی قائم کیاجائے گا،اجلاس کو بلوچستان پولیس اورلیویز فورس کو متحرک فعال اورتربیت یافتہ بناکر اپنے پیروں پرکھڑاکرنے کیلئے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیاگیا۔
اجلاس کو پُرامن بلوچستان پالیسی پرعملدرآمد کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ابتک صوبائی حکومت کی جانب سے پروگرام پرعملدرآمد کرنے کیلئے 475ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ فوجی عدالتوں میں سماعت کیلئے دہشت گردی کے 16کیس صوبائی اپیکس کمیٹی کی منظوری کے بعد وزرات داخلہ کو ارسال کئے جائیں گے۔
اجلاس میں پولیس اوردیگر متعلقہ اداروں کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں دائر کیسوں کی بھرپورطریقے سے پیروی کرنے اورپراسیکیوشن کو مضبوط بنیادوں پر تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی اورعسکری قیادت اورسول اورعسکری اداروں کی مشترکہ کاؤشوں کی بدولت صوبے میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جسے ہرصورت برقراررکھاجائے گا اوردہشت گردوں کو پھر سے یکجاہونے اورسراٹھانے کا موقع نہیں دیاجائے گا۔
انہوں نے کہاکہ نام نہاد آزادی کی تحریک کوناکام بنادیاگیاہے اورپرُامن بلوچستان پالیسی کے تحت ہتھیاراٹھاکر پہاڑوں پر جانے والوں کی بڑی تعداد واپس آکر قومی دھارے میں شامل ہورہی ہے ،جبکہ بلوچستان کے عوام نے بھی اس تحریک کو سختی سے مسترد کردیاہے ۔
انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی ادارے مذہبی انتہاء پسندی اوردہشت گردی کا جرات مندی سے مقابلہ کررہے ہیں اورجانوں کی قربانیاں دیتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفرکردارتک پہنچارہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں سب سے بڑاچیلنج سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کی صورت میں درپیش ہے سیکیورٹی ادارے ایک دہشت گرد گروپ کا خاتمہ کرتے ہیں تو سرحد پار سے دیگر دہشت گرد آکر ان کی جگہ لے لیتے ہیں ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پولیس اورقانون نافذ کرنے والے دیگراداروں کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے دہشت گردوں کے سہولت کاروں اوران کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف بھرپورقوت سے کاروائیاں کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے مشیرقومی سلامتی جنرل (ر)ناصرخان جنجوعہ نے اینٹی ٹیراریزم فورس کے قیام سمیت نیشنل ایکشن پلان کی پیشرفت اوردہشت گردی کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن اورسیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں انہوں نے بہت اچھا وقت گذارا ہے اوراُن کا یہاں کے لوگوں کے ساتھ محبت اوراحترام کا مضبوط رشتہ قائم ہے ۔بلوچستان کی ترقی اورخوشحال کیلئے وہ اپناکرداراداکرنے کیلئے ہروقت تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کیلئے لائف لائن بننے جارہاہے بالخصوص سی پیک کی صورت میں بلوچستان پاکستان کومعاشی اقتصادی طورپر مستحکم کرنے کیلئے اپناکرداراداکرنے کو تیار ہے ۔
انہوں نے کہاکہ دشمن سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے سازشیں کررہے ہیں اوردہشت گردی کے ذریعے بد امنی پیداکرناچاہتے ہیں تاہم سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اورقوم بالخصوص بلوچستان کے محب وطن اورغیورعوام کی حمایت کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنادیاجائے گا۔