اسلام آباد: وزارت پانی و بجلی نے (آج) پیر سے5000 سے زائد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے ٗ10 فیصد لائن لاسز والے علاقوں میں 2 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو گی۔
ٗ 20 فیصد میں 4 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جائے گی صارفین لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ہمارا ساتھ دیں ٗ اپنے بجلی کے بل وقت پر دیں،ٗ میٹرز نصب کریں اور اپنے علاقے میں بجلی چوروں کی بھی نشاہدہی کریں۔
اتوار کویہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر پانی و بجلی اویس لغاری نے کہا کہ مجھے آج انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ساڑھے چار سال کی انتھک محنت اور جدوجہد سے نہ صرف ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کیا ہے بلکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر حقیقی معنوں میں گامزن کر دیا ہے۔
میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہمارے پاس سسٹم میں ہماری کُل طلب کے مقابلے میں 2700میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ میں چند اہم اعلانات کرنے سے پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب 2013 میں ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو ملک میں بجلی کی پیداوار، طلب اور رسد، اور لوڈشیڈنگ کی صورتحال کیا تھی۔ اور آج کے مقابلے میں 2013 میں ہم کہاں پر کھڑے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ دسمبر 2013 میں بجلی کی پیداوار 9279 میگاواٹ تھی جب کہ ملک میں بجلی کی طلب 11799 میگاواٹ تھی اور 2520 میگاواٹ بجلی کی کمی کی وجہ سے کم از کم 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شکار تھے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ دسمبر 2017میں ہم نے 7465 میگاواٹ کی سطح سے بڑھا کر 16477 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی ہے اور اس وقت طلب کے مقابلے میں 2727 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے۔
یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ 2218میگاواٹ 2013ء کے مقابلے میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باوجود اس وقت سسٹم میں یہ 2727میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے ۔
اویس لغاری نے کہاکہ میں آپکو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ بجلی پیدا کرنے والے بہت سے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اور ہم موسم گرما 2018 سے پہلے مزید تقریبا 4000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر دینگے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ 2017ء کے موسم گرما میں 24000 میگاواٹ طلب کے مقابلے میں ہمارے پاس سسٹم میں 20000 میگاواٹ ریکارڈ بجلی پیدا ہوئی۔
جبکہ جاری منصوبوں کے مکمل ہوتے ہی یہ پیداوار 25000 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی چونکہ ہمارے پاس اس وقت طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے تو ہم ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے مندرجہ ذیل 7مختلف قسم کے بجلی کے فیڈرز ہیں جن پر نقصانات اور چوری کی شرح کے تناسب سے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے
وفاقی وزیر نے کہاکہ اگرچہ ہمارے سسٹم میں اضافی بجلی موجود ہے تاہم نقصانات اور چوری کے عوامل کی وجہ سے ہم زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر باامر مجبوری لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہیں ۔
یہاں یہ میں واضح کرتا چلوں کہ جونہی ان فیڈرز پر نقصانات ایک خاص فیصد میں آتے جائینگے ہم لوڈشیڈنگ بتدریج ختم کرتے جائینگے،ہمارا یہ بھی مقصد ہے کہ صارفین میں بروقت بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بجلی چوری روکنے کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ تمام صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی جاسکے۔
اس ضمن میں میں صارفین سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارا ساتھ دیں بروقت بل اداکریں اور بجلی چوروں کیخلاف یکجاں ہو کر ہمارا ساتھ دیں تاکہ ان کے علاقوں میں بھی بجلی کی بلاتعطل فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔
وفاقی و زیر نے کہا کہ یہ واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ملک میں اضافی بجلی کے باوجود، بجلی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی، بد انتظامی اور دیگر غیر قانونی عوامل کی وجہ سے ہمیں لاسسز اٹھانے پڑ رہے ہیں اور جن فیڈرز میں لاسسز زیادہ ہیں وہاں پرہمیں لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ بجلی چوری سے اور لائین لاسسز سے بچنے کیلئے نہ صرف ہم ڈیسکوز کی سطح پر سخت فیصلے لے رہے ہیں بلکہ صارفین کو بھی بجلی چوری جیسے عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔
اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں چار دسمبر سے5297 فیڈرز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں جسکے نتیجے میں کم از کم 14.915 ملین صارفین کو چار دسمبر رات 12بجے کے بعد لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیا جائیگا۔ اس ضمن میں دیہات و شہر کی تفریق بھی ختم کر دی گئی ہے۔
اویس لغاری نے کہ اکہ ملک بھر میں اس وقت 2700 میگا واٹ سے ذائد بجلی سسٹم میں موجو د ہے جسکے نتیجے میں ان تمام فیڈرز سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں لائن لاسز نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 4 دسمبر سے لیسکو کے 1227، گیپکو کے 748فیڈرز، فیسکوکے 896 ، حیسکو کے 204 فیڈرز، سیپکو کے 24 فیڈرز، کیسکوکے 61 فیڈرز، آئیسکو کے 710 فیڈرز، میپکو کے 763 فیڈرز، پیسکوز کے 309 فیڈرز ، اور ٹیسکوز کے 29 فیڈ رز بغیر کسی تعطل کے بجلی فراہم کریں گے۔
اویس لغاری نے کہاکہ یہ اعلان موجود حکومت کے کیے جانے والے اس وعدے کی کڑی ہے جس میں ہم نے نہ صرف لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کا عزم کیا تھا بلکہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں کا ذکر بھی کیا تھا۔
موجو دہ حکومت نے نہ صرف بجلی کی پیداوار کے بہت سے منصوبوں کو تکمیل کیا ہے بلکہ بہت سے منصوبے اس وقت بھی زیر غور ہیں جس سے سسٹم میں بجلی کے اضافہ میں مد د ملے گی ۔
اس وقت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں جن سے 2018 کے موسم گرما تک 4000 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔
ان منصوبوں کے تحت ہم ملک بھر میں 24000 میگاو اٹ بجلی کی طلب کے نتیجے میں 2000 میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ جن علاقوں میں بجلی چوری کے نتیجے میں خسارے کا تناسب 10 فیصد سے زائد ہے وہاں پر ڈیسکوز لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کا تعین خسارے کے تناسب سے کر ے گا۔
لیکن ان علاقوں کے صارفین اپنے علاقوں کے گرڈ سٹیشنز سے خسارے کا بوجھ کم کرنے کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے ساتھ تعاون کرکے اپنے علاقے میں ہونے والے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم یا مکمل ختم کروانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ الحمد اللہ ہم اس قابل ہو چکے ہیں کہ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر سکیں لیکن ایسے تمام علاقے جہاں بجلی چوری کی جاتی ہے وہاں سسٹم میں زائد بجلی ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
جس کے لیے ڈیسکوز وہ تمام ضروری اقدامات کرے گا اور قوانین کو لاگو کروائے گا جسکی مدد سے ہمیں اپنا ہدف پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہدایت جاریکر دی گئی ہے کہ وہ خصوصی اجلاس بلائیں او ر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے او ربجلی چوری سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔
ان علاقوں میں بجلی چوری کی روک تھام کرنے اور اعلی کارگردگی کا مظا ہر ہ کرنے پر ان تمام اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
ہم اپنے صارفین سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے وہ ہمارا ساتھ دیں ، اپنے بجلی کے بل وقت پر دیں، بجلی کے میٹرز نصب کریں اور اپنے علاقے میں بجلی چوروں کی بھی نشاہدہی کریں۔ تاکہ ہم اپنے ملک کو لوڈ شیڈنگ سے پاک ملک بنا سکیں۔