|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2017

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے ایک بار پھر حکم دیا ہے کہ صوبائی محکموں میں 28ہزار سے زائد خالی اسامیوں کو 31 دسمبرسے قبل پُر کیاجائے ،اور تمام پوسٹوں پرملازمین کی تعیناتی مکمل کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے احکامات کی حکم عدولی پر نو کر شاہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور وارننگ دی کہ 28ہزار پوسٹوں پر تعیناتی کا عمل نئے سال کے آغاز سے قبل مکمل کیاجائے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوام کو نئے سال کی خوشخبری اور مبارک باد 28ہزار ملازمین کی تعیناتی سے دینا چاہتے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔ وزیراعلیٰ کو اکثر یہ شکایت رہی ہے کہ نوکر شاہی خود سر ہوتا جارہا ہے اور اس کے احکامات کی حکم عدولی ایک عام بات ہے ۔اخبارات کے معاملے میں وزیراعلیٰ نے کئی احکامات دئیے لیکن متعلقہ حکام نے ان کو یکسر مسترد کردیا اور یہ تک کہہ دیا کہ وزیراعلیٰ عارضی ہیں اور ہماری نوکری پکی ہے ۔ 

شاید ان کی بات درست ہے کہ وہ حضرات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں گزشتہ بیس سالوں سے براجمان ہیں اور اب اس نے ایک مافیا کی شکل اختیار کرلی ہے۔ تاہم یہ چیف سیکرٹری کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی افسر تین سال سے زیادہ کسی پوسٹ پر کام نہ کرے، اس سے قبل کہ ان کے ناجائز مفادات پھیلنا شروع ہوجائیں ‘ عوامی مفاد میں ان کامحکمانہ نظم و نسق کے مطابق تبادلہ کیاجائے۔ 

چیف سیکرٹری انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسر ہیں یہ ان کی ثواب دید پر ہے کہ اچھے ‘ دیانت دار ‘محنتی اور اہل ترین افسران کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ کے مشورے سے تعینات کریں۔ جہاں تک عوام الناس کو روزگار فراہم کرنے کی بات ہے وزیراعلیٰ کا یہ عمل قابل ستائش ہے کہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کو ہزاروں کی تعداد میں ملازمتیں فراہم کریں۔ 

بلوچستان میں ہزاروں اسامیاں کافی عرصے سے خالی پڑی ہیں کیونکہ افسر شاہی نے ہمیشہ روڑے اٹکائے اور بھرتی کے عمل کو ناکام بنایا۔ جناب چھٹہ صاحب چیف سیکرٹری تھے تو ان کے زمانے میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بلوچستان میں 35ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں جن پر بھرتی کی ضرورت ہے، ان کو گئے طویل عرصہ گزر گیا مگر افسر شاہی نے بھرتیاں نہیں ہونے دیں۔۔۔ کیوں؟ ابھی تک اس کا جواب ذمہ دار افسر اعلیٰ نے نہیں دیا ۔

اب جب کہ وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے مصصم ارادہ کرلیا ہے کہ تمام خالی اسامیوں کو انہی کی حکومت کے دوران پُر کیا جائے گا تو سب سے زیادہ ضروری عمل یہ ہونا چائیے کہ ملازمتوں کی فراہمی کا عمل بالکل صاف اور شفاف ہونا چائیے کیونکہ گزشتہ حکومتیں ملازمتوں کی فروخت کے حوالے سے کافی بدنام رہی ہیں ۔ وزراء نے اپنے رشتہ داروں اور کارکنوں میں ملازمتیں تقسیم کیں ،اس طرح حقدار کا حق مارا گیا۔

ملازمتوں کی فروخت کے الزام میں ایک عالم دین وزیر کو قید کی سزا ہوئی، 2002کے بعد حکومت سازی کے لیے بارگیننگ کے نتیجے میں دونوں سزا یافتہ وزیروں کو پہلے رہاکیا گیا اوربعد میں اس پارٹی نے حکومت میں شمولیت اختیار کی ۔ بھرتیوں کا عمل نہ صرف صاف شفاف بلکہ ایماندارانہ ہونا چائیے ۔ اس میں ضلعی کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے اور تمام ملازمتیں چند ایک اضلاع کو دینے سے گریز کیا جائے ۔ 

زیادہ پسماندہ اضلاع کے درخواست گزاروں کو اولیت دی جائے کیونکہ ریاست پاکستان اور اس کی تمام سابق حکومتوں نے ان کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کی ہے، ان کو پسماندہ رکھا، ان کے اسکول کے طالب علم اور کوئٹہ اور اسلام آباد اور لاہور سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں فرق واضح ہے ۔

اس لیے میرٹ کی بنیاد ضلع اور پسماندگی ہو ۔ ان علاقوں کے افراد کو روزگار فراہم کرنے کے بعد ہی وہاں طرز زندگی میں ایک تبدیلی آسکتی ہے ۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ کوئٹہ مافیا کو ہزاروں ملازمتوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چائیے یہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلعی کوٹہ پر اس کے اسپرٹ کے مطابق عمل ہو۔